عالمی کرکٹ کپ،مےدان سج گےا،شاہےن بھی تےار

عالمی کرکٹ کپ،مےدان سج گےا،شاہےن بھی تےار

  

12 واں کرکٹ ورلڈ کپ کی میزبانی انگلینڈ اور ویلز کررہا ہے ایونٹ کے میچز 30 مئی سے 14 جولائی تک کھیلے جائیں گے ۔ ایونٹ کا پہلامیچ انگلینڈ کے تاریخی کرکٹ گراﺅنڈ اوول میں کھیلا جائےگا جبکہ ایونٹ کافائنل میچ لارڈز کرکٹ گراﺅنڈ کی زینت بنے گا ۔ یہ پانچواں موقع ہے انگلینڈ کرکٹ ورلڈ کپ کی میزبانی کاشرف حاصل کررہا ہے اور اب تک مجموعی طور پر بھی انگلینڈ نے سب سے زیادہ مرتبہ ورلڈ کپ کی میزبانی کی ہے ۔ورلڈ کپ میں 10 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، ایونٹ 33 دن پر مشتمل ہوگا، 48 میچز کھیلے جائیں گے۔ 1992 کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ ورلڈ کپ لیگ کی بنیاد پر منعقد ہوگا اور تمام دس ٹیمیں 9،9 میچز کھیلیں گی اور چار سرفہرست ٹیمیں سیمی فائنل میں مد مقابل ہوں گی۔ ایونٹ میں شریک ٹیموں میں میزبان انگلینڈ، جنوبی افریقہ، بھارت،آسٹریلیا،نیوزی لینڈ، پاکستان،بنگلہ دیش، سری لنکا، افغانستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں شامل ہیں ۔ایونٹ کا پہلا میچ 30 مئی کو میزبان ملک انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جائے گا ۔ ورلڈ کپ 2019 کے میچز کا انعقاد گیارہ مقامات پر ہوں گے جن کے لئے تیاریاںمکمل کرلی گئیں ہیں امپائرز کی فہرست کی بات کی جائے تو ان میں پاکستان کے علیم ڈار، کمارادھرماسینا، مارلس اریسیما، کرکس جیفری،مائیکل گف، آئن گولڈ، رچرڈ الیگونسن، رچرڈکیوبورگ، نیگل لیونگ،بروس اونکسفرڈ، پال ریفل، روڈ ٹیکر، جوئل ولسن اور پال ولسن شامل ہیں یہ امپائر ورلڈ کپ کے میچز میں امپائرنگ کے فرائض سر انجام دیں گے جن کا تعلق مختلف ممالک سے ہے اسی طرح سے اس ایونٹ کے لئے آئی سی سی نے میچ ریفریز کے ناموں کا بھی اعلان کردیا ہے اس ورلڈ کپ کے لئے کوئی بھی ٹیم جیت کے لئے فیورٹ نہیں ہے مگر شائقین کرکٹ اپنی اپنی ٹیموں کو سپورٹ کررہے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ اس مرتبہ کون سی ٹیم کامیابی حاصل کرتی ہے۔جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ آسان ٹورنامنٹ نہیں لیکن انگلش کنڈیشنز ہمارے فاسٹ بولروں کو مدد دیتی ہیں۔ حالیہ پاک انگلینڈ سیریز سے ٹیم کو بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے، ٹیم ورلڈ کپ میں کسی بھی ٹیم کو شکست دینے کے لیے تیار ہے۔ جیت کے لیے پرعزم ہیں، گرین شرٹس میں بہترین بولنگ، بیٹنگ، فیلڈنگ کی صلاحیت ہے۔ 92میں مشکلات کے باوجود فتح ملی، حالیہ سیریز کے بعد فیلڈنگ سمیت دیگر کوتاہیوں پر قابو پالیا گیا ہے۔ فاسٹ بولر وہاب ریاض کو ان کی تجربہ کی وجہ سے ٹیم کا حصہ بنایا، ہمارا ورلڈ کپ کا ریکارڈ بہت اچھا ہے،1992میں عالمی چیمپئن بنے۔ دو سال پہلے انگلینڈ میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیتی اس بار ایک اور معرکہ سر کر نے آئے ہیں۔ بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے کہا کہ ٹورنامنٹ میں سب سے بڑا نکتہ پریشر کا ہوگا وہی ٹیم فاتح بنے گی جس دباﺅ برداشت کرے گی۔ ٹورنامنٹ کے دوسرے حصہ میں پچیں تبدیل ہوجائیںگی 280رنز بنانے والی ٹیم فاتح بنے گی۔ انگلینڈ کی ٹیم متوازن اور ورلڈکپ جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ورلڈ کپ میں کوئی بھی میچ آسان نہیں ہوگا۔ پاکستان سے دو طرفہ کرکٹ روابط کے بارے میں کوہلی نے کہا کہ یہ فیصلہ بورڈ نے کرنا ہے۔ اس میں میری رائے کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔میزبان ملک انگلینڈ کے کپتان اوئن مورگن نے کہا ہے کہ ٹائٹل جیتنے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔ ماضی میں ورلڈ کپ نہ جیتنے کا کوئی دکھ نہیں ہے لیکن اس بار یہ ورلڈکپ اپنے نام کرینگے۔ اس وقت ہم نمبر ایک ہیں۔ پاکستان کو ون ڈے سیریز ہرا کر ورلڈ کپ جیتنے کے لیے پرامید ہیں، انہوں نے پاکستان کی شاندار کارکردگی کو بھی سراہا۔ 2015میں ایڈیلیڈ میں بنگلہ دیش سے ہارنے کے بعد انگلش ٹیم کوارٹر فائنل کی ریس سے باہر ہوگئی تھی۔ آسٹریلیا کے ایرون فنچ نے کہا کہ پچز بیٹنگ کے لئے ساز گار ہوں گی اور ہائی اسکورنگ میچ ہوں گے۔ کرکٹ کے عالمی کپ کے مقابلے دنیا کے 200 ملکوں اور خطوں میں ٹی وی، ریڈیو اور ڈیجٹل پلیٹ فارم پر براہ راست نشر کیے جانے کے علاوہ اس بار پہلی مرتبہ بھارت، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں سینما گھروں میں بھی دکھائیں جائیں گے۔ بھارت، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں لائیو میچ سینما گھروں میں دکھانے کے لیے سنی پلیکس کو حقوق دے دیئے گئے ہیں۔اس کے علاوہ چند میچ بھارت میں انوکس، متحدہ عرب امارات میں نوا اور ریل اور بحرین میں نوا پر دکھائے جائیں گے۔آئی سی سی کے نشریاتی حقوق رکھنے والے عالمی نشریاتی ادارے سٹار سپورٹس نے مختلف ملکوں کے 25نشریاتی اداروں کو عالمی کپ نشر کرنے کے حقوق دئیے ہیں اور پاکستان میں حسب معمول یہ حقوق پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل (پی ٹی وی)اور نجی ٹی وی چینل ٹین سپورٹس کے پاس ہیں۔عالمی کپ کے میچوں کی کمنٹری کیلئے سٹار سپورٹس نے دنیا کے پچاس بہترین کرکٹ مبصروں کی خدمات بھی حاصل کی ہیں جو مختلف زبانوں میں کمنٹری اور ماہرانہ تبصرے پیش کریں گے۔انڈیا میں سات علاقائی زبانوں میں کمنٹری نشر کی جائے گی ان میں ہندی، تامل، تلیگو، کناڈا، بنگلہ اور مراٹھی شامل ہیں۔کینیڈا میں ولو ٹی وی عالمی کپ کے مقابلوں سے قبل ایک نیا چینل شروع کرنے والا ہے جس پر تمام میچ دکھائیں جائیں گے۔انڈیا میں ایک اندازے کے مطاق 30 کروڑ افراد یہ میچ سٹار سپورٹس کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم 'ہاٹ سپورٹس' پر لائیو سٹریمنگ کے ذریعے بھی میچ دیکھ پائیں گے۔کرکٹ کے شائقین کو ان میچوں کے بارے میں چلتے پھرتے لمحہ بہ لمحہ آگاہ کرنے کے لیے دو سو ملکوں میں 12 ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ہر میچ کے ہر گھنٹے کی چھ منٹ کی کوریج بھی دستیاب ہو گی۔ پاکستان میں یہ ڈیجیٹل کپ دکھانے کے حقوق 'کرک ان گف نے حاصل کیے ہیں۔ جبکہپاکستان کر کٹ بورڈکے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے آئی سی سی ورلڈ کپ کےلئے 15رکنی حتمی قومی کرکٹ ٹیم کا اعلان کردیا ہے۔جنید خان،فہیم اشرف اور عابد علی کی جگہ قومی ٹیم میں محمد عامر، آصف علی اور وہاب ریاض کی واپسی ہوئی ہے۔ قومی ٹیم میں محمد عامر، آصف علی اور وہاب ریاض کی واپسی ہوئی ہے جب کہ لیگ اسپنر شاداب خان پہلے سے ورلڈ کپ اسکواڈ پلان کا حصہ ہیں۔لیگ اسپنر شاداب خان کو ورلڈ کپ کے اعلان کردہ ابتدائی اسکواڈ میں شامل کیا گیا تھا تاہم ہیپاٹائٹس کی تشخیص ہونے کی وجہ سے وہ انگلینڈ کے خلاف سیریز نہیں کھیل سکے، ان کی جگہ یاسر شاہ نے پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔ورلڈ کپ اسکواڈ میں سرفرازاحمد، فخر زمان، امام الحق، محمد حفیظ، حارث سہیل، بابراعظم، آصف علی،شعیب ملک، حسن علی، عماد وسیم، محمد عامر، شاداب خان، وہاب ریاض، شاہین آفریدی اور محمد حسنین شامل ہیں۔انضمام الحق نے کہا کہ محمد عامر کا نام پہلے اعلان کردہ ٹیم میں نہیں تھا تاہم وہ سینئر بولر ہیں اور انہیں انگلینڈ میں کھیلنے کا وسیع تجربہ ہے، ان کا اکانومی ریٹ اچھا ہے۔چیف سلیکٹر نے وہاب ریاض کو ٹیم میں شامل کرنے سے متعلق سوال پر کہا کہ وہاب ریاض کو انگلینڈ میں گیند کرنے کا بہت تجربہ ہے، انہیں شامل کر نے کا مقصد یہ ہے کہ وہ ریورس سوئنگ اچھی کرتے ہیں، ہمیں لگا کہ ٹیم کو وہاب ریاض کی ضرورت ہے۔انضمام الحق نے کہا کہ محمد عامر اور وہاب ریاض کی شکل میں تجربے کا اضافہ ہوگا۔ انضمام الحق کا کہنا تھا کہ عابد علی کو باہر کرنا اتنا آسان نہیں تھا، آصف علی کو پاور ہٹنگ کی وجہ سے عابد علی پر فوقیت دی گئی ہے۔چیف سلیکٹر نے کہا کہ آصف علی نے انگلینڈ میں اچھی بیٹنگ کی اور انگلینڈ کی پچز اور کنڈیشن جو نظر آرہی اس میں چھٹے یا ساتویں نمبر پر ایسا کھلاڑی ضرور ہونا چاہیے جو رنز کرسکے۔انضمام الحق نے کہا کہ وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان، عابد علی اور فہیم اشرف انگلینڈ میں ہی رہیں گے جنہیں بیک اپ کے طور پر انگلینڈ میں رکھا گیا ہے۔ چیف سلیکٹر انضمام الحق نے کہا ہے کہ محمد عامر اور وہاب ریاض کو تجربے کی وجہ سے منتخب کیا گیا ہے۔ شاداب خان 100فیصد فٹ ہوگئے، تبدیلیاں ٹیم کی ضرورت کو پیش نظر کیں، جسکے لئے کپتان اور کوچ سے مشاورت بھی کی، محمد حفیظ اور حارث سہیل تیسرے اوپنر ہوسکتے ہیں۔9میچ ہارے لیکن ٹیم فائیٹ کرتی نظر آئی، آسٹریلیا کیخلاف سیریز آزمائشی اور کئی اہم کھلاڑی نہیں کھیل رہے تھے، وہاب ریاض کے بارے میں یو ٹرن نہیں لیا، انگلش کنڈیشنز میں ان کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے فیصلہ کیا، بیٹنگ کے بارے میں کوئی پریشانی نہیں، شعیب ملک اور محمد حفیظ کی صلاحیتوں پر بھروسہ ہے ۔جبکہ ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں نے نئی کٹ میں ورلڈ کپ کے حوالے سے گفتگو کی انہوں نے کرکٹ ورلڈ کپ کے لئے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔پاکستان ٹیم کی قیادت کرنے والے سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ ایک ایسا ایونٹ ہے جہاں سے لوگ ہیروز بنتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ قومی ٹیم کی بھرپور کوشش ہوگی کہ ملک کے لئے اچھی کارکردگی پیش کریں تاکہ لوگ اچھے لفظوں میں یاد رکھیں۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے سینئر آل راونڈر شعیب ملک نے نئی کٹ کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی کٹ پہننے سے فخر محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ورلڈ کپ میں ملک کے لئے بہترین پرفارم کروں گا۔آل راونڈر محمد حفیظ نے کہا کہ ورلڈ کپ کھیلنا میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے اپنے کیرئیر میں ورلڈکپ جیتنے کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی ہے۔ اس بار ہم سب مل کر ورلڈ کپ جیتنے کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔انڈر 19کرکٹ ورلڈ کپ کھیلنے کے مختصر عرصے میں کرکٹ ٹیم میں شمولیت اختیار کرنے والے شاہین آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ ورلڈ کپ میں شامل ہونے پر فخر محسوس کررہے ہیں۔پی ایس ایل سے شہرت پانے والے محمد حسنین کا کہنا تھا کہ میری بھرپور کوشش ہوگی کہ پی ایس ایل جیسی بہترین کارکردگی پیش کر سکوں۔دو بار انڈر 19ورلڈ کپ کھیلنے والے امام الحق کا کہنا تھا کہ کرکٹ ورلڈ کپ 2019میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے میچ میں میری کوشش ہوگی کہ ورلڈ کپ کا آغاز سنچری سےکروں۔بیٹسمین بابر اعظم کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کھیلنے کی بہت زیادہ خوشی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ا ن کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اچھے سے اچھا پرفارم کریں۔لیگ اسپنر شاداب خان کا کہنا ہے کہ چیمپئنز ٹرافی جیتنے پر عوام نے بہت سپورٹ کیا تھا ، بہت زیادہ خوشی ہوئی تھی۔نوجوان بولر حسن علی کا کہنا تھا کہ مجھے بہت فخر ہورہا ہے کہ میں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی شرٹ پہنی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ میں کرکٹ ورلڈ کپ میں ایسی پرفارمنس دوں جس سے پاکستان ورلڈ کپ جیت سکے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -