معاشی روڈ میپ کا اعلان، آئی ایم ایف پروگرام پر شرح سود 3.2فیصد ہو گی معاہدہ منظر عام پر نہیں لا سکتے، اخراجات میں کمی کیلئے حکومت اور فوج ایک پیچ پر ہیں: مشیر خزانہ 

معاشی روڈ میپ کا اعلان، آئی ایم ایف پروگرام پر شرح سود 3.2فیصد ہو گی معاہدہ ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں)مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے آئندہ ایک سال کیلئے معاشی روڈمیپ کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری تک معاہدہ منظر عام پر نہیں لا سکتے، آئندہ چند ہفتوں میں آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری ہو جائے گی اور پروگرام پر عمل شروع ہو جائے گا،حکومت نے ا ب تک 4ارب ڈالر مالیاتی خسارہ کم کیا، اب ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے 2سے 3ارب ڈالر اضافی قرضہ منصوبوں کیلئے لے سکیں گے، بجٹ میں ایسے فیصلے لیں گے جو ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالیں گے، 1.2 ارب ڈالر اسلامی ترقیاتی بینک سے موخر ادائیگیوں کی سہولت حاصل کریں گے، اثاثہ ظاہر کرنے والی سکیم بڑی آسان ہے،اس کا مقصد ٹیکس نیٹ بڑھانا ہے، 30 جون کے بعد اس سکیم میں حصہ نہ لینے والوں بے نامی اثاثہ رکھنے والوں کے خلاف کاروائی ہو گی، معیشت میں استحکام  اور اعتماد آ رہا ہے، سٹاک مارکیٹ میں 7فیصد اضافہ ہوا ہے، عالمی اداروں کے مثبت تبصرے آنا شروع ہو رہے ہیں، حکومت کے اخراجات کم کریں گے، بجلی کے شعبہ میں دسمبر 2020تک گردشی قرضہ زیروکیا جائے گا، ریکوری بڑھائی جائے گی، ترقی کیلئے ریونیو کو بڑھانا ہے۔4.8ٹریلین کا ہدف ایف بی آر کو محصولات کا  رکھا ہے، امیر طبقہ کو اپنا کر دار ادا کرنا ہو گا ورنہ ہمارے بس میں نہیں ہو گا کہ قرض واپس کر سکیں اور غریبوں کو ریلیف دے سکیں، صرف 20لاکھ  لوگ ٹیکس دیتے ہیں، 350 کمپنیاں پاکستان کا 85فیصد ٹیکس دیتے ہیں، جو ٹیکس نہیں دے رہے ان پر بوجھ ڈالا جائے،کمزور طبقہ کیلئے سرکار سے سبسڈی دے کر حفاظت کریں گے، 216 ارب بجٹ میں غریب طبقہ کو تحفظ دینے کیلئے رکھ رہے ہیں، بجلی اور گیس کے بلوں میں تحفظ دیں گے، احساس پروگرام اور غربت کے خاتمہ کے پروگرام کیلئے بجٹ کو بڑھا کر 180 ارب کیا جا رہا ہے، کم ترقی یافتہ علاقوں کو مساوی  ترقی دیں گے،خوراک کی سبڈی کیلئے 30ارب رکھے جا رہے ہیں، کامیاب جوان پروگرام  کے تحت 100 ارب مختص رکھے جا رہے ہیں، تا کہ ملازمتیں پیدا ہوں، زرعی شعبہ کی گروتھ کی ترقی کیلئے 250ارب  پروگرام رکھا جا رہا ہے، مینو فیکچرنگ کے شعبہ کو ترقی دیں گے، نجی شعبہ کی کمپنیوں کو گریجوایٹس کو ملازمتیں فراہم کرنے کیلئے ٹیکس مراعات دیں گے، پی ایس ڈی پی کو بڑھا رہے ہیں، 925ارب کا پی ایس ڈی پی کیلئے مختص کر رہے ہیں، مشکل وقت ختم ہو نے سے 6سے 12ماہ میں معاشی استحکام حاصل کریں گے، اس کے بعد ریکوری اور گروتھ کی طرف جائیں گے۔ہفتہ کو اسلام آباد میں وزیر منصوبہ بندی و ترقی مخدوم خسرو بختیار، وزیر توانائی عمر ایوب، معاون خصو صی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان،وزیر مملکت برائے ریونیوحماد اظہر،چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی و دیگر اعلی حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا جب حکومت آئی تو اس وقت پاکستان کا کل قرضہ 31ہزار ارب ہو چکا تھا، غیر ملکی قرضہ 100ارب ڈالر ہو چکا ہے، زر مبادلہ کے ذخائر 10ارب ڈالر سے کم تھے، برآمدات کی گروتھ صفر تھی، مالیاتی خسارہ 20ارب ڈالر تھا، 2.3کھرب اخراجات سے زیادہ خرچ کر رہے تھے، گروتھ میں کمی آرہی تھی اور مہنگائی کم ہو رہی تھی، گروتھ 5فیصد تھی لیکن جب حکومت آئی تو یہ کم ہو رہی تھی، 9.2ارب ڈالر دوست ممالک چین،سعودی عرب اور یو اے ای سے لئے، امپورٹ کم کی گئی، 2ارب ڈالر امپورٹ کم کی گئی، ترسیلات زر 2ارب ڈالر بڑھائے، 4ارب ڈالر خسارہ کم کیا، گردشی قرضہ 1200 ارب سے نیچے لایا، حالات کو بگڑنے سے روکا، گیا، آئندہ چند ہفتوں میں نئے روڈ میپ پر عمل کریں گے، بجٹ اور اس کے بعد اہم معاشی فیصلے کریں گے، آئندہ چند ہفتوں میں آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری ہو جائے گی اور پروگرام فعال ہو جائے گا، پاکستان میں بے نامی قانون کے تحت اثاثوں کو ملکی معیشت میں لانے کیلئے سکیم پر عمل کررہے ہیں، سعودی عرب سے 3.2ارب ڈالر آئل کی موخر ادائیگیوں کی سہولت لی ہے، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے 2سے 3ارب ڈالر اضافی قرضہ منصوبوں کیلئے لے سکیں گے، بجٹ میں ایسے فیصلے لیں گے جو ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالیں گے، 1.2 ارب ڈالر اسلامی ترقیاتی بینک سے موخر ادائیگیوں کی سہولت حاصل کریں گے، آئی ایم ایف رکن مماالک کو معاشی مسائل کے حل کیلئے بنایا گیا ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، 6 ارب ڈالر کا پروگرام لیا ہے، جس کی شرح سود3.2فیصد ہو گی، اس سے دوسرے ادارے میں پاکستان میں فنانسنگ کی طرف مائل ہوں گے، سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری آئے گی، اثاثہ ظاہر کرنے والی سکیم بڑی آسان ہے۔اس کا مقصد ٹیکس نیٹ بڑھانا ہے، 30 جون کے بعد اس سکیم میں حصہ نہ لینے والوں بے نامی اثاثہ رکھنے والوں کے خلاف کاروائی ہو گی، معیشت میں استحکام آ رہا ہے اور اعتماد آ رہا ہے، سٹاک مارکیٹ میں 7فیصد اضافہ ہوا ہے، عالمی اداروں کے مثبت تبصرے آنا شروع ہو رہے ہیں، آئندہ سال معیشت کو مستحکم کرنے کا سال ہو گا، معیشت کو ایک پائیدار بنیاد پر استوار کیا جائے گا تا کہ ترقی کے سفر کو بڑھایا جائے، اخراجات کم کریں گے، بجلی کے شعبہ میں دسمبر 2020ء تک گردشی قرضہ زیروکیا جائے گا، ریکوری بڑھائی جائے گی، ترقی کیلئے ریونیو کو بڑھانا ہے، 4.8ٹریلین کا ہدف ایف بی آر کو محصولات کا دیں گے، امیر طبقہ کو اپنا کر دار ادا کرنا ہو گا ورنہ ہمارے بس میں نہیں ہو گا کہ قرض واپس کر سکیں اور غریبوں کو ریلیف دے سکیں، صرف 20لاکھ ٹیکس دیتے ہیں جن میں سے 6لاکھ تنخواہ دار ملازمین ہیں، 350 کمپنیاں پاکستان کا 85فیصد ٹیکس دیتے ہیں، 20فیصد لوگ پورے ملک کا ٹیکس دے رہے ہیں، ان پر اضافی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا، کوشش ہے جو ٹیکس نہیں دے رہے ان پر بوجھ ڈالا جائے، نیا ڈیٹا جمع کررہے ہیں،بجلی  اور گیس کے  3 لاکھ 40 ہزارصنعتی  صارفین سے 40ہزار رجسٹرڈ ہیں ٹیکس دیتے ہیں، 5کروڑ کروڑ بینک اکاؤنٹس ہیں، ایک بینک کے ڈیٹا کے لگ 40لاکھ میں سے 4لاکھ لوگ ٹیکس دے رہے ہیں، 28ملکوں سے ڈیٹا حاصل کیاہے، تقریباً ڈیڑھ لاکھ لوگ ہیں، ایک لاکھ کمپنیوں میں سے صرف آدھی ٹیکس دے رہی ہیں، ان سے ٹیکس لیں گے، مالی استحکام روڈ میپ کا ستون ہے، مہنگائی پر عوام کو تشویش ہے، آئل کی قیمت عالمی مارکیٹ میں بڑھ کر 70ارب ڈالر ہو گئی ہے، اس سے مہنگائی بڑھتی ہے،کمزور طبقہ کیلئے سرکار سے سبسڈی دے کر حفاظت کریں گے، خوراک کی مہنگائی 3.8فیصد ہے اس کی نگرانی کریں گے، مانیٹری پالیسی کو مہنگائی کو روکنے کیلئے استعمال کر رہے ہیں، 216 ارب بجٹ میں غریب طبقہ کو تحفظ دینے کیلئے رکھ رہے ہیں، بجلی اور گیس کے بلوں میں تحفظ دیں گے، احساس پروگرام اور غربت کے خاتمہ کے پروگرام کیلئے بجٹ کو بڑھا کر 180 ارب کیا جا رہا ہے، کم ترقی یافتہ علاقوں کو ترقی دیں گے۔فاٹا کیلئے  آئندہ بجٹ میں اضافی  فنڈزدیں گے، فاٹا 6ارب بجلی دی ہے، خوراک کی سبڈی کیلئے 30ارب رکھے جا رہے ہیں،ملازمتیں فراہم کرنے کیلئے معیشت کا گروتھ ریٹ اتنا نہیں ہے، ہائی گروتھ پر جانے کیلئے کوشش کریں گے، استحکام کا دورانیہ جلد مکمل کریں، 2008سے 2013تک 69لاکھ ملازمین پیدا کیں، 2013 سے 2018 تک گروتھ ریٹ زیادہ تھی،  ملازمتیں 57 لاکھ ہو گئیں، ہاؤسنگ سکیم کیلئے کئی شہروں میں زمین ریکور کر لی ہے، مالی انتظامات کئے جا رہے ہیں، اس پر عمل سے ملازمتیں پیدا ہوں گی، کامیاب جوان پروگرام  کے تحت 100 ارب مختص رکھے جا رہے ہیں، تا کہ ملازمتیں پیدا ہوں، زرعی شعبہ میں کمی آئی ہے، زرعی شعبہ کی گروتھ کی ترقی کیلئے 250ارب  پروگرام رکھا جا رہا ہے، مینو فیکچرنگ کے شعبہ کو ترقی دیں گے، نجی شعبہ کو ملازمتیں پیدا کرنے کیلئے مراعات دے دیں گے، کمپنیوں کو گریجوایٹس کو ملازمتیں فراہم کرنے کیلئے ٹیکس مراعات دیں گے، پی ایس ڈی پی کو بڑھا رہے ہیں، 925ارب کا پی ایس ڈی پی کیلئے مختص کر رہے ہیں، نجی شعبہ کے تعاون سے سڑکوں کے منصوبے مکمل کرلیں گے، پرائیویٹ پبلک سیکٹر کے ادارے کو مضبوط بنائیں گے، چین اور ترکی کے ساتھ برآمدات بڑھانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، صوبوں کے ریونیو میں بھی اضافہ ہو گا، صوبوں سے رابطہ رکھیں گے، رقم بہتر انداز میں خرچ ہوں گی، مشکل وقت ختم ہو نے سے 6سے 12ماہ میں معاشی استحکام حاصل کریں گے، اس کے بعد ریکوری اور گروتھ کی طرف جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں حفیظ شیخ  نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے تنقید کرنے والے تفصیلات سے لاعلم ہیں، پروگرام میں کوئی ایسی چیز نہیں کہ آئی ایم ایف پر چڑھائی کریں، یہ اصلاحات کا پیکج ہے۔چیئر مین ایف بی آر شبر زیدی کا کہنا تھا کہ بے نامی ایکٹ کے تحت اثاثے ضبط اور سزا ہو سکتی ہے۔ یکم جولائی کے بعد بے نامی اثاثوں کے خلاف ایکشن ہو گا۔ بینک اکاؤنٹ منجمد کرنے سے 24 گھنٹے پہلے آگاہ کیا جائے گا۔شبر زیدی کا کہنا تھا کہ ٹیکس اکٹھا کرنے کیلئے کسی کو ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ کاروباری افراد کا ڈیٹا اکٹھا کر رہے ہیں۔ ہمارا بنیادی فلسفہ کاروباری افراد کا اعتماد ہر حال میں بحال کرنا ہے، کاروباری طبقے کو ٹیکس ادائیگی کیلئے سہولیات دیں گے۔وفاقی وزیر عمر ایوب خان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے الیکشن جیتنے کیلئے بجلی بل نہ بھرنے والوں کو بھی بجلی دی۔ تیل کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر روکے رکھا گیا۔ سابق حکومت نے پاور سیکٹر، پلاننگ اور معیشت کیلئے ہمارے آگے بارودی سرنگیں بچھائیں۔ ہم انہیں آہستہ آہستہ ختم کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ کی نااہلی سے گردشی قرضہ 450 ارب روپے تک پہنچا۔ بلوں کی وصولی میں آٹھ ماہ کے دوران 81 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آج 80 فیصد علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم ہو چکی ہے۔ نپیرا نے 3.84 روپے فی یونٹ بجلی مہنگی کی درخواست دی۔ بلوچستان میں 2000 میگا واٹ کے منصوبوں کیلئے بات چیت چل رہی ہے۔

حفیظ شیخ

مزید :

صفحہ اول -