سپورٹ راﺅنڈاپ

سپورٹ راﺅنڈاپ

  

52برس ناقابل شکست رہنے والے گاما پہلوان کو دنیا سے بچھڑے 59برس بیت گئے

گاما پہلوان کو دنیا سے بچھڑے 59برس بیت گئے۔غلام حسین المعروف گاما پہلوان 22مئی 1878کو بھارتی شہر امرتسر میں پیدا ہوئے، صرف 10برس کی عمر میں نامی گرامی پہلوانوں کو چت کر کے ہندوستان بھر میں شہرت کے جھنڈے گاڑے، 17سال کی عمر میں 7 فٹ قد کے حامل رستم ہند رحیم بخش سلطانی والا کے ساتھ جوڑ پڑا، مقابلہ کئی گھنٹے تک جاری رہا، فیصلہ نہ ہونے پر دونوں پہلوانوں کو فاتح قرار دے دیا گیا، ہندستان کے بعد دنیا بھر میں فن پہلوانی میں نام کمانے کے لئے 1910میں لندن میں دنیا بھر کے پہلوان کو چیلنج کیا اور زیبسکو کو ہرا کر رستم زمان کا ٹائٹل اپنے نام کیا اور سونے کی بیلٹ کے حقدار بھی قرار پائے۔وطن واپسی پر ایک بار پھر رحیم بخش سلطانی والا کے ساتھ جوڑ پڑا اور اس بار رحیم بخش کو ہرا کر رستم ہند کا تاج سر پر سجایا۔ گاما پہلوان نے 1910میں انگلینڈ میں زوبیسکو کو شکست دے کر رستم زمان کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا، ان کا یہ اعزاز 109برس گزر جانے کے باوجود آج بھی قائم ہے- گاما پہلوان کی خوراک میں روزانہ 15لیٹر دودھ، 3کلومکھن، بکرے کا گوشت، 20پاﺅنڈ بادام اور پھلوں کی3ٹوکریاں شامل ہوا کرتی تھیں،ان کا سارا خرچہ مہاراجہ پٹیالہ خود برداشت کرتے تھے۔ 40پہلوانوں کے ساتھ کشتی کی تربیت ، 5ہزار بیٹھک اور 3ہزار ڈنڈ لگانا ان کا روز کا معمول تھا۔قیام پاکستان پر اپنے خاندان کے ہمراہ لاہور آ گئے اور معاشی بدحالی کا شکار ہو گئے-آخری ایام میں بیمار ہوئے لیکن حکومت نے ان کے علاج میں خاص دلچسپی ظاہر نہ کی اور فن پہلوانی کا یہ روشن ستارہ82برس کی عمر میں23مئی 1960کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ڈوب گیا۔گاما پہلوان دنیائے پہلوانی کا ایک ایسا بادشاہ تھے جس کی جگہ آج تک کوئی نہیں لے سکا، ساری زندگی ناقابل شکست رہنے کا اعزاز ہو یا کوئی اور کارنامہ ، گاما نے فن پہلوانی میں ایسی تاریخ رقم کی کہ اس سے پہلے یا شاید بعد میں کوئی بھی دوسرا پہلوان رقم نہ کر سکے۔ مارشل آرٹس کی دنیا کے بے تاج بادشاہ بروس لی بھی گاما پہلوان کے بہت بڑے مداح تھے۔

فرنچ اوپن ٹینس ٹورنامنٹ 27 مئی سے فرانس میں شروع ہوگا

سال کا دوسرا بڑا گرینڈ سلام فرنچ اوپن ٹینس ٹورنامنٹ 27 مئی سے فرانس کے دارلحکومت پیرس میں شروع ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق میگا ایونٹ کے کامیاب انعقاد کے لئے تیاریاں عروج پر ہیں۔ میگا ایونٹ کلے کورٹ پر کھیلا جائیگا جس میں دنیائے ٹینس کے نامور کھلاڑی ٹائٹل کے حصول کے لئے ایکشن میں نظر آئینگے۔ میگا ایونٹ میں مینز سنگلز، ویمنز سنگلز، مینز ڈبلز ویمنز ڈبلز اور مکسڈ ڈبلز سمیت دیگر مقابلے ہونگے۔ ہسپانوی شہرہ آفاق ٹینس سٹار رافیل نڈال میگا ایونٹ کے مینز سنگلز مقابلوں میں اپنے اعزاز کا دفاع کرینگے۔ خواتین کے سنگلز مقابلوں میں رومانیہ کی نامور ٹینس سٹار سیمونا ہالپ اپنے اعزاز کا دفاع کرینگی۔ اسی طرح مینز ڈبلز مقابلوں میں ہربرٹ اور نکولس مہوٹ پر مشتمل فرانسیسی جوڑی اپنے اعزاز کی بقا کے لئے کوشاں ہوگی۔ ویمنز ڈبلز مقابلوں میں سینیاکووا اور باربورا پر مشتمل جمہوریہ چیک کی جوڑی اپنے ٹائٹل کے دفاع کے لئے پنجہ آزمائی کریگی۔ مکسڈ ڈبلز مقابلوں میں چین کی لٹیشا چن اور انکے کروشین جوڑی دار آئیوان ڈوڈگ اپنے اعزاز کا دفاع کرینگے۔ میگا ایونٹ 27 مئی سے شروع ہوکر 9 جون کو اختتام پذیر ہوگا۔

اولمپئن نہیں رول ماڈل بننا خواب ہونا چاہیے،کرن خان

کرن خان پاکستان میں ویمن سوئمنگ کی پہچان ہیں اور ٹین ایجر سے ہی میڈلز حاصل کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا وہ اب تک جاری ہے۔کرن خان کو تمغہ امتیاز بھی مل چکا ہے جبکہ انہوں نے عالمی مقابلوں میں 47 میڈلز اور قومی سطح پر 327 گولڈ میڈلز جیتے ہیں۔حال ہی میں کرن خان کو ایک اور اعزاز ملا ہے اور ورلڈ اولمپئنز ایسوسی ایشن نے کرن کی صلاحیتیوں کو سراہتے ہو ئے انہیں سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے۔اس تعریفی سند کے بعد اب کرن خان اپنے نام کے ساتھ اولمپئین کا لفظ بھی لکھ سکیں گی۔کرن خان کا کہنا ہے کہ عالمی فورم پر کام اور محنت کو پہچان ملنے پر خوش ہوں، اس کے لیے میں نے بڑی محنت کی ہے اور جب محنت کے بعد کام کو سراہا جائے تو یہ ایک اعزاز ہوتا ہے۔کرن خان سمجھتی ہیں کہ اولمپئنز کی بڑی ذمہ داری ہوتی ہے، اولمپئن بن جانے کے ساتھ ہی کام ختم نہیں ہوتا جاتا بلکہ اصل کام تو شروع ہی اولمپئن بننے کے بعد ہوتا ہے کیونکہ آپ نے اپنی محنت کے بارے میں دوسرے لوگوں کو بتانا ہوتا ہے تاکہ وہ بھی اتنی محنت کریں اور اولمپئن بننے کے راستے پر گامزن ہو سکیں۔پاکستان کی نوجوان اولمپئن کا کہنا ہے کہ 2016 میں مجھے ایک عالمی ایونٹ میں شرکت کا موقع ملا، وہاں مجھے بہت سراہا گیا کہ میں ایک اسلامی ملک سے تعلق رکھتی ہوں اور اس کے باوجود کھیلوں سے وابستہ ہوں۔کرن خان نے کہا کہ میں سوئمنگ کرتی ہوں اور گرلز امپاورمنٹ کے لیے کام کر رہی ہوں، اسی ایونٹ میں مجھے ورلڈ اولمپئنز ایسوسی ایشن میں رجسٹرڈ ہونے کے لیے کہا گیا اور پھر میں رجسٹرڈ ہوئی اور اس فورم نے میرے کام کو دیکھا اور مجھے سرٹفکیٹ جاری کر دیا جو میں سمجھتی ہوں کہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اولمپئن بننا خواب نہیں ہونا چاہیے بلکہ رول ماڈل بننا خواب ہونا چاہیے، میں بھی اب لڑکیوں کے لیے یہی کام کر رہی ہوں اور انہیں کھیل کی طرف لا رہی ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں سوئمنگ سے وابستہ رہنا چاہتی ہوں کیونکہ سوئمنگ میرا شوق ہے، مجھے ہارنے سے ڈر نہیں لگتا اس لیے میں مقابلوں میں اب تک حصہ لیتی ہوں۔

پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ نے ماونٹ مکالو بھی سرکرلی

پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ نے ایک اور کارنامہ سر انجام دیتے ہوئے 8463میٹر بلند چوٹی ماونٹ مکالو سر کرلی، اس سے قبل وہ کئی چوٹیا ں سر کرچکے ہیں۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کے نامور کوہ پیمامحمد علی سدپارہ نے 8ہزار میٹرز سے بلند 7چوٹیاں سر کرنیوالے پہلے پاکستانی کوہ پیما بننے کا بھی اعزازحاصل کر لیا ، محمد علی سدپارہ نے نیپال میں 24مئی کی صبح ماونٹ مکالو کو سر کیا ۔ماونٹ مکالو سر کرنے کے بعد محمد علی سد پارہ نے الپائن کلب آف پاکستان کے سیکرٹری کرار حیدری سے رابطہ کیا، جنہوں نے کردار حیدری نے 8ہزار میٹر بلند چوٹیاں سر کرنے کے نئے اعزاز پر مبارک با د دی ۔اس موقع پر علی سدپارہ کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی کے تعاون پر انکا شکر گزار ہوں ، پاک فوج کے تعاون سے دنیا کی تمام 14چوٹیاں سر کرنا چاہتا ہوں۔خیال رہے کہ پاکستانی کوہ پیما محمدعلی سدپارہ نے گزشتہ سال 2کوہ پیماں کے ہمراہ بغیر آکسیجن کے نیپال میں مانٹ پاموری پیک سر کرلی تھی ، نیپال میں واقع مانٹ پاموری7161میٹربلندچوٹی ہے۔علی سدپارہ کوموسم سرمامیں نانگاپربت چوٹی سرکرنےکااعزازبھی حاصل ہے، اس کے علاوہ دیگر چوٹیاں جس میں براد پیک، سپیندیک پیک، جی ون، جی ٹو بھی سر کر چکے ہیں۔اس سے قبل گلگت بلتستان کے ہی ایک نامور سپوت حسن سدپارہ دنیا کی بلند ترین چوٹی مائنٹ ایورسٹ کو بغیر آکسیجن کے سرچکے ہیں، معروف کوہ پیما حسن سد پارہ دو سال دنیا ئے فانی سے کوچ کر گئے تھے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -