وزیر اعظم عمران خان اپنی نئی اقتصادی تیم کے بیشتر ارکان کو پہلے سے جانتے  نہ تھے

وزیر اعظم عمران خان اپنی نئی اقتصادی تیم کے بیشتر ارکان کو پہلے سے جانتے  نہ ...

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

اگر کوئی وزیراعظم عمران خان سے سوال کرے کہ کیا انہوں نے گورنر سٹیٹ بینک بنانے سے پہلے کبھی رضا باقرکو دیکھا تھا یا کبھی ان سے کسی معاشی معاملے پر تبادلہ خیال کیا تھا تو شاید جواب اثبات میں نہ ہو، کیونکہ عمران خان جب اقتدار میں آنے کی فیصلہ کن جدوجہد میں مصروف تھے، جناب رضا باقر آئی ایم ایف کی طرف سے مصری معیشت کے خاکے میں رنگ بھر رہے تھے۔ گورنر سٹیٹ بینک بنانے کا فیصلہ جب ہو رہا تھا اس وقت تک وہ ابھی آئی ایم ایف کے عہدے پر ہی تھے، جب فیصلہ ہوا تو وہ مصر سے چلے اور پاکستان آکر گورنر سٹیٹ بینک کا منصب سنبھال لیا۔ اس سے پہلے طارق باجوہ سے فوری استعفا مانگا گیا جس پر انہوں نے شتابی سے عمل کیا اور گھر چلے گئے۔ اس سے بھی قبل وزیر خزانہ اسد عمر سے بھی کچھ اسی انداز سے استعفا لیا گیا تھا، جب وہ وزیراعظم سے ملے تو ان کے اپنے بقول وہ اس امر سے بے خبر تھے کہ اس ملاقات میں ان سے استعفا مانگ لیا جائے گا۔ ایک رات پہلے ہی انہوں نے ایک چینل پر اپنے بہت سے منصوبوں سے پردہ اٹھایا تھا جن پر وہ آنے والے دنوں میں عمل کرنے والے تھے جس آدمی کو خبر ہوتی ہے کہ کل وہ استعفا دے رہا ہے، وہ اس طرح کے منصوبے نہیں بناتا اور اگر بناتا ہے تو شیخ چلی تصور ہوتا ہے۔ یونس ڈھاگا کو بھی سیکرٹری خزانہ کے عہدے سے اسی عجلت میں ہٹایا گیا، ویسے ہمارے ہاں سیاست دانوں کو ان کے مناصب سے اچانک ہٹانے کی روایت تو بہت پرانی ہے اور سیاسی تبدیلیاں بھی راتوں رات آتی رہتی ہیں۔ سکندر مرزا نے امریکہ کی محبت میں ایک سیاسی جماعت بنا دی تھی جس کا نام ری پبلکن پارٹی رکھا گیا، کیونکہ ان دنوں امریکہ میں یہی پارٹی برسر اقتدار تھی، اس لئے پاکستان کی سیاست کو امریکہ سے ہم آہنگ کر دیا گیا۔ ایک دن پہلے تک اس وقت کے مغربی پاکستان میں مسلم لیگ کی حکومت تھی جسے ہٹا کر بادشاہ خان کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب کو وزیراعلیٰ بنایا گیا، وہ چونکہ مسلم لیگ کے وزیراعلیٰ نہیں بننا چاہتے تھے، اس لئے ان کی ”دلجوئی“ کے لئے سکندر مرزا نے نئی پارٹی بنا دی، بعد میں بھی ایسی سیاسی پارٹیاں بنتی اور بگڑتی رہیں، لیکن اس وقت ہمارا موضوع سیاسی پارٹیاں نہیں، اقتصادی ٹیمیں ہیں جو دیکھتے ہی دیکھتے پورے منظر پر چھا گئی ہیں، اس ٹیم کا پہلا کمال یہ ہے اسد عمر جس آئی ایم ایف کے ساتھ کئی مہینے مذاکرات کرتے رہے اور آخری بار واشنگٹن بھی گئے، لیکن معاہدہ نہ ہوسکا۔ نئی ٹیم نے چند دن مذاکرات کئے اور سٹاف کی سطح پر معاہدہ طے پاگیا، آخر کیوں نہ ہوتا، دونوں طرف آئی ایم ایف بیٹھا تھا۔

پاکستان میں سیاستدانوں کے جس دور کو بہت رگیدا جاتا ہے اور جو آزادی کے فوراً بعد سے اکتوبر 1958ء تک پھیلا ہوا ہے اس دور میں پاکستان کی آئی ایم ایف سے کوئی راہ و رسم نہ تھی۔ غیر ملکی قرضے برائے نام تھے، روپیہ مستحکم تھا۔ گیارہ کے گیارہ بجٹ سرپلس تھے، کوئی خسارے کا بجٹ نہیں تھا، بلکہ بجٹ سازی میں تو لیاقت علی خان نے قیام پاکستان سے پہلے ہی کانگریس کو حیران و پریشان کر دیا تھا جو یہ سمجھتی تھی کہ مسلمانوں کو حساب نہیں آتا، اس لئے لیاقت علی خان بطور وزیر خزانہ ناکام ہو جائیں گے، لیکن انہوں نے ایسی وزارت چلائی اور ایسا بجٹ دیا کہ کانگریس رہنماؤں کو پریشان کر دیا اور وہ خود یہ ماننے پر مجبور ہوگئے کہ کانگریس نے لیاقت علی خان کو وزیر خزانہ بنا کر غلطی کی ہے، یہ وزارت اپنے پاس رکھنی چاہئے تھی۔ انہی لیاقت علی خان کی وزارت عظمیٰ کے دوران جتنے بھی بجٹ پیش کئے گئے، وہ سب سرپلس تھے، بعد میں مسلم لیگی وزارتیں اگرچہ کھلونوں کی طرح ٹوٹتی رہیں، لیکن کسی بھی وزارت پر یہ الزام نہیں لگایا جاسکتا کہ اس نے معیشت کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے یا کوئی بددیانتی کی، ایسے لگتا ہے کہ پری ایوب دور کا سیاستدان اس قسم کی بدعنوانی سے واقف ہی نہیں تھا جو آج سیاستدانوں میں عام ہے۔

ایوب خان کی جرنیلی حکومت میں پاکستان کو غیر ملکی قرضے کے ساتھ محمد شعیب کو بطور وزیر خزانہ قبول کرنا پڑا، وہ اتنے لاڈلے تھے کہ ان کی خاطر ایوب خان کو خصوسی طور پر ایک ایسا قانون بنانا پڑا جو پاکستان میں پہلے موجود نہیں تھا، قانون یہ تھا کہ کوئی پاکستانی غیر ملکی کرنسی میں اپنا اکاؤنٹ نہیں رکھ سکتا تھا۔ محمد شعیب کا کہنا تھا کہ وہ تو بیرون ملک عالمی بینک کے ملازم ہیں، اس لئے انہیں غیر ملکی کرنسی میں اکاؤنٹ رکھنے کی اجازت دی جائے، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ اسی محمد شعیب کے بارے میں آپ مزید جاننا چاہیں تو قدرت اللہ شہاب کی تصنیف ”شہاب نامہ“ کا وہ حصہ پڑھ لیں جس میں ایوب خان کے دورہئ امریکہ کا ذکر ہے۔ ان کی حیثیت پاکستانی کابینہ میں کیا تھی اور امریکہ میں انہیں کس نظر سے دیکھا جاتا تھا، اس کی ساری تفصیلات شہاب صاحب نے بڑے مزے لے لے کر بیان کی ہیں، بلکہ بعض لوگوں کو تو گلہ ہے کہ انہوں نے شعیب سے زیادتی کر دی۔

پاکستان میں کوکاکولا پہلی مرتبہ ایوب خان کے دور میں متعارف ہوا تھا، اس سے پہلے کولا مشروبات یہاں متعارف نہیں تھے اور مقامی چھوٹی موٹی سوڈا فیکٹریاں تھیں، جن کے مالکان بھی مقامی تھے اور سرمایہ بھی ان کا اپنا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سافٹ ڈرنکس کی کمپنیوں نے جب یہاں کاروبار کی اجازت مانگی تو وزیر تجارت فضل الرحمن نے چودھری محمد علی سے مشورہ کیا جنہوں نے کابینہ کے لئے ایک نوٹ تیار کیا کہ پاکستان کو غیر ملکی مشروبات کی نہیں زرعی اور صنعتی ترقی کے لئے مشینری اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے، جس پر وزیراعظم اور وزیر تجارت نے اتفاق کرتے ہوئے غیر ملکی کمپنیوں کو اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ یہ اجازت بھی بالآخر ایوب خان کے دور میں ملی، جب محمد شعیب وزیر خزانہ تھے، جو بیک وقت عالمی بینک کے ملازم بھی تھے۔

اقتصادی ٹیم

مزید : تجزیہ