مرید پور کے پیر کی ڈرامائی تشکیل پطرس بخاری سے معذرت کے ساتھ

مرید پور کے پیر کی ڈرامائی تشکیل پطرس بخاری سے معذرت کے ساتھ

  

پطرس نے کچھ دہائیوں پہلے ایک کردار کے بارے میں لکھا تھا جس کو ڈرامائی تشکیل اس کے اپنے بھتیجے نے بڑے خوبصورت انداز میں کی۔ مرید پور کے پیر کو جس کردارکا سکرپٹ دیا اس نے ”ماشاء اللہ“ بڑے احسن طریقے سے اس کردار کو ادا کیا۔ گو کہ مرید پور کے پیر کا مرید پور کے ساتھ بڑا مختصر سا تعلق تھا لیکن مرید پور میں اس پیر کا چرچہ اس کے بھتیجے نے اس زور و شور سے کیا کہ مرید پور کے بہت سے لوگوں کو اس سے بہت توقعات وابستہ ہوگئیں کہ مرید پور کے ہر مسئلے کا حل اس کے مرید پور آجانے میں ہی ٹھہرا۔ مگر یہ پیر بھی ایک جعلی پیر ہی نکلا اور مرید پور کے گدی نشینوں کی دیوملائی زندگیوں سے قطعی مختلف نہ نکلا اور تصوف کی ان گھیتوں کو کافی حد تک سمجھ کر جوکہ اس کے گدی نشین ان مسائل کو حل کر چکے تھے لیکن ان مسائل کو ایک الگ ہی انداز میں حل کرنے کا مژدہ سنایا۔ یہ نیا انداز کچھ نو عمر ناعاقبت اندیش لوگوں کو بہت بھایا۔ مگر حالات کی سمجھ رکھنے والے دل ہی دل میں اس راستے کو اپنے لئے غیر مفید ہی سمجھتے رہے۔ مگر کچھ ناعاقبت اندیش لوگوں نے اس پیر کو مرید پور لانے کی ٹھان لی۔ شاید وہ بھی اس کے بھتیجے کی چمک کا شکار ہوگئے تھے اور کچھ ہاں میں ہاں اور ہاں سے ہاں ملانے والے بھی مل گئے تھے اور جس بھتیجے نے پیر صاحب کی تشہیر میں بہت سا سرمایہ اور طاقت بھی لگا رکھی تھی وہ اپنی اس کامیابی پر پھولے نہ سمائے۔

بل آخر اس پیر کو جیسے تیسے مرید پور لایا گیا اور جلسے کی صدارت سونپ دی گئی اور پھر چند جوشیلے مقرروں نے پیر صاحب کی تعریفوں کے پل باندھے اور ایک جوش سامعین میں پیدا کیا اور بالآخر اپنے اس مسیحا کو اپنی تمام تر اصلاحات کو اپنی زبان سے بیان کرنے کی دعوت دی۔ پیر صاحب ڈائس پر تشریف لائے۔ کسی وجہ سے بھول جانے کی عادت یا غرور و تکبر کے باعث جیب میں ہاتھ ڈالنے اور پرچی نکالنے کی زحمت کی گوارا نہ کی۔ بس پھر کیا تھا جو بات کرتے۔ اس پر ایک قہقہہ بلند ہوتا۔ ان قہقہوں کی بارش نے پیر صاحب کے اور بھی اوسان خطا کردیئے۔ کبھی وہ لکڑیوں ے گھٹے کا ذکر کرتے اور اسے اتفاق میں برکت کا عنوا دیتے تو کبھی کٹے اور مرغیاں پالنے کو غربت کے خاتمے سے تشبیہہ دیتے۔ اس پر مزید قہقہوں کی بارش ہونے لگتی تو پھر مجھ سے کچھ ٹماٹر، انڈے اور جوتے اچھلے اور علاقے کے معززین سٹیج پر آگے کھڑے ہوگئے جن میں سے اکثریت مرید پور کے گدی نشینوں کی تھی۔ اب مرید پور کے گدی نشینوں کو دیکھ کر مجمے کا جوش تھم تو گیا لیکن سارا جلسہ بھی انہیں کے قبضے میں چلا گیا اور مرید پور کی قسمت نہ بدلتی تھی اور نہ بدلی۔

مزید :

رائے -کالم -