وسیب کو آبادی کیمطابق حصہ، صوبائی سیکریٹریٹ  کیلئے بجٹ مختص کیاجائے، سرائیکستان صوبہ محاذ

 وسیب کو آبادی کیمطابق حصہ، صوبائی سیکریٹریٹ  کیلئے بجٹ مختص کیاجائے، ...

  

ملتان(سپیشل رپورٹر ) بجٹ میں سرائیکی وسیب کو آبادی کے مطابق حصہ اور صوبائی سیکریٹریٹ کیلئے بجٹ مختص کیا جائے۔ ان خیالات کا(بقیہ نمبر39صفحہ12پر )

 اظہار سرائیکستان صوبہ محاذ کے رہنماﺅں نے بجٹ کی آمد کے سلسلے میں منعقد کئے گئے مشاورتی اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں کیا۔ پریس بریفنگ میں سرائیکستان صوبہ محاذ کے شریک چیئرمین ظہور دھریجہ، سرائیکستان نوجوان تحریک کے چیئرمین مہر مظہر کات اور سرائیکی تھنکر ونگ کے چیئرمین مسیح اللہ خان جام پوری نے کہا کہ آج مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ مختلف عالمی ادارے قرضے دے رہے ہیں اور قرضوں کی بارش ہونے والی ہے، سوال یہ ہے کہ ان میں سرائیکی وسیب کا حصہ کہاں ہے؟ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے جو وعدے کئے ایک بھی پورا نہیں ہوا، سرائیکی صوبے کے وعدے کیلئے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، ایک وعدے سے انحراف کا مطلب تمام وعدوں سے انحراف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسیب کو دیوار سے لگانے کی پالیسی ترک ہونی چاہئے اور وسیب کواُس کا حصہ ملنا چاہئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجٹ میں سرائیکی وسیب کو نظر انداز کرنے کی پالیسی ترک کی جائے۔ وفاقی بجٹ میں سرائیکی وسیب کو آبادی کے مطابق حصہ دیا جائے۔ پنجاب سرائیکی وسیب کے 21 اضلاع اور خیبرپختونخواہ وسیب کے دو اضلاع ٹانک و ڈی آئی خان کیلئے بجٹ الگ مختص کیا جائے۔ انہوں نے کہا وسیب کے تعلیم صحت اور روزگار کے مسائل کے حل کیلئے خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا صوبہ سرائیکستان کے قیام کیلئے ضروری ہے 20 ارب کا الگ بجٹ مختص کرکے صوبائی سیکرٹریٹ تعمیر کیا جائے۔ بجٹ مشاورتی اجلاس میں افضال بٹ، حاجی عید احمد دھریجہ، سانول احسان، ایاز محمود دھریجہ، رانا امیر علی، ملک نجف عباس جوئیہ، مہر ظفر اقبال ہراج، مہر اقبال مہدی، ممتاز دھریجہ، اجمل دھریجہ، سلطان محمود، شریف بھٹہ، معیز بھٹہ، سید امیر جعفری بخاری، ملک علی رضا راں، حسن شہزاد بیگ اور دوسروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں چند قراردادیں منظور کی گئیں جو حسب ذیل ہیں۔جب تک سرائیکی صوبہ قائم نہیں ہوتا ،اس وقت تک پبلک سروس کمیشن ، ریونیو بورڈ اور دوسرے تمام محکموں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے اور حکومت اپنے اعلان کے مطابق سول سیکرٹریٹ سرائیکی وسیب میں قائم کرے ۔ این ایف سی ایوارڈ تمام اضلاع میں برابر تقسیم کیا جائے ۔ سرائیکی وسیب کیلئے پنجاب کے بجٹ کا 50 ، خیبرپختونخواہ 25 اور وفاقی بجٹ کا 33 فیصد حصہ رکھا جائے اور بجٹ میں سرائیکی صوبے کے انفراسٹرکچر کیلئے خصوصی رقم مختص کی جائے ۔ ا ستحکام پاکستان کیلئے وسیب کے علاقہ جات پر مشتمل سرائیکی صوبے کا قیام عمل میں لایا جائے ، دو دو چار چار صوبوں کے نام پر وسیب کو تقسیم اور صوبے کا مقدمہ خراب کرنے کی کوشش بند ہونی چاہئے۔سرائیکی وسیب کے لئے سی ایس ایس کا کوٹہ الگ کیا جائے اور سی ایس ایس کے امتحان میں سرائیکی مضمون بھی شامل کیا جائے ۔سرائیکی وسیب میں میڈیکل ، انجینئرنگ، ایگریکلچرل اور ٹیکسٹائل یونیورسٹیوں کے ساتھ کیڈٹ کالجز بنائے جائیںاور نواز شریف زرعی یونیورسٹی ، شہباز شریف انجینئرنگ یونیورسٹی ، خواجہ فرید انجینئرنگ یونیورسٹی رحیم یارخان کو فنڈز دیکر صحیح معنوں میں فعال بنایا جائے ۔ سرائیکی وسیب میں بے روزگاری کے خاتمے اور صنعتی ترقی کیلئے ٹیکس فری انڈسٹریل زون بنائے جائیں۔سرائیکی وسیب کو کپاس ، گندم ، آم اور دوسری اجناس کے ساتھ یورنیم کی رائلٹی دی جائے اور زرعی آلات کھاد، بیج اور زرعی ادویات پر سبسڈی دی جائے۔فوج ، عدلیہ، فارن سروسز اور تمام اداروں و تمام کارپوریشنوں میں سرائیکی کو آبادی کے مطابق ملازمتوں کا حصہ دیا جائے۔انٹری ٹیسٹ جیسے فراڈسسٹم ختم کر کے ملازمتوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے کیلئے سندھ رورل اور سندھ اربن کی طرح سرائیکی وسیب کا الگ کوٹہ بحال کیا جائے۔ سرائیکی کالجوں کیلئے سرائیکی لیکچرر اور سکولوں کیلئے سرائیکی اساتذہ کی آسامیاں دی جائیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -