نئی بھارتی حکومت سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، شاہ محمودقریشی

نئی بھارتی حکومت سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، شاہ محمودقریشی

  

ملتان(سپیشل رپورٹر ) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ نئی بھارتی حکومت سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ دونوں ہمسایہ ممالک کو خطے میں خوش حالی ، امن کے قیام اور تصفیہ(بقیہ نمبر9صفحہ12پر )

 طلب مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا۔ خطے میں امن کا قیام خواہش بھی اور ترجیح بھی۔ ہماری حکومت کی خارجہ پالیسی اور 9ماہ میں کئے گئے اقدامات ہمارے مثبت عزائم ظاہر کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ملتان میں این اے 157 کی یونین کونسل ٹاٹے پور کے موضع اکرام آباد میں افطاری / استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری وزارت خزانہ مخدومزاہ زین حسین قریشی ، رکن صوبائی اسمبلی ملک واصف مظہر راں ، سابق یوسی چیئرمینز سمیت پی پی 218 کے معززین کی ایک بہت بڑی تعداد اس موقع پر موجود تھی۔ وزیر خارجہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا افغانستان خطے کا اہم ملک ہے ۔ افغانستان سے ملحقہ تمام ہمسایہ ممالک کا امن افغانستان سے منسلک ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہوتاکہ پائیدار علاقائی استحکام کی راہ ہموار ہو سکے، ہم نے ہمیشہ افغان قیادت میں، افغانوں کے اپنے اور قبول کردہ حل پر اصرار کیا ہے، آگے بڑھنے کا یہی واحد راستہ ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ امن اور مفاہمت کے فروغ کے لئے بات چیت کا عمل شروع ہوچکا ہے ، ہمیں امید ہے کہ آگے بڑھتے ہوئے افغانستان کے ہمسایوں اور دیگر فریقین کو شامل رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس عمل میں سہولت کاری فراہم کرتا رہے گا، امید ہے کہ دوسرے بھی اس مشترکہ ذمہ داری میں اس کی حمایت کریں گے۔ وزیر خارجہ نے کہا پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش ہے۔ ہمارے نزدیک نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرکے دہشت گردی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کا حل انتہائی ناگزیر تقاضا ہے ۔ یاد رکھنا ہوگا کہ اگر ہم امن چاہتے ہیں تو پھر انصاف سے کام لینا ہوگا۔ بد قسمتی سے ماضی کی حکومتوں نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے دہشت گردی کو ختم نہیں کیا جاسکا۔ہماری حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کیلئے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا جنوبی پنجاب صوبے کا قیام نہ صرف ہماری ترجیح بلکہ یہاں کے عوام کی خواہش بھی۔ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام سے نہ صرف فیڈریشن مضبوط ہوگا بلکہ انتظامی درآمد بھی بہتر ہوگا۔ انہوں نے کہا ہماری حکومت اس سلسلے میں سنجیدہ کوششیں کررہی ہے۔ ہم نے قومی اسمبلی میں بل جمع کروایا ہے اگلے مرحلے میں جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کیلئے تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کریں گے اور سٹیک ہولڈرز کو اعتمادمیں لیں گے۔ انہوں نے کہا یہ بات واضح ہے کہ جنوبی پنجاب کے عوام صوبے کی مخالفت کرنے والے کو جنوبی پنجاب میں قدم نہیں رکھنے دیں گے۔ انہوں نے کہا جلد ہی جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ فعال ہو جائے گا۔ جبکہ آئندہ مالی سال کے پیش ہونے والے بجٹ میں جنوبی پنجاب کیلئے علیحدہ ترقیاتی بجٹ رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا این اے 157 میرا گھر ہے یہاں کے عوام نے مجھے اور میرے بیٹے کو عزت دی ۔ یہاں کی عوام میرے دل میں رہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا الیکشن کے دوران کئے گئے وعدے پورے کرنے کا وقت آ گیا ہے این اے 157 میں ترقیاتی کاموں کا آغاز کردیا گیا ہے۔ جس کیلئے سکیمیں تیار کی جارہی ہیں۔ جتنا ہو سکا وسائل حلقہ کی ترقی پر خرچ کریں گے۔ انہوں نے کہا ماضی میں اس حلقے سے اراکین اسمبلی نے وعدے تو کئے لیکن عملی اقدامات نہ کئے۔ ہم خالی نعروں پر نہیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سے این اے 157 کی ترقی کیلئے خصوصی پیکیج لے کرآئیں گے ۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے والد اور سابق گورنر پنجاب اور دربار حضرت بہاءالدین زکریا ؒ ، حضرت شاہ رکن عالم نوری حضوریؒ اور حضرت بی بی پاک دامن کے مرحوم سجادہ نشین مخدوم سجاد حسین قریشی (مرحوم) کے 22ویں سالانہ عرس و ختم شریف کی تقریب 31مئی بروز جمعہ 25 رمضان المبارک دربار حضرت بہاءالدین زکریا ؒ کے احاطے میں منعقد ہوگی۔ جس میں ملک بھر سے ہزاروں زائرین اور عقیدت مند شریک ہونگے۔ برسی کی تقریب میں شرکت کیلئے مرحوم کے بڑے صاحبزادے اور وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور مخدومزادہ زین حسین قریشی کی جانب سے دعوت نامے اکابرین کو بھجوائے جار ہے ہیں۔ واضح رہے مخدوم سجاد حسین قریشی کی برسی کا اجتماع ملتان کا ایک بہت بڑا مذہبی و روحانی اجتماع ہوتا ہے جس میں ملک بھر سے سیاسی ، سماجی ، مذہبی ، روحانی و سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے شخصیات ایک بہت بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -