فنکاروں کی اشیاءخورد و نوش ، ادویات کی قیمتوں میں اضافہ پرتشویش

فنکاروں کی اشیاءخورد و نوش ، ادویات کی قیمتوں میں اضافہ پرتشویش
فنکاروں کی اشیاءخورد و نوش ، ادویات کی قیمتوں میں اضافہ پرتشویش

  

لاہور ( فلم رپورٹر)شوبزکے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے رمضان المبارک کے دوران روز مرہ کی اشیاءخورد و نوش اور کمپنیوں کی جانب سے ادویات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے غریب کے لئے عرصہ حیات تنگ سے تنگ ہورہا ہے۔ نا قابل برداشت اضافے کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔شوبز شخصیات کا حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے والے ظالم درندوں کو سخت سے سخت اور عبرتناک سزا دی جائے تاکہ کوئی شخص آئندہ ایسی ہرکت نہ کرسکے ۔عوام کو عمران خان اور ان کی حکومت سے بہت امیدیں وابستہ ہیں لیکن مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے عام انسان کا جینا محال ہورہا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان کو بگڑتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لینے کےلئے فوری اور جنگی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ غریب عوام سکون کا سانس لے سکیں ۔شاہد حمید،معمر رانا،مسعود بٹ،حسن عسکری ،شانسید نور،میلوڈی کوئین آف ایشیاءپرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی،صائمہ نور،میگھا،ماہ نور،انیس حیدر،ہانی بلوچ،یار محمد شمسی صابری،سہراب افگن ،ظفر اقبال نیویارکر،عذرا آفتاب،حنا ملک،انعام خان ،فانی جان،عینی طاہرہ،عائشہ جاوید،میاںراشد فرزند، سدرہ نور،نادیہ علی،شین،سائرہ نسیم،صبا ءکاظمی، ،سٹار میکر جرار رضوی،آغا حیدر،دردانہ رحمان ،ظفر عباس کھچی ،سٹار میکر جرار رضوی ،ملک طارق،مجید ارائیں،طالب حسین،قیصر ثنا ءاللہ خان ،مایا سونو خان،عباس باجوہ،مختار چن،آشا چوہدری،اسد مکھڑا،وقا ص قیدو، ارشدچوہدری،چنگیز اعوان،حسن مراد،حاجی عبد الرزاق،حسن ملک،عتیق الرحمن ،اشعر اصغر،آغا عباس،صائمہ نور،خالد معین بٹ ،مجاہد عباس،ڈائریکٹر ڈاکٹر اجمل ملک،کوریوگرافر راجو سمراٹ،صومیہ خان،حمیرا چنا ،اچھی خان،شبنم چوہدری،محمد سلیم بزمی،سفیان ،انوسنٹ اشفاق،استاد رفیق حسین،فیاض علی خاں،پروڈیوسر شوکت چنگیزی،ظفر عباس کھچی،ڈی او پی راشد عباس،پرویز کلیم اور نجیبہ بی جی نے ادویات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کو غریب عوام پر ظلم قرار دیا ہے۔شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ حکومت کو ادویات کی کمی کے حوالے سے فوری اقدامات کرنا ہوں گے ورنہ غریب بے موت مارے جائیں گے۔

مزید :

کلچر -