چیئرمین نیب کے معاملے پر مسلم لیگ (ن ) اختلافات کی شکار

چیئرمین نیب کے معاملے پر مسلم لیگ (ن ) اختلافات کی شکار

  

لاہور(آئی این پی)مسلم لیگ(ن)نے چیئرمین نیب کے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا، مسلم لیگ( ن) کے رہنما ملک احمد خان نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب کے انٹرویو کے خلاف عدالت میں جائیں گے،اگر وزیراعظم کو اس ملک میں نکالا جا سکتا ہے تو چیئرمین نیب کو کیوں نہیں،نیب قوانین کا غلط استعمال کر رہا ہے،نیب چاہتا ہے کہ جس کی چاہے گردن پکڑ لے اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو، نیب سے گرفتاری کی وجہ پوچھو تو کہتے ہیں کہ یہ خفیہ دستاویز ہے،ملکی مفادات کی تشریح نیب نے کرنی ہے تو پارلیمنٹ کو تالا لگا دیں، چیئرمین نیب نے کہا تھاکہ حکومت کے خلاف کارروائی کی تو حکومت گر جائے گی، نیب پی ٹی آئی کا پلاننگ یونٹ ہے۔ مسلم لیگ( ن) کے رہنما ملک احمد خان نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ چیئرمین نیب اپنے عہدے سے مستعفی ہوں،شہبازشریف پر ثبوت کے بغیر الزامات لگائے گئے،صاف پانی کیس میں نیب کو شہباز شریف کو گرفتار نہیں کرنا چاہیے تھا،ہم چیئرمین نیب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وضاحت کریں،ہم اخبار کے کالم پر چیئر مین نیب کے خلاف ہتک عزت کا کیس فائل کر رہے ہیں،چیئرمین نیب اور کالم نگار کے خلاف بھی عدالت میں جا رہے ہیں۔دوسری جانبمسلم لیگ(ن)کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے ملک محمد احمد خان کے بیان سے اظہار لاتعلقی کرتے ہوئے کہا ملک محمد احمد خان نے جو کہاوہ ان کی ذاتی رائے ہے پارٹی موقف نہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن)کے صدر میاں شہباز شریف اور سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی چیئرمین نیب سے متعلق واضح پارٹی موقف بیان کرچکے ہیں ،چیئرمین نیب کے واقعہ سے متعلق پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جو سارے معاملے کی تحقیق کرے۔

مسلم لیگ ن/اختلافات

اسلام آباد/لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر و سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اگر ان کا چیئرمین نیب کی تعیناتی کا فیصلہ غلط ثابت ہوگا تو وہ قوم سے معافی مانگیں گے۔جسٹس (ر) جاوید اقبال کو مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے اکتوبر 2017 میں چیئرمین نیب تعینات کیا گیا تھا۔شاہد خاقان عباسی نے نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بطور وزیراعظم اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کرکے جاوید اقبال کو چیئرمین نیب منتخب کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب تعیناتی کےلئے مجھ پر کوئی دباو¿ نہیں تھا جبکہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا نام مسلم لیگ ن کے مجوزہ تین ناموں میں بھی شامل نہیں تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر وقت نے ثابت کیا کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی کا فیصلہ غلط تھا تو قوم سے معذرت کر لوں گا۔بھارتی انتخابات میں نریندر مودی کی کامیابی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جو سمجھتا ہے مودی کی جیت سے مسئلہ کشمیر حل ہوگا یہ خام خیالی ہے، پاکستان کو بھارت سے سبق سیکھنا ہے تو یہ سیکھے وہاں الیکشن کیسے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان بہت کچھ کہتے رہتے ہیں ان کی باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا، بد نصیبی ہے کہ عمران خان ملک کے وزیراعظم ہیں۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے رمضان شوگر ملز کیس کی سماعت کے سلسلے میں احتساب عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگومیںچیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے انٹرویو کے معاملے پر قومی اسمبلی کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب کے انٹرویو پر تحفظات موجود ہیں جو باتیں کہی گئی ہیں اور جس صحافی سے یہ بات کہی گئی ہے وہ کہہ رہے ہیں ہم اپنی بات پر قائم ہیں اس کا مطلب ہے کہ نیب پارٹی بن چکاہے لہٰذاچیئرمین نیب کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں لے کر جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ’کہیں پر نیب کہتا ہے حمزہ شہباز نے کہا کہ انہیں وزیراعلیٰ بنایا جائے اور شہبازشریف کو کلین چٹ دی جائے، اسی انٹرویو میں کہا گیا کہ حکومت میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں ہم پکڑنا چاہتے ہیں لیکن حکومت گر جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کالم میں جو انکشافات ہوئے پہلے ان حقائق کا فیصلہ ہونا چاہیے جبکہ اپوزیشن جماعتیں اس بات پر اکٹھی ہوں گی کہ اس بات کا فیصلہ ہونا چاہیے،چیئرمین نیب اپنی صفائی میں کیا کہنا چاہتے ہیں، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہونا چاہیے ورنہ قوم اس احتساب اور تماشے کو نہیں مانتی۔

شاہد خاقان/حمزہ شہباز

مزید :

صفحہ اول -