فرزندان اسلام آج اعتکاف بیٹھنے جارہے ہیں لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ اعتکاف کا لفظی مطلب کیا ہے؟ اگر نہیں تو یہ تحریر آپ کیلئے ہے

فرزندان اسلام آج اعتکاف بیٹھنے جارہے ہیں لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ اعتکاف ...
فرزندان اسلام آج اعتکاف بیٹھنے جارہے ہیں لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ اعتکاف کا لفظی مطلب کیا ہے؟ اگر نہیں تو یہ تحریر آپ کیلئے ہے

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)رمضان المبارک کے دوسرے عشرے کا اختتام آج ہوجائےگا جس کے بعد تیسرے عشرے کا آغاز یعنی عشرہ مغفرت شروع ہوجائے گا ایسے میں آج بعد نماز عصر سے لاکھوں فرزندان توحید اعتکاف کی سعادت حاصل کریں گے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق عربی زبان میں اعتکاف کا مطلب رکنا اور تھم جانا ہے اور اصطلاحِ شرعی میں رمضان المبارک کے آخری عشرے میں کسی مرد یا عورت کا اپنے معتکف میں قیام پذیر ہوجانا اعتکاف کہلاتا ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک کر ادب و احترام سے بیٹھ رہنے کا نام اعتکاف ہے۔

سورۃ البقرہ کی آیت نمبر216میں اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے :’’ اور ہم نے ابراہیمؑ و اسماعیلؑ سے عہد و پیمان لیا کہ وہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں ،اعتکاف بیٹھنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے پاک صاف کر دیں‘‘۔آیتِ مبارکہ کے مندرجات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ گھر بیت اللہ شریف کے طواف اور رکوع و سجود کے ساتھ ساتھ ’اعتکاف‘‘ کو بھی قربِ الٰہی کا ذریعہ بتایا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے دو اولعزم پیغمبروں حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیلؑ کو حکم دیا کہ وہ معتکفین کے لئے انتظام و انصرام کریں۔ اس سے اعتکاف کے قدیم ہونے اور انسانی شخصیت کی تعمیر میں روحانی اثرات مرتب کرنے کا پتہ چلتا ہے۔سورۃ البقرہ ہی کی آیت نمبر187میں احکامات کا تذکرہ کرتے ہو ئے ’’ و انتم عا کفون فی المساجد‘‘ کے الفاظ آئے ہیں جواعتکاف کی مشروعیت کے ساتھ ساتھ اس کے احکامات کا پتہ بھی دے رہے ہیں۔ اعتکاف کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ ہر سال اعتکاف کا اہتمام فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ روایت فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا وفات تک یہ معمول رہا کہ آپ ہر سال رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے اور آپؐ کی وفات کے بعد آپؐ کی ازواجِ مطہرات بھی آپؐ کی سنت کی پیروی میں اعتکاف فرماتی تھیں۔(بخاری ،کتاب الاعتکاف)

اعتکاف کرنے والا اتنا پاکیزہ و برگزیدہ ہوجاتا ہے کہ رسالتِ مآب ﷺ نے فرمایا ’’ جس نے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیاتو اسے دوحج اور دوعمرے ادا کرنے کے برابر ثواب ملے گا ‘‘۔ (بیھقی فی شعب الایمان)حقیقت یہ ہے کہ اعتکاف کرنے والے کی مثال احرام باندھنے والے کی ہے جو اللہ کے دامنِ رحمت سے وابستہ ہونے کے لئے دنیا کے تمام علائق اور ضرورتوں کو چھوڑ دیتا ہے ۔اسی طرح اعتکاف کرنے والا رمضان کے آخری عشرے میں تمام تعلقات کو خیر باد کہہ کر مسجد کے کسی کونے میں بیٹھ کر اللہ کے در کا فقیر بن جاتاہے۔ اس کی یہ درویشی اور فقیری اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ پسند آتی ہے۔ اس کی یہ عاجزانہ شان دیکھ کر اللہ تعالیٰ اس پر بہت زیادہ مہربان ہو جاتے ہیں اور اسے جہنم کی آگ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھٹکارا عطا کرنے کے ساتھ ساتھ جنت کا مستحق بنا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اعتکاف کرنے والوں کے لئے اس قدر جوش میں ہوتی ہے کہ اگر کو ئی شخص ایک دن کا بھی اعتکاف کرے تو اس کے لئے اعلان کیا جاتا ہے ’’ جو شخص رضائے الٰہی کے حصول کے لئے ایک دن کا اعتکاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان ایسی تین خندقیں بنا دے گا جن کے درمیان آسمان و زمین کے فاصلے سے بھی زیادہ فاصلہ ہوگا۔ ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ ان دو خندقوں کے درمیان مشرق و مغرب کے فاصلے سے بھی زیادہ فاصلہ ہوگا (درِ منثور)۔

مزید : Ramadan Page /Ramadan News