’قومی حکومت‘ سے چند سوالات!

’قومی حکومت‘ سے چند سوالات!
’قومی حکومت‘ سے چند سوالات!

  


یہ امر طے ہے کہ اپوزیشن اتحاد اب بوری نہیں بلکہ بوری کے پیچھے بیٹھی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو اپنا اصل حریف سمجھتی ہے۔سرخیل راہنماؤں کی خاموشی اور بلاول کی کھسیانی ہنسی کے دوران اے این پی کے نمائندے نے اندر کی بات کھل کر بیان کر دی۔یہ بات بھی طے ہے کہ ن لیگ کی قیادت شہباز خاندان کے ہاتھوں سے پھسل کر ’جواں سال ‘مریم نواز کے پاس جا چکی ہے جو کہ طویل خاموشی اور تمام تر زیر زمین کاوشوں کے بعد’مرتا کیا نہ کرتا‘کے مصداق اب ٹویٹر کی دنیا سے نکل کر متحرک ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔

چار اطراف دھیمی آگ پر سلگائی گئی جارحیت کی آگ سے نبرد آزماپاک افواج اپنی پوری استطاعت کے ساتھ قریباً دو عشروں سے بروئے کار ہیں۔اندرونی طور پر ایک نہایت منظم طریقے سے ملک کے اندر ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ جہاں سولین بالادستی اور حقیقی جمہوریت کے دلکش نعروں کی آڑ میں ادارے پرطعن زنی نام نہاد لبرلز کے ہاں ایک فیشن بن چکا ہے۔ موجودہ معاشی صورت حال میں ادارہ بھی یقینا دباؤ میں ہو گا ۔عالمی طاقتوں کے علاقائی ایجنڈے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہونے کی بنا پر بیرونی اور اندرونی دباؤ بڑھا کر ادارے کو مفلوج کرنا ہی ان طاقتوں کو حتمی طور پر مقصود ہے۔ افطار پارٹی کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں جہاں حکومت کے خلاف مجوزہ تحریک کی بنیاد اس کی معاشی ناکامی بتائی گئی ہے، وہیں بالواسطہ طور پر تمام سیاسی ،معاشی اور معاشرتی خرابیوں کی ذمہ داری ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے سر رکھی گئی ہے۔ اگرچہ بڑی پارٹیوں کے قائدین کھل کر یہ بات کہنے کی جرات نہیں کر سکے تاہم ان کے کچھے ہوئے چہرے دلی کیفیت کی عکاسی کو کافی تھے۔

لبرل دانشوروں اور کم از کم دو بڑے میڈیا ہاؤسز سے وابستہ صحافیوں نے جو بوجہ عمران خان سے ناراض ہیں، حال ہی میں ایک قومی حکومت کے قیام کا خیال شدو مد سے پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ تاہم یہ دانشور جو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کے ناقد ہیں،قومی حکومت کے قیام کےلئے اسی اسٹیبلشمنٹ کو ضامن کے طور پر دیکھنے کے آرزو مند ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عمران خان اپنی تمام تر بری حکومت کے باوجود آج بھی ذاتی حیثیت میں ملک کے مقبول ترین راہنما ہیں۔اور یہ کہ تمام تر معاشی مشکلات کے باوجود ان کو اداروں کا اعتمادبھی حاصل ہے۔چنانچہ تاوقتیکہ اسٹیبلشمنٹ اپنا وزن احتجاجی تحریک کے پلڑے میں ڈالتی ہے، اپوزیشن اتحاد میں شامل پارٹیاںکہ جن کی حیثیت علاقائی پارٹیوں سے زیادہ نہیں، عید کے بعد خلفشار اور بے چینی تو پیدا کر سکتی ہیں،حکومت گرانا اور قومی حکومت بنانا ان کے بس کی بات نہیں۔

تاہم خالصتا بحث کے نکتہ نظر سے ہم یہ تصور کر لیتے ہیں کہ اپوزیشن کی مجوزہ تحریک کے نتیجے میں ایک’ قومی حکومت ‘قائم ہو جاتی ہے۔ا س سے قطع نظر کہ قومی حکومت کا قیام کیونکر عمل میں آتا ہے، یہ بات طے ہے کہ عمران خان کی تحریک انصاف اس طرح کے کسی بندوبست کا حصہ نہیں ہوگی۔ہم یہ بھی تصور کر تے ہیں کہ اگرچہ اس قومی حکومت کا بنیادی ایجنڈا محض معیشت کی بحالی ہو گا تاہم بھر پور عوامی تائید کے ساتھ برپا کی گئی احتجاجی تحریک کے بل بوتے پر اپوزیشن سول بالادستی کے اپنے بیانیے کو بھی عملی طور پر منوانے اور اس کے نتیجے میںملٹری اسٹیبلشمنٹ اور اس کے معاون اداروں کے پر کاٹ کر ان کو اپنی اپنی آئینی حدود میں پھینک دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔مغرب اور بالخصوص امریکہ سے ہمارے تعلقات کار ان شرائط پر طے پا جاتے ہیں جن کے راستے میں لبرل اور جمہوریت کے گیت گانے والا طبقہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو رکاوٹ گردانتا ہے، فوج کے اندر کیری لوگر بل سے مشابہت رکھنے والی اصلاحات نافذ ہو جاتی ہیں کہ جن کے تحت آرمی چیف کی طاقت کی بیخ کنی کےلئے میجر جنرل اور اس سے اوپر کے عہدوں کی ترقی اور تعیناتیوں کے اختیارات ان سے لیکر’ عوامی نمائندوں‘ کو تفویض کر دیئے جاتے ہیں۔چئیر مین جائنٹ چیف آف سٹاف کے عہدے کو فعال کر دیا جاتا ہے۔عوامی نمائندوں کودفاعی بجٹ کے جائزہ اور کٹوتیوں کے مکمل اختیارات دستیاب ہو جاتے ہیں۔ افغانستان اور بھارت سے تعلقات کار بھی حسب منشا بحال ہو جانے کے بعدافغانستان کی سرحد سے باڑ ہٹا د ی جاتی ہے اور حکومتی اتحادیوں کے مطالبے کے مطابق فوج قبائلی علاقوں سے واپس بلا لی جاتی ہے۔ سول بالادستی کے اس مطلوب و مقصود منظر نامے میں قائم ہونے والی قومی حکومت سے تاہم معاشی بحالی کے بنیادی ایجنڈے کو مد نظر رکھتے ہوئے چند بنیادی سوال تشنہ طلب رہتے ہیں۔

مثال کے طور پر امریکہ کے تزویراتی بندوبست کا حصہ بننے کے بعد چین سے ہمارے تعلقات کی نوعیت کیا ہو گی؟کیا سی پیک جاری رہے گا؟ چائنہ سے لئے گئے قرضوں کا معاملہ اور ادائیگی کیسے ہو گی؟ مجوزہ قومی حکومت میں شامل کم از کم تین اتحادی ،افغانستان کے ساتھ نا صرف کھلی سرحد کے حامی ہیںبلکہ اٹک سے لے کر جہلم تک پاکستانی علاقے کو افغانستان کا حصہ سمجھتے ہیں، چنانچہ افغان بارڈر پر آمدورفت اور افغانستان سے تجارتی تعلقات کی نوعیت کیا ہو گی؟افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں ہونے والی لگاتار اسمگلنگ کے علاوہ کوئٹہ اور پشاور سے ہر سال اربوں ڈالر کی بیرون ملک منتقلی کو کیسے روکا جائے گا؟ پاک فوج کے قبائلی علاقوں سے انخلاءکے بعد افغانستان سے آنے والے مسلح جتھوں سے ہم کےسے نمپٹنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ا چھے اور برے طالبان کی تفریق ختم کر کے ان کی بیخ کنی کےلئے انکے خلاف ایکشن کی نوعیت کیا ہو گی اور کیا قبائلی علاقوں سے پاک فوج کی واپسی کی بعد امریکہ کو سرحد کے دو اطراف یہ ذمہ داری تفویض کی جائے گی؟ انتہا پسندی کے خاتمے کےلئے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے تناظر میں جب مدرسوں پر ہاتھ ڈالا جائے گاتو اہم اتحادی فضل الرحمٰن کا ردعمل کیا ہو گا؟ اور یہ کہ اس دوران ایک اور ’پلوامہ ‘ وقوع پذیر ہو جانے کی صورت میں ہم بھارت سے کس طرح معاملہ کریں گے؟آئی ایم ایف کے پروگرام میں جائے بغیر کون سا طلسمی راستہ اختیار کیا جائے گا، جبکہ دسمبر2019ءتک عالمی اداروں کو قرضے کی مد میں 5بلین ڈالرکی ادائیگی سر پر ہے؟ ایک ارب ڈالر کے وہ بانڈ جو اسحاق ڈار صاحب نے غیر معمولی طور پر بھاری شرح سود پر جاری کئے تھے،اب ’حامل ھٰذا‘ کو مع سود فوری واجب الادا ہیں۔ اور سب سے بڑھ کریہ کہ کئی بھاری ادائیگیوں کو بجٹ سے باہرخفیہ خانوں میں گھسیڑ کر آنے والی حکومت کےلئے جو بارودی سرنگیں جناب اسحاق ڈار نے بچھائی تھیں،ان سے خود کیسے نبٹا جائے گا؟

عید کے بعد چلائی جانے والی تحریک کابنیادی حدف اگر تومعیشت کی بحالی ہے تواپوزیشن اتحاد کو پوچھے گئے سوالات کے جوابات قوم کے سامنے رکھنا چاہیئں۔البتہ اگر مقصود موجودہ حکومت کو محض اس لئے گراناہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی بیخ کنی کیلئے آمادئہ کار نہیں تو یاد رہے ہماری سیاسی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ جنگوں کی طرح احتجاجی تحریکیں کسی ایک نکتے پرشروع تو کی جا سکتی ہیں تاہم آگے جا کر وہ کیا رخ اختیار کرتی ہیں اس کا اندازی لگانا کسی کے بس کی بات نہیں۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ