دنیا کی سب سے مہنگی 28کروڑ روپے کی دوائی، اس سے کس مرض کا علاج ہوتا ہے؟ جانئے

دنیا کی سب سے مہنگی 28کروڑ روپے کی دوائی، اس سے کس مرض کا علاج ہوتا ہے؟ جانئے
دنیا کی سب سے مہنگی 28کروڑ روپے کی دوائی، اس سے کس مرض کا علاج ہوتا ہے؟ جانئے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) کئی ایسے امراض ہیں جن کا علاج بہت مہنگا ہوتا ہے لیکن کبھی آپ نے سوچا ہے کہ دنیا کی سب سے مہنگی دوا کون سی ہے اور یہ کس مرض سے نجات کے لیے استعمال ہوتی ہے؟ آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ دنیا کی سب سے مہنگی دوا’سپائنل مسکولر اٹروفی‘ (Spinal mascular atrophy)نامی مرض کی ہے جو ’نوارٹس‘ (Novartis)نامی کمپنی بناتی ہے۔ یہ دوا ’ون ٹائم جین تھراپی‘ ہے جس کی قیمت 14کروڑ بھارتی روپے (تقریباً30کروڑ 67لاکھ پاکستانی روپے)ہے۔

سپائنل مسکولر اٹروفی نامی یہ مرض خاص طور پر نومولود بچوں کو لاحق ہوتا ہے اور انہیں معذور بنا دیتا ہے۔ یہ بہت نایاب مرض ہے جس کے کیسز انتہائی کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔ نوارٹس کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر ان کی دوا مریض پر اثر نہیں کرتی اور وہ صحت یاب نہیں ہوتا تو وہ انشورنس کمپنیوں کو ری فنڈ کی ادائیگی کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس دوا کی منظوری ’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن‘ نے 24مئی کو دی ہے۔ اس مرض کی ایک دوا پہلے سے مارکیٹ میں موجود ہے جس کا نام ’سپائنرزا‘(Spinraza)ہے تاہم یہ دوا مسلسل مریض کی ریڑھ کی ہڈی میں انجکشن کے ذریعے داخل کرنی ہوتی ہے جس سے اس کے مضراثرات بہت زیادہ ہوتے ہیں اور اس کے مسلسل استعمال کی وجہ سے اس پر لاگت بھی نوارٹس کی بنائی اس دوا سے 50فیصد زیادہ آتی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -