افطاری پر نہیں بلایا، غصے میں آکر 5 نوجوانوں نے فائر کھول دیا، 3 بچے ہلاک

افطاری پر نہیں بلایا، غصے میں آکر 5 نوجوانوں نے فائر کھول دیا، 3 بچے ہلاک
افطاری پر نہیں بلایا، غصے میں آکر 5 نوجوانوں نے فائر کھول دیا، 3 بچے ہلاک

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) افطار پارٹی میں نہ بلانے پر مشتعل ہو کر 5 ملزمان نے فائرنگ کرکے ایک گھر کے 3کم سن بچوں کو موت کے گھاٹ اتار ڈالا۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یہ ہولناک واقعہ بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر بلند شہر کے قریب واقع گاﺅں دھتوری میں پیش آیا جہاں ایک گھر میں افطارپارٹی کا اہتمام کیا گیا تاہم گھر والوں نے ملزمان کو دعوت نہ دی۔ جس پر ملزمان نے فائرنگ کرکے 8سالہ عبدل، 7سالہ عاصمہ اور 8سالہ علیبا کو قتل کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق تینوں بچوں کی لاشیں ایک ٹیوب ویل کے حوض سے ملیں۔ بتایا گیا ہے کہ تینوں بچے گرمی سے بچنے کے لیے ٹیوب ویل کے حوض میں نہا رہے تھے کہ وہیں ملزمان نے ان پر گولیاں برسا دیں۔ جائے واردات سے گولیوں کے متعدد خول برآمد ہوئے ہیں۔ملزمان میں سے تین کی شناخت مالک، بلال اور عمران کے ناموں سے ہوئی ہے۔ پولیس نے ان تینوں کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ باقی دو کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق افطار پارٹی کا انتظام مقتولہ علیبا کے والد حافظ عالم نے کیا تھا۔ ملزم مالک ان کا دور کا رشتے دار تھا اور ان کے درمیان جائیداد کا تنازعہ چل رہا تھا جس کی وجہ سے حافظ عالم نے اسے افطار پارٹی میں مدعو نہیں کیا تھا۔حافظ عالم کا کہنا تھا کہ ”ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ لوگ اس حد تک چلے جائیں گے۔ “ مقتول عبدل کے والد کا نام حکیم اور مقتولہ عاصمہ کے والد کا نام جمشیدتھا۔

مزید : بین الاقوامی