غربت کا خاتمہ کیسے کریں

غربت کا خاتمہ کیسے کریں
غربت کا خاتمہ کیسے کریں

  

اس سوال کے جواب کیلئے دور جانے کی ضرورت نہیں ہے بس چین کے غربت کے خاتمے کے ماڈلز کو دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اس وقت چین کی سال کی  سب سے بڑی سیاسی سگرمی دواجلاس جاری ہیں یعنی چین کی قومی عوامی کانگریس اور چینی قومی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے اجلاس ۔ان اجلاسوں میں کوووڈ ۱۹ کی وجہ سے بنی صورتحال کے تناظر میں اس سال جی ڈی پی کیلئے ہدف کاتعین نہیں کیا گیا۔ تاہم غربت کے خاتمے کے ہدف میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ،بلکہ غربت کے خاتمے کے ہدف پر زیادہ تاکید کی گئی۔

عوامی جمہوریہ چین نے ۲۰۲۰ تک ملک سے انتہائی  غربت کے مکمل خاتمے کا ہدف رکھا  ہے ۔ یاد رہے چین اب تک ستترکروڑ سے زیادہ غربت کی شکار آبادی کوغربت سے نجات دلاچکا  ہے۔گزشتہ سات سالوں کے  دوران دیہی علاقوں سے غربت کے خاتمے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے  اور اس مقصد کے حصول کیلئے بڑے  جامع ، تفصیلی اور  تخلیقی انداز میں  مختلف منصوبے تشکیل دیے گئے ہیں۔۲۰۱۲ میں چین میں دیہی علاقوں میں تقریبا سو ملین کے قریب غریب آبادی رہ رہی تھی ۔ غربت کے خاتمے کے مختلف منصوبوں کے تحت ۲۰۱۹ کے آخر تک ان کی تعداد صرف پانچ اعشاریہ پانچ ملین رہ گئی ہے ۔  غربت کے خاتمے کے منصوبوں کی نوعیت مختلف صوبوں اور علاقوں میں مختلف رہی ۔ جو علاقے زرعی لحاظ سے زر خیز تھے ان کی زراعت پر توجہ دی گئی ۔جو معدنی وسائل سے مالا مال تھے ان کے معدنی وسائل کو بروئے کار لایا گیا، جو قدرتی حسن سے مالا مال تھے ان میں سیاحت کو فروغ دیا گیا جو سمندر کے ساحل پر واقع تھے وہاں سی فوڈ اور بحری تجارت کو پروان چڑھایا گیا ۔اور ان علاقوں کو قومی دھارے کے ساتھ مربوط کیا گیا ۔اس وقت چین کے طول  وعرض میں ترقی اور غربت  کے خاتمے کے  سینکڑوں ماڈل موجود ہیں، جن سے کروڑوں کی تعداد میں لوگوں کو روزگار کے مواقع ملے ہیں۔

غربت کے خاتمے کے پروگرام کےتحت چین کے اہم مقاصد میں خوارک ،  لباس ، لازمی تعلیم ، بنیادی طبی دیکھ بھال، رہائش اور صاف پانی کی فراہمی شامل  ہیں۔

حکومت نے غربت کے خاتمے  کے حصول  کے دوران مقامی صنعتوں کے ذریعے معیشت کی ترقی پر توجہ مرکوز رکھی ، غربت کی تخفیف کی کوششوں کے اندر کرپشن کو روکنے اور تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں تبدیلی کی۔ اس کے  ساتھ ساتھ پسماندہ آبادی پر مشتمل علاقوں کی نشاندھی کرکے اندراج  کرکے ترقی دی گئی.اور ان علاقوں میں آباد غربت کے شکار افراداور گھرانوں کو مدد فراہم کی گئی  ۔

چونکہ زیادہ تر آبادی دیہی علاقوں میں رہ رہی تھی  اسلئے  چینی قیادت نے خصوصی توجہ دی کہ  ترقی کی دوڑ میں قدرتی ماحول متاثر نہ ہو اسلئے  سبز ترقی اور حیاتیاتی ماحول کی بہتری کا تصور پیش کیا گیا۔

پندرہ سال پہلے چینی صدر شی جن پھنگ نے  صوبہ زے جیانگ کے دورے کے موقع پر یو چھوں کے گاوں میں کھڑے ہوکر کہا تھا سر سبز پہاڑ سونا اور چاندی ہیں ۔ پندرہ سال بعد یو چھون آلودگی کے شکار  گاوں سے ایک اہم پر فضا سیاحتی مقام میں تبدیل ہو چکا ہے  ۔ شی جن پھنگ نے  پندرہ سال بعد  دوبارہ اس گاوں کادورہ کیااور ایک  بار پھر ملک میں سرسبز اور پائیدار ترقی کی اہمیت پر زور دیا ۔

اگر چہ کووڈ ۔۱۹ کی وجہ سے چین کے بہت شعبے متاثر ہوئے تاہم غربت کے خاتمے کے ہدف میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے غربت کے خاتمے کی کوششوں کا جائزہ لینے اور انہیں مقررہ وقت پر کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے  چینی صدرشی جن پھنگ ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کررہے ہیں ۔ گزشتہ دنوں انہوں  صوبہ شان شی کا دورہ کیا

ایک وقت تھا کہ صوبہ شان سی کے کوئلے سے آدھا ملک روشن ہو تا تھا ۔ لیکن صرف ایک کوئلے کی صنعت کے فروغ کے باعث مقامی معیشت کی ترقی کو مشکلات کا سامنا تھا ۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے کثیر جہتی اور متنوع ترقی کا ماڈل پیش کیا۔ شی جن پھنگ نے دورے کے موقع پر  کہا کہ وسائل سے مالامال علاقوں کی معاشی پوٹینشل اور ترقی کا ادراک اور صنعتی ترقی میں مختلف شعبوں کی ترقی کے لیے ساختی ڈھانچے کی تشکیل بہت ضروری ہے ۔ چینی صدر شی جن پھنگ حیاتیاتی تحفظ کے شعبے پربے حد توجہ دیتے ہیں اسلئے شان شی کے  صدر مقام تھائی یوان میں دریائے فین اور باقی نو دریاوں کے جامع انتظام کے جا ئزے کے موقع پر پہاڑ، آب و ہوا اور شہر کے حکومتی انتظام کو مربوط کرنے کی ہدایت کی  ۔ شی جن پھنگ نے غربت کے خاتمے کے سلسلے میں حاصل کردہ نتائج کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا ۔ اس دوران شی جن پھنگ نے  ڈا ٹھونگ کے نامیاتی زرد پھولوں کے مرکزکا دورہ کیا اور کہا کہ عوام پر توجہ مرکوز رکھتے  ہوئے غربت سے نکل آنے والے لوگوں کو دوبارہ غربت کا شکار ہونے سے بچانے کے لیےانتھک کوشش کی جائے ۔

شی جن پھنگ نے صوبہ شان شی کے تھائی یوان شہر کے دورے کے دوران روایتی مینو فیکچرنگ میں جدت کاری ، کاروباری اداروں کی سرگرمیوں کی بحالی اور ماحولیاتی تحفظ کے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا۔انہوں نے شان سی جامع اصلاحاتی مثالی زون اور اسٹیل کمپنی کا بھی  دورہ کیا۔دراصل غربت کے خاتمے کیلئے مختلف شعبوں کو آپس میں منسلک و مربوط کرکے ترقی کا راستہ اختیار کیا گیاہے ۔

دریائے فنگ حہ صوبہ شان شی میں بہنے والا سب سے بڑا دریا ہے ۔ گزشتہ سا لوں کے دوران دریا کے پانی اور شہر کے حیاتیاتی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کیا گیا ۔ اس وقت دریائے فنگ حہ  سے متصلہ علاقہ  صاف ستھرے ، خوبصورت اور دل کش مناظر کے حامل علاقے میں  تبدیل ہو چکا ہے۔ چینی صدر شی جن پھنگ صوبہ شان سی کے دورے کے دوران  ڈا ٹھونگ شہر کے ضلع یون جو کے نامیاتی زرد پھولوں کے مرکز ، سی پھنگ ٹاون کے فوانگ چھینگ گاوں پہنچے اور غربت کے خاتمے کے منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ نامیاتی زرد پھولوں کے مرکزمیں کھیتوں میں لہلہاتے  زرد پھولوں کادورہ کیا ، مقامی کسانوں میں گل مل گئے  اور ان سے ہلکی پھلکی گفتگو کی ۔ کسانوں نے کہا کہ مقامی کمپنیز کی رہنمائی میں زرد پھولوں کی پیداوار اورفروخت میں استحکام آیا ہے اور اس سے بہت سے خاندانوں کو غربت سے نجات ملی ہے ۔صدرِ شی جن پھنگ نے زرد پھولوں کی کاشت سے مقامی ترقی میں ہونے والی پیش رفت پر خوشی کا اظہار کیا ۔

صدر شی جن پھنگ کی مدبرانہ اورشاندار قیادت میں چینی حکومت کی ان کوششوں کے نتیجے میں کروڑوں چینی شہری غربت سے نجات پا چکے ہیں۔ ان کروڑوں لوگوں  میں سے ایک بائی گاو شان بھی ہیں۔ 

۶۷ سالہ بائی گاوشان کے خاندان کی زندگی  میں غربت کے خاتمے کے سفر کے دوران کئی خوشگوار لمحات آئے ۔ ایک لمحہ وہ تھا جب وہ غربت کے خاتمے کے لیے جاری نو آباد کاری کی پالیسی کے تحت اپنے  اہل خانہ  کے ساتھ نئے مکان میں منتقل ہوئے  ۔ پھر خوشحال ہوکر اپنے  30 سالہ بیٹے کی  شادی کرا لی اوراب  اسی  سال اُن کے ہاں پوتے کی ولادت ہوئی  ہے ۔ گیارہ مئی کو چینی صدر شی جن پھنگ صوبہ شان شی کے ضلع فانگ چھنگ شن چھون کے دورے کے دوران بائی گاو شان کے گھر تشریف لے گئے اور اُن کے ساتھ  گپ شپ کی ۔ ماضی میں بائی گاو شان اور ان کا خاندان  پرانے اور کچے مکان میں رہتاتھا ۔ان کی بیوی پولیومیلائٹس کے باعث معذوری کا شکار تھیں ۔ بائی گاو شان اور ان کے بیٹے کا کوئی  مستقل روزگار نہیں تھا اور اُن کی آمدن بہت  محدود تھی۔ تاہم  اس خاندان نے حکومت کے غربت کے خاتمے  کی پالیسوں سے فائدہ اٹھایا ، نئے گھر میں منتقل ہوئے ۔ بیگم کا طبی بیمے  کے تحت علاج ہونے لگا ۔ بیٹے نے بغیر کسی فیس کے فنی تربیت حاصل کی  اور ویلڈربن گیا ۔ اب اس خانداں کی آمدنی مستحکم ہوچکی ہے اور یہ لوگ ایک خوشحال زندگی بسر کررہے ہیں۔

غربت کے خاتمے کا سفر آخری مرحلے میں ہے ۔ فروری2020  تک صوبہ شان سی کی 58 کاونٹیز غربت سے  نجات حا صل کرچکی  ہیں۔ جب میں یہ سطور لکھ رہاتھا تو خبر آئی کہ مئی  میں ، ہوان جیانگ کاؤنٹی  بھی غریب علاقوں کی فہرست سےنکل آئی  ہے ماو نان چین میں کم آبادی والے 28 نسلی گروہوں میں سے ایک ہے۔ گوانگ سی خود اختیار علاقے میں واقع ہوان جیانگ کاؤنٹی ماو نان قومیت کا گنجان آباد علاقہ ہے ۔

انگریزی کا مقولہ ہے ۔NOTHING SUCCEEDS LIKE SUCCES چین کے غربت کے خاتمے کا سفر اسی مقولے کی مثال ہے۔

وزیر اعظم عمران نے اپنے چین کے دوروں کے دوران چین کے غربت کے خاتمے کے ماڈل کو بہت سراہا ہے اور پاکستان کے اندر چین کے ان  تجربات سے استفادہ کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے ۔

تاہم حکومت سے ہٹ کر بھی تھنک ٹینکس ، اداروں، سوشل سائسسز کے شعبوں اور میڈیا کو  اس طرف توجہ  دینے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کے سوشل سائنشز کے وہ طلباو طالبات جو چین میں حصول تعلیم کے خواہش مندہیں کو چاہیے کہ یہاں آکر غربت کے خاتمے کے مختلف ماڈلز کا مطالعہ کریں اوراپنے مشاہدات کی روشنی میں پاکستان میں اس طرح کے منصوبوں کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔ معاشرے کو خوشحال بنانے اور ملک کو غربت سے نکالنے کیلئے ان سے بہتر ماڈل دنیا میں کہیں نہیں ہیں۔   

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -