یوم تکبیر 

 یوم تکبیر 
 یوم تکبیر 

  

یہ واقعہ1987کا ہے جب اچانک 21فروری کو  جنرل ضیا الحق بن بلائے جے پور میں پانچ روزہ پاک بھارت ٹیسٹ میچ دیکھنے کے لیے جا پہنچے۔ بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کے لیے یہ صورتحال انتہائی ناگوار تھی لیکن فرار کی کوئی راہ جنرل ضیا نے چھوڑی ہی نہیں تھی۔ راجیو گاندھی نے استقبال کرتے ہوئے جنرل ضیا الحق سے انتہائی سرد مہری سے ہاتھ ملایا جبکہ اس کے برعکس جنرل ضیا الحق کے چہرے پر روایتی مسکراہٹ تھی۔ میچ سے واپسی پر دونوں کا آمنا سامنا ہوا تو راجیو گاندھی کا رویہ ایک بار پھر انتہائی سرد اور جنرل ضیا بہت پرجوش تھے۔ مصافحے کے لیے دونوں آگے بڑھے تو جنرل ضیا الحق نے راجیو گاندھی سے سرگوشی کے انداز میں کہا کہ ”مسٹر راجیو گاندھی! آپ پاکستان پر حملہ کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کیجیے۔ لیکن یاد رکھیئے کہ یہ روایتی نہیں، نیوکلیئر جنگ ہو گی“۔راجیو گاندھی کے ماتھے پر پسینہ آ گیا۔ جنرل ضیا کے الفاظ نے راجیو کو توڑ کر رکھ دیا تھا۔یہ ایٹمی طاقت ہی تھی جس کے باعث ہمارا ازلی دشمن بھارت خوفزدہ ہوگیا۔

یوں تو بھارت اپنے قیام سے ہی جنوبی ایشیا کا تھانیدار بننے کے خواب دیکھتا رہا ہے۔ بھارت 1974 میں ہی ایٹمی تجربہ کر کے خطے میں ایٹمی اسلحہ کی دوڑ شروع کر چکا تھا۔ مجبورا پاکستان کو بھی اپنے دفاع کے لیے اس دوڑ میں شامل ہونا پڑا۔ دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ پاکستان اپنے محدود وسائل کے باعث بھارت کے ساتھ روایتی ہتھیاروں کی دوڑ میں مقابلہ نہیں کر سکتا مزید یہ بھی کہ بھارت ایٹمی  قوت بننے  سے قبل ہی پاکستان پر جارحیت کرکے اس کو دولخت کرچکا تھا۔ ایٹمی قوت بن جانے کے بعد خطہ میں طاقت کا توازن بری طرح بگڑ گیا تھا۔ اس لیے بھارتی ایٹمی تجربات کے بعد پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا فیصلہ کیا۔انڈیا نے 11 اور 13 مئی 1998 کو یکے بعد دیگرے ایٹمی دھماکے کئے۔ دھماکوں کے بعد انڈیا کی جانب سے پاکستان کو دھمکی آمیز بیانات دیے جانے لگے، پاکستان کے سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے بھارت کو جواب دیے جانے کا مطالبہ ہوا، صورت حال کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی حکومت نے بھی ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا، جس پر متعدد ممالک پاکستان کو ایٹمی دھماکوں سے روکنے کے لیے آگے بڑھے۔ اس کے لیے مختلف طریقہ کار اختیار کیے گئے۔ یہ ایک کڑا وقت تھا، اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف پر بہت دباؤ تھا، لیکن جلد ہی حکومت نے دو ٹوک فیصلہ کر لیا اور دھماکوں کے لیے بلوچستان کے علاقے چاغی کی پہاڑی کو چنا گیا۔28 مئی 1998 کی صبح پاکستان کی تمام عسکری تنصیبات کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔ دھماکے کے مقام سے دس کلومیٹر دورآبزرویشن پوسٹ پر دس ارکان پرمشتمل ٹیم پہنچ گئی۔ تین بج کر 16 منٹ پر فائرنگ بٹن دبایا گیا جس کے بعد چھ مراحل میں دھماکوں کا خود کار عمل شروع ہوا۔پاکستان کی جانب سے ایٹمی دھماکوں کے بعد 28 مئی کو یوم تکبیر سے موسوم کیا گیا۔

28مئی 1998کے تاریخ ساز دن پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا د یا اور جس طرح 14اگست ایک یادگار اور ناقابل فراموش دن ہے۔اسی طرح 28مئی بھی ہمارے لئے اہمیت کا حامل ہے۔ جس روز ہم نے دنیا میں اپنی کھوئی ہوئی عزت وقار کو بحال کیا یہ دن بھی اسی شان و شوکت سے منانا چاہیے جس طرح ہم 14اگست مناتے ہیں۔ پاکستان نے چاغی کے مقام پر ایٹمی دھماکے کرکے ایٹمی کلب میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ یہ ایک ایسا کارنامہ تھا جس سے پوری پاکستانی قوم اور دنیائے اسلام کا سرفخر سے بلند ہوگیا۔ایٹمی دھماکوں نے بظاہر ہمارے دفاع کو مضبوط کیا اور برصغیر میں جنگ کے امکانات کو ختم تو نہیں لیکن بہت حد تک کم ضرور کیا۔ یہ اس خطے میں قیام امن کے لیے ایک بہت بڑا قدم تھا اور اس سنگ میل کو حاصل کرنے والے تمام پاکستان کے محسن اور سبھی کو اچھے الفاظ سے یاد رکھنے کی ضرورت تھی۔ ان سب کو عزت کا مقام ملنا چاہیے تھا۔  ایٹمی دھماکے کے فیصلے کے وقت دو راستوں پر غور تھا۔ پہلا راستہ دھماکہ نہ کرنے کا تھا جس کا ملک کو کافی بڑا معاشی فائدہ ہوسکتا تھا۔ صدر کلنٹن نے نواز شریف کو دھماکہ نہ کرنے کی صورت میں پانچ بلین ڈالرز کی اقتصادی امداد دینے کا وعدہ کیا۔ یہ بہت خطیر رقم تھی اور اس سے ملک کے کئی معاشی مسائل حل ہوسکتے تھے۔

دوسرا راستہ ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانا تھا اور اس وقت کی سویلین قیادت نے یہ راستہ چنا۔ایٹمی دھماکے پاکستان کی سلامتی اور بقا کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل تھے۔ 28مئی کو ایٹمی دھماکوں سے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہوگیا ہے اور اب دشمن پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات بھی نہیں کر سکتا۔ یوم تکبیر کسی حکومت نہیں، ہمارے ملک کا کریڈٹ ہے۔ گزشتہ چند سال سے یوم تکبیر کے حوالے سے سرکاری سطح پر کسی قسم کی تقریبات نہیں کی جا رہیں۔ ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہم اپنے اہم ترین دن جب پاکستان ایٹمی طاقت بنا اسے فراموش کر رہے ہیں۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اس سے ملک کی ترقی میں کردار ادا کرنے والے افراد اور ہمارے سائنسدانوں میں بھی جوش و جذبہ پیدا ہو گا۔ اگر ہم ان کی کاوشوں کو نہیں سراہیں گے تو ان کے حوصلے کم ہوں گے۔اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے یوم تکبیر کو بھرپور انداز میں منائیں۔

مزید :

رائے -کالم -