ٹک ٹا ک کی بندش نہیں چاہتے غیر اخلاقی مواد ختم کیا جائے: چیف جسٹس قیصر رشید

  ٹک ٹا ک کی بندش نہیں چاہتے غیر اخلاقی مواد ختم کیا جائے: چیف جسٹس قیصر رشید

  

 پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قیصررشید نے کہا ہے کہ ہم ٹک ٹاک کی بندش نہیں چاہتے ہم چاہتے ہیں کہ جو غیراخلاقی مواد اپ لوڈ کیا جاتا ہے اس کو ختم کیا جائے اگر اس میں کوئی معلوماتی وڈیو شیئر کی جاتی ہے تو یہ اچھی بات ہے دو رکنی بینچ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس قیصررشید اور جسٹس سید ارشدعلی پر مشتمل تھا عدالت میں پی ٹی اے کے وکیل جہانزیب محسود اور ڈائریکٹر ٹیکنکل عدالت کے روبرو پیش ہوئے جبکہ درخواست گزارہ خاتون وکیل سارہ علی اور نازش مظفرعدالت میں پیش ہوئی ڈائریکٹر پی ٹی اے نے عدالت کوبتایا کہ اب تک 81 لاکھ غیر اخلاقی ویڈیوز کو ڈیلیٹ جبکہ چار لاکھ غیراخلاقی ویڈیوز کو شئیر کرنیوالے اکاونٹس کو بلاک کردیا ہے جبکہ اکاونٹنٹ موڈریٹرزکی تعداد 116 سے بڑھا کر 476 کردی گئی ہے تاکہ ایسے مواد کی نشاندہی کی جا سکے جو غیراخلاقی ہو اور اس کو ڈیلیٹ کرنا ضروری ہو دوران سماعت پی ٹی اے کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل نے عدالت کو بتایا کہ اس حوالے سے بہت سے اقدامات اٹھائے گئے ہیں تاہم یہ ممکن نہیں کہ وڈیو کو اپ لوڈ کرنے سے پہلے سنسر کیا جائے کیونکہ جب وڈیو اپ لوڈ ہوتی ہے تو پھر اس کو سنسر کیا ہے جو کہ شکایت کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ باہر کے ممالک کے پاس بھی یہ ٹیکنالوجی نہیں جس پر جسٹس قیصررشید نے کہا کہ باہر کے ممالک کا اپنا کلچر ہے ہمار اپنا وہ ان چیزوں کیلئے اپ کو ٹیکنالوجی فراہم نہیں کرے گا اور نہ بنائے گا اپ خود اس بارے میں کام کریں فاضل بینچ نے غیر اخلاقی مواد آپ لوڈ کرنے والے اکاونٹس کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی اور  آئندہ سماعت پر رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 22 جون تک ملتوی 

مزید :

صفحہ اول -