یاسین ملک کو سزا بھارتی جبر کی تازہ  ترین مثال ہے، منیر اکرم 

یاسین ملک کو سزا بھارتی جبر کی تازہ  ترین مثال ہے، منیر اکرم 
یاسین ملک کو سزا بھارتی جبر کی تازہ  ترین مثال ہے، منیر اکرم 

  

اقوام متحدہ (طاہر محمود چوہدری سے)  اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے سلامتی کونسل میں عام شہریوں کے تحفظ پر ہوئی کھلی بحث میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ "کشمیری رہنما یاسین ملک کی بھارتی کینگرو کورٹ کی طرف سے آج کی سزا بھارتی جبر کی تازہ ترین مثال ہے، جیسا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ "بھارت یاسین ملک کو قید کر سکتا ہے لیکن وہ آزادی کے تصور کو کبھی قید نہیں کر سکتا، جس کی وہ علامت ہے". 

منیر اکرم کا کہنا تھا کہ "یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر  میں بھارت کی 9 لاکھ فوج کا مقصد کشمیری عوام کی آزادی اور ان کے جائز حقِ خودارادیت کے مطالبے کو دبانا ہے، جو سلامتی کونسل کی قراردادوں میں ان سے وعدہ کیا گیا تھا. 5 اگست، 2019 سے، بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر کے ہر شہر، قصبے، گاؤں اور محلے میں تعینات کیے گئے ہیں، جسے بھارتی رہنما جموں و کشمیر کا "حتمی حل" کہتے ہیں. 

انہوں نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں. معصوم کشمیریوں کا عدالتی ماورائے عدالت قتل کیا جاتا ہے. انہیں اجتماعی سزائیں دی جاتی ہیں. سارے کشمیری محلوں اور گاؤں کی تباہی کی گئی ہے. پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد، بشمول "پیلٹ گن" کا استعمال کیا جاتا ہے جس نے سینکڑوں کشمیری بچوں کو نابینا کر دیا ہے اور 13 ہزار نوجوان کشمیری لڑکوں اور پوری کشمیری سیاسی قیادت کی من مانی نظربندیاں کی گئی ہیں. 

دوسرے استعمار کی طرح، بھارت نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے. بھارت کی طرف سے اس جائز تنازع کو دبانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور جنگی جرم ہے. ہم مسلح تصادم میں شہریوں کی حفاظت پر سلامتی کونسل کے اس اہم سالانہ مباحثے کی میزبانی کرنے پر امریکی وفد کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اور تمام بریفرز کی عملی مداخلت پر شکریہ ادا کرتے ہیں." 

سفیر منیر اکرم کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ "اپنے قبضے کو مستحکم کرنے کے لیے، بھارت نے چوتھے جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کو مسلم اکثریتی ریاست سے ہندو اکثریتی علاقوں میں تبدیل کرنے کا آغاز کیا ہوا ہے. بھارتی حکام اپنے نام نہاد "حد بندی کمیشن" کے ذریعے غیر کشمیریوں کو لاکھوں جعلی ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کر رہے ہیں. 

سری نگر میں مسلمانوں کی نمائندگی کو کم کرنے اور بی جے پی/ آر ایس ایس کی کٹھ پتلی حکومت قائم کرنے کے لیے ان کی زمینیں ضبط کر کے فروخت کر رہے ہیں. پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور تنازع کا خطرہ اس وقت تک رہے گا، جب تک جموں و کشمیر کا تنازعہ حل نہیں ہو جاتا. 

سیکرٹری جنرل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے: "جوہری تصادم کا امکان، جو کبھی ناقابل تصور تھا، اب امکان کے دائرے میں واپس آ گیا ہے". اس مشاہدے کا اطلاق نہ صرف یوکرین کے خطرناک تنازعے پر ہوتا ہے، بلکہ جوہری توانائی سے مالا مال جنوبی ایشیا پر بھی ہوتا ہےلہٰٰذا، پاکستان سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل پر زور دیتا ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کو نظر انداز نہ کریں. اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر تنازعہ کے منصفانہ اور پرامن حل کو فروغ دینے کے لیے سفارت کاری اور سیاسی عزم کو متحرک کیا جائے."

پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کا افغانستان کے حوالے سے کہنا تھا کہ"پاکستان، پڑوسی اور دیگر ممالک کے ساتھ، دہشت گرد گروپوں سے لاحق خطرات سمیت تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے عبوری افغان حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے. پائیدار، صبر و تحمل اور دانشمندانہ مصروفیت کے ذریعے ہی عالمی برادری ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کے مشترکہ مقاصد حاصل کر سکتی ہے. 

40 سال کی لڑائی کے بعد اب افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی کی بحالی کا موقع ہے. ایک حکومت پورے ملک کو کنٹرول کر رہی ہے. کوئی خانہ جنگی نہیں ہے. اور کوئی شہری جانی نقصان نہیں ہوا. ہم سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کی افغانستان میں وسیع انسانی آپریشن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہیں. اس نے لاکھوں افغان عوام کی جانیں بچائی ہیں.

مزید :

بین الاقوامی -