33سستے اتوار بازار بند، سٹال ہولڈرز سراپا احتجاج ،شہریوں کی دہائی

  33سستے اتوار بازار بند، سٹال ہولڈرز سراپا احتجاج ،شہریوں کی دہائی
  33سستے اتوار بازار بند، سٹال ہولڈرز سراپا احتجاج ،شہریوں کی دہائی

  

 لاہور(عامر بٹ سے) ضلعی انتظامیہ  کی عدم توجہی کے سبب مہنگائی سے ستائے عوام کو ریلیف دینے کے لئے 33 سستے اتوار بازار بند کر دیے گئے،شہریوں کی دہائی، شادمان اور گلشن راوی اتواربازاروں کے درجنوں سٹال ہولڈرز نے ڈی سی آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ سستے اتوار بازاروں کو بحال کیا جائے۔واضح رہے کہ کئی دہائیوں سے قائم اتوار بازاروں کی پہلی بار بلا جواز بندش سے نہ صرف لاکھوں عارضی سٹال ہولڈرز کا معاشی قتل کیا گیا  بلکہ عوام ایک ہی چھت تلے جہاں اوپن مارکیٹ کی نسبت سستے سبزیوں و پھلوں سمیت دیگر اشیاء سے محروم ہوئے وہیں ضلعی حکومت بھی ایک بڑے ریو نیو سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے۔تفصیلات کے مطابق سستے اتوار شہر کے پسماندہ علاقوں سمیت پوش علاقوں میں بھی لگائے جاتے تھے۔جس کے انتظامات ٹاؤنز انتظامیہ سمیت مختلف سرکاری ادارے سر انجام دیتے تھے اور عام تعطیل کے دن ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لاکھوں شہری مہنگائی کے اس دور میں ریلیف حاصل کر تے تھے۔بتایا گیا ہے کہ رمضان المبارک میں رمضان بازاروں کے انعقاد سے پہلے ہی سستے اتوار بازار بند کر دیے گئے۔ جس پر لاہور کے ٹاؤنر کے ٹی ایم اوز نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ان بازاروں میں لاہور کے گردو نواح سمیت شیخوپورہ، قصور، رائے ونڈ، اوکاڑہ، فیصل آباد، مریدکے، کامونکی، گجرات، گوجرانوالہ اور وزیر آباد سمیت پنجاب کے مختلف دیہی علاقوں سے سینکڑوں عارضی سٹال ہولڈرز سبزیاں و پھل سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کے سٹالز لگا کر اپنے اہل خانہ و خاندان کا پیٹ پالتے تھے وہیں مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے سرکاری نرخ نامے پر اشیاء کی فروخت سے صارفین عام مارکیٹ کی نسبت سستے داموں اشیاء خرید کر مہنگائی کے اس دور میں قدرے ریلیف حاصل کر رہے تھے۔ عوامی حلقوں کے نمائندوں اور سٹال ہولڈرز نے وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے مطالبہ کیا ہے کہ سابق دور حکومت میں بند ہونے والے اتوار بازاروں کا نوٹس لیں اور عوامی ریلیف کے لیے قائم کیے جانے والے اتوار بازاروں کی بحالی کرتے ہوئے ان کو فنگشنل کیا جائے تاکہ شہریوں کو سستی اشیاء کا حصول ممکن ہو سکے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -