یہ لازم تو نہیں ہے ...

یہ لازم تو نہیں ہے ...
یہ لازم تو نہیں ہے ...

  

 ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم

 ایک دفعہ ایک چھوٹا بچہ اپنی والدہ کے ساتھ ایک بڑے سٹور میں داخل ہوا ۔ ماں گھر کی چیزیں خریدنے میں  مصروف ہو گٸی اور بچہ کڈز سیکشن میں کھلونوں کے دیکھنے جھولے جھولنے لگا ۔ بچہ کھلیتے کھیلتے پرندوں اور جانوروں کے سیکشن میں جا کر رنگ برنگے پرندے دیکھنے لگا ۔ اچانک اسے بلی کے3 بچے نظر آۓ جو بہت ہی خوبصورت تھے ان کی آواز بچے کے دل کو لبھانے لگی ۔ بچہ بلی کے بچوں کے پنجرے کی طرف بڑھا اور ان سے شرارتیں کرنے لگا ۔ اچانک بچے کو ایک اور جانب سے بلی کے بچے کی آواز سناٸی دی اسے ایسا محسوس ہوا جیسے کوٸی اور اسے بلا رہا ہے ۔ بچے نے اس جانب دیکھا اور آہستہ آہستہ چلتے ہوۓ اس پنجرے کی طرف دیکھا ۔ بلی کے اس بچے کو تنہا دیکھ کر بچے کو اس پر بہت پیار آیا ۔ دکاندار سے اسے پنجرے سے نکالنے کی فرماٸش کی ۔ دکاندار نے اسے بلی کا بچہ نکال دیا مگر ساتھ ہی کہا پیارے بچے آپ اس سے کھیلنا چاہیں تو اجازت ہے مگر یہ براۓ فروخت نہیں ۔ بچے نے بلی کے بچے سے کچھ دیر دل بہلایا اور اسے پنجرے میں چھوڑ کر کاؤنٹر پر آگیا اور کہا مجھے یہ بچہ خریدنا ہے ۔ دکاندار نے کہا مگر ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ یہ براۓ فروخت نہیں ۔ بچہ بضد ہوا لیکن مجھے تو یہی خریدنا ہے ۔دکاندار پیارے بچے آپ اس کے علاوہ3 بچوں کو دیکھ چکے ہیں وہ اس جیسے ہیں آپ ان میں سے کو ئی خرید لیں یہ بچہ ہم اس لیے فروخت نہیں کر سکتے کہ یہ پیدائشی ایک ٹانگ سے معذور ہے ۔ بچے نے کہا لیکن میں تو آپ کو اس کی قیمت مکمل پیش کروں گا ۔ دکاندار نے کہا ٹھیک ہے جیسے آپ کا حکم ہو ۔ بچے نے دکاندار کو 2ڈالر پیش کیے اور باقی  ڈالر لینے اپنی والدہ کی طرف بڑھا ۔ والدہ سے بقیہ رقم لے کر اپنی والدہ کے ساتھ جب دکاندار کے پاس پہنچا تو دکاندار نے کہا میم آپ کا بچہ بلی کا یہ معذور بچہ خریدنے کی ضد کر رہا ہے ۔ ہم اسے صاف لفظوں میں سمجھا چکے ہیں کہ اس قیمت میں آپ تندرست بچہ خرید سکتے ہیں پھر یہی کیوں خریدنے کی ضد کر رہے ہیں ۔ بچے نے اپنی ماں کی طرف دیکھا اور اپنی دائیں ٹانگ سے کپڑا اٹھایا تو دکاندار یہ دیکھ کر حیران ہو گیا کہ بچے کی وہ ٹانگ مصنوعی ہے ۔ادھر بلی کے بچے کی بھی دائیں  ٹانگ نہیں تھی ۔ دکاندار نے 2ڈالر بھی واپس کر دئیے اور کہا یہ بلی کا بچہ آپ کا دوست بن گیا ہے اور ہم دوستی کی قیمت نہیں لیتے یہ ہماری طرف سے تحفہ رکھ لیجیے ۔

یہ لازم تو نہیں کہ اللہ ہمیں تکلیف دے کر ہی آزماۓ ۔ یاد رکھیں کبھی کبھی اللہ بغیر تکلیف کے بھی آزماتا ہے ۔ اچھا انسان وہ ہے جو اپنے اچھے ایام میں بنا ء کسی لالچ کے دوسروں کا درد محسوس کرے ۔ اپنے اردگرد غور کریں آپ کو بہت سے خاموش لوگ نظر آئیں  گے جنہیں معاشرے نے اپنے سے الگ کر دیا ہے ۔ جو ذرا سی محبت مدد مشورے حوصلے یا اک چھوٹی سی مسکراہٹ کے منتظر ہیں ۔ کبھی کبھی ہم کسی کو کچھ نہیں دے پاتے بس ایک دلاسہ ہی کسی کو زندگی دے دیتا ہے ۔ درد سمجھنے والا بنیں تکلیف تو ہر کوئی  دے دیتا ہے ۔ یہ لازم تو نہیں کہ آپ کو تکلیف پہنچے تو ہی آپ دوسروں کا درد سمجھیں گے ۔ ہم انسان بہت نرم دل ہیں اور بہت جلد کسی کی تکلیف پر ہمارے آنسو بچھڑ جاتے ہیں کسی کے مرنے پر ہم خود کو بے جان محسوس کرنے لگتے ہیں ۔ یہ اچھی بات ہے مگر ہم آپ کی توجہ اس طرف دلانا چاہتے ہیں کہ لازمی نہیں درد کی آہ و بکا سن کر ہی آپ ترس کھائیں  ۔ کسی کی آنکھ کے آنسو بہے بنا ء اس کا درد محسوس کیجیے ۔ خدا کو اپنی مخلوق سے بہت پیار ہے آپ بھی پیار کیجیے ۔  انشاء اللہ وہ آپ سے پیار کرے گا ۔ آسانیاں بانٹنے والا بنیے اللہ آپ کو آسانیاں عطا کرے گا۔ جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گڑگڑاۓ بغیر ہماری خواہشات پوری ہوں ۔ ہمیں بن مانگے ہی عطا ہو جاۓ ہماری مشکل میں کوئی  معجزہ ہو جاۓ ہماری مدد کی کوئی کرامت ہو جاۓ ۔ آپ کسی کے لیے وہ معجزہ وہ کرامت بن جائیں  ۔ خدا آپ کی نصرت فرماۓ گا ۔اگر آپ اتنا حاصل کر رہے ہیں جس سے آپ پر سکون ہیں اور مزید حاصل کرنے کا وقت بھی رکھتے ہیں تو ضرور کیجیے مگر دوسروں کے سکون کے لیے ۔ اپنے رزق وقت ہمت خوشی اور اچھائی  سے دوسروں کو کچھ دیتے رہیں۔

مزید :

بلاگ -