گاو ں کے لوگ اجنبی سیّاحوں کو دیکھ کر جِنّوں پریوں کی طرح کہیں چھپ جاتے ہیں

گاو ں کے لوگ اجنبی سیّاحوں کو دیکھ کر جِنّوں پریوں کی طرح کہیں چھپ جاتے ہیں
گاو ں کے لوگ اجنبی سیّاحوں کو دیکھ کر جِنّوں پریوں کی طرح کہیں چھپ جاتے ہیں

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط :86

 سڑک ہموار اور بالکل خا لی تھی۔ دائیں ہاتھ ایک وسیع میدان میں دریا گہرائی میں بہتا تھا اور بائیں ہاتھ پہا ڑ تھے۔ گا ڑی کے انجن کے مدھم شور اور موسیقی کی ہلکی آواز کے سوا مکمل خاموشی تھی۔ میں نذیرسے محو ِ گفتگو تھا اور باقی دوست منظر میں گم تھے کہ نذیر نے گا ڑی روک لی۔ سامنے حسینی گاو ں میں دا خل ہو نے والا کچا راستہ تھا۔ اپنے بیگ جیپ ہی میں چھو ڑ کر ہم نیچے اتر آ ئے اور گاو ں کو جانے والے راستے پر چڑھنے لگے۔ نذیر جیپ کے پاس ہی رک گیا اور سڑک کنارے پتھر پر بیٹھ کر سگریٹ کے کش لگا نے لگا۔ 

حسینی ہمیشہ کی طرح بے آباد اور خا موش تھا۔ پتھرکی چار دیواریوں میں کھیت تھے، کھیتوں میں در ختوں کے نیچے بندھی کوئی کوئی گائے تھی، جو اپنے گرد و پیش سے لا تعلق چارا کھاتی یا جگا لی کر تی تھی۔ گھر تھے، گھروں کی کھلی کھڑکیوں سے اندر ایسا سامان رکھا نظر آتا تھا جو عام انسان استعمال کر تے ہیں، برتن، پلنگ، ٹی وی وغیرہ لیکن خود انسان کہیں نہیں تھے۔ کسی کسی چھت پر ڈش انٹینا کا بڑا تھال بھی نظر آتا تھا۔ گاو ¿ں میں داخل ہو کر فورا ً اترائی شروع ہو جاتی ہے۔ حسب ِ معمول یہاں اتنا سنا ٹا تھا کہ ہم بھی اس کے اثر سے خا موش ہو گئے تھے اور ایک دوسرے سے بات کیے بغیر ایک قطار میں چپ چاپ چلے جاتے تھے۔ یو ں لگتا تھا کہ گاو ¿ ں کے لوگ اجنبی سیّاحوں کو دیکھ کر جِنّوں پریوں کی طرح کہیں چھپ جاتے ہیں۔ میں اس تجربے اور راستے سے پہلے بھی گزر چکا تھا اس لیے دوسروں سے آ گے چل رہا تھا۔بس تھوڑے فا صلے پر وہ پُل تھا جسے دیکھنے کی تمنا ہم سب کو تھی اور طاہردس سال سے یہ آرزو دل سے لگا ئے ہوئے تھا۔ اس پل پر آنا طاہر کا خواب تھا اور آج اس خواب کی تعبیر ملنے والی تھی۔ اس زندگی میں ایسے کتنے خواب ہو سکتے ہیں جن کی تعبیر بھی مل سکے۔ ایسے لمحے بہت کم یاب اور قیمتی ہو تے ہیں جب خواب حقیقت بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک کم یاب اور قیمتی لمحہ اگلے مو ڑ پر ہمیں ملنے ولا تھا۔ شدت ِ خوشی سے میرا دل تیز دھڑ کنے لگا تھا۔۔۔گاو ¿ ں کے دوسرے سرے پر راستہ دائیں گھوم کر بائیں مڑا اور وہ پُل ہمارے سامنے تھا لیکن۔۔۔

شکست ِ خواب۔۔۔ :

جہاں زمین ختم ہو تی تھی اور بہت نیچے سرمئی دریا بہتا تھا اور دریا کے پار زر آباد کے خا کی سلیٹی پہا ڑ تھے۔ اس دریا کے اوپرزمین کے اِس ٹکڑے کو دریا پار والے زمین کے ٹکڑے سے ملانے والے معلق پُل کی جگہ صرف آ ہنی تار تھے۔ جن تختوں پر ہم ڈرتے کانپتے،چلنے کی آرزو رکھتے تھے اور اس خلا ءکے پار جا نا چاہتے تھے وہ تختے غائب تھے۔ کو ئی ایک تختہ بھی نہیں تھا۔ لوہے کے تار آپس میں الجھ کر گچھے بن گئے تھے۔ پرانا پُل جو پہلے ہی تباہ شدہ تھا اس کے تا روں میں لکڑی کے دو تین ٹکڑے، جو کبھی تختے ہوا کرتے ہوں گے، پھا نسی لگے مردہ جسموںکی طرح جھو لتے تھے۔ پچھلی بار میں آ یا تھا تو پل دریا سے بہت اونچاتھا لیکن اب دریا کا پانی اتنابلند ہوچکا تھا کہ پل کے وسط میں بھاری آ ہنی رسّے پا نی میں ڈو بے ہو ئے تھے۔ زمینی پھسلاوسے مشتعل ہو نے والا دریا گھروں اور بستیوں کے ساتھ را ستوں اور پُلوں کو بھی بہا لے گیا تھا۔

ہم سب چپ کھڑے تھے اور دریا کو اور پُل کی جگہ باقی رہ جانے والے لو ہے کے مو ٹے رسّوں کو دیکھتے تھے۔ کچھ کہنے کو تھا بھی نہیں، جو کچھ تھا وہ ہما رے سا منے تھا، ایک ٹو ٹے ہو ئے خواب کا ملبا۔ ایک تعبیر جو خواب کے با لکل الٹ تھی۔ اس خواب کی جو صرف ایک خواب رہ گیاتھا۔ بانجھ خواب، جس کی کوکھ میں کو ئی تعبیر نہیں پلتی!!! ندیم اور سمیع کے چہروں پر ما یو سی تھی لیکن طاہر کے چہرے پر گہرا رنج تھا۔ 

”میں نے 10 سال یہاں آ نے کا انتظار کیا تھا!“

 اس نے پُل کی جگہ پرجھو لتے تاروں پر نظر جمائے جمائے زیرِ لب انگریزی میں کہا اور پھر چُپ ہو گیا۔ ایسا لگتا تھا جیسے دکھ اور ما یو سی کا بھالااس کے دل کے اندر بہت گہرا اتر گیا تھا۔مجھے اس کی بات کا جواب دینے کی ہمت نہیں ہو ئی اور میں بھی خا موش رہا۔خواب چھو ٹا ہو یا بڑا اس کی شکست کا لمحہ بڑا بھا ری ہوتا ہے۔ 

”چلیں؟“ کچھ لمحے یوں ہی خا موش کھڑا رہنے کے بعدمیں نے کسی کو مخا طب کیے بغیر پو چھا اور جواب کا انتظار کیے بنا واپسی کے را ستے پر قدم بڑھا دیے۔ 

نذیر اسی طرح پتھر پر بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔ ہمیں دیکھ کر اس نے جیپ سٹارٹ کی اور ہم پسُو کی طرف چل پڑے۔ یقیناً نذیر کو پہلے ہی علم تھا کہ پل ٹوٹ چکا ہے لیکن اس نے ہمیں بتانے کی زحمت نہیں کی تھی۔ ڈارئی ور کا کام پیسے کمانا ہے راہ نمائی کرنا نہیں۔ 

 ”یہ پُل دوبارہ بنے گا؟“میں نے ایک امید کے ساتھ اس سے پو چھا۔ 

”بنے گا،لیکن ابھی تو بہت مشکل ہے۔“ نذیر نے جواب دیا۔ 

”مشکل کیوں ہے؟“ میں نے اگلا سوال کیا۔

”اودر ایک پُل تھا جو ختم ہو گیا توگورمنٹ نے لو گوں سے بولا کہ اپنی مدد آپ کے ذریعے پُل بناو ¿ جو لا گت آ ئے گا گو رمنٹ دے دے گا۔“ 

”پھر؟“

”پھر لو گوں نے خود محنت سے بنایا۔ اس پر 28 لاکھ رو پیہ لاگت آیا مگر حکو مت کا ٹھیکے داربو لتا ہے کہ 8 لا کھ رو پیہ لے لو۔“ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -