سوفسطائی اس دنیا کی لذتوں کو بے تحاشا استعمال کرنے میں یقین رکھتے تھے۔ ان کے سامنے کوئی خاص مقصدِ حیات نہ تھا

سوفسطائی اس دنیا کی لذتوں کو بے تحاشا استعمال کرنے میں یقین رکھتے تھے۔ ان کے ...
سوفسطائی اس دنیا کی لذتوں کو بے تحاشا استعمال کرنے میں یقین رکھتے تھے۔ ان کے سامنے کوئی خاص مقصدِ حیات نہ تھا

  

مصنف : ملک اشفاق

 قسط :10

 سقراط کے فلسفے کا نقطہ آغاز

سقراط کی زندگی میں کوئی بے اعتدالی نہ تھی اس طرح اس کے فلسفے میں بھی ایک خاص اعتدال تھا سقراط کے فلسفے کا آغاز بہت ہی رومانی اور عجز وانکساری سے لبریز تھا۔سقراط کا کہنا تھا ”ایک بات میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا“سوفسطائی اپنے علم پر بہت مغرور تھے۔ ان کا دعویٰ تھاکہ وہ تمام علوم پر دسترس رکھتے ہیں، جبکہ ایسا نہ تھا، سوفسطائی اپنے سطحی علم سے اپنے شاگردوں کو حقیقت سے دورلے جا رہے تھے۔سقراط کے بارے میں ڈیلفی کے ”ہاتفِ غیبی“ نے بھی واشگاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ ایتھنز میں سقراط سے زیادہ دوسرا کوئی شخص عقل مند نہیں ہے۔

ایتھنز کے عظیم مندر سے ایسی کہی گئی بات کسی شخص کو مغرور بنا دینے کیلئے کافی سے زیادہ ہے لیکن سقراط کی انکساری کا یہ عالم تھا کہ وہ اس آواز کے بارے میں کہتا تھا شاید یہ میرے نام کی تمثیل ہے۔ اس نے کبھی غرور اور تکبّر سے اپنے آپ کو آلودہ نہیں ہونے دیا۔اس بات جو کہ صدیوں گزرنے کے باوجود ہر طبقے کے لوگ دہراتے ہیں۔ وہ ہے سقراط کا علم و فضل جس سے کسی کو بھی انکار نہیں ہے۔دراصل اس کی زندگی کا مقصد ہی سچائی اور صداقت تک پہنچنا تھا۔ اس نے سچائی کو پا کر اپنے آپ کو ابدی کر لیا۔ اس کے مخالفین اس کو موت کے گھاٹ اتا رکر بھی اس کی دریافت شدہ سچائی کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔

اپنے آپ کو پہچانو (Know Your Self):

سوفسطائی کہتے تھے ”اپنے آپ کو استعمال کرو“ سوفسطائی اس دنیا کی لذتوں کو بے تحاشا استعمال کرنے میں یقین رکھتے تھے۔ ان کے سامنے کوئی خاص مقصدِ حیات نہ تھا۔ اس لیے وہ اپنے آپ کو استعمال کرنے کا نعرہ استعمال کرتے تھے۔لیکن سقراط نے اپنے فلسفے کی بنیاد فطری قواعد اور سچائی پر رکھی تھی۔ اس لیے اس نے کہا تھا ”اپنے آپ کو پہچانو“ "Know your self" اپنے آپ کا پہچاننے کا مطلب ہے اپنے حقوق و فرائض کے متعلق جانو اور اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرو اور جو تمہارے فرائض ہیں ان کو پوری صلاحیت اور ایمانداری سے ادا کرو تاکہ اس دنیا کو خوب سے خوب تر بنایا جا سکے۔

اپنے آپ کو پہچانو کا یہ بھی مطلب ہے کہ ہم دوسری مخلوقات سے بطور انسان اپنے موازنہ کریں۔ اس سے انسان کو معلوم ہو گا کہ وہ اشرف المخلوقات ہے اور دیگر تمام مخلوقات سے اس کا مقام اعلیٰ ہے۔اس طرح انسان کو اپنی صلاحیتوں کا ادراک ہو گا۔ اس کائنات میں انسان کو جو اپنا کردار اداکرنا ہے۔ اس کو ادا کرنے میں ایسے تعین کرنا آسان ہو جائے گا۔

اپنے آپ کو پہچانو کا یہ بھی مطلب ہے کہ انسان کو اپنے وجود اور داخلی حوالے سے ادراک کرنا ہو گا کہ اس کی تخلیق کیونکر ہوئی۔ اس لیے انسان کو غرور تکبر اور فخرِ بے جا سے اجتناب کر کے عجزوانکساری کا مظاہرہ کرنا چاہیے جو کہ سقراط نے خود بھی اس بات کا عملی مظاہرہ کیا اور کہا میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا۔کچھ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ یہ فقرہ سقراط کا نہیں بلکہ ایتھنز کے سب سے بڑے اور قدیم دیوتا زیوس (Zeus) کے مندر میں لکھا ہوا تھا اور سقراط نے اس کو وہیں سے لیا ہے۔ نیکی کے ماہر وہ لوگ نہیں ہیںجو نیکی کی تعلیم دیتے ہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو خود نیک ہیں:

سقراط نے یونان کے قدیم علوم سے پوری واقفیت حاصل کی تھی۔ اس نے ہومر کی رزمیہ نظموں کو بطور نصاب بھی پڑھا تھا اور بطور قدیم تاریخِ یونان بھی۔ اس کے علاوہ اس نے ایتھنز کے سوفسطائیوں سے بھی چند دن کچھ سیکھنے کی کوشش کی تھی۔ اس نے ایتھنز جیسے شہر میں رہتے ہوئے اپنے مشاہدے، بصیرت اور تجربے سے نتیجہ اخذ کیا تھا کہ کچھ لوگوں کے قول اور فعل میں بہت زیادہ تضاد ہوتا ہے۔اس لیے یہ کہنا صحیح نہ ہو گا کہ جو شخص نیکی کی تعلیم دیتا ہے اور نیکی کا پرچا کرتا ہے وہ خود نیک بھی ہو اس طرح ہم صرف اس شخص کو نیک کہیں گے جو ہر حالت میں ہمیشہ نیکی کا عملی پیکر ہو۔

سقراط ایتھنز میں جہاں کہیں بھی جاتا نیکی کے متعلق سوال ضرور کرتا۔ دراصل سقراط نیکی کو انسانوں میں ابدی طور پر دیکھنا چاہتا تھا لیکن اس نے نیکی پر گفتگو کرنے والوں اور نیکی کا پرچا کرنے والوں میں نیکی کو تلاش بھی کیا۔جب اسے ان لوگوں میں عملی طور پر ابدی نیکی نظر نہ آئی تو پھر اس نے نتیجہ اخذ کیا کہ نیک صرف وہی لوگ ہیں جو عملی طور پر نیک ہیں۔ سقراط بہادری، شجاعت اور سخاوت کو انسان کے نیک ہونے کی حقیقی علامت قرار دیتا ہے۔ (جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -