ریاست سے پنگا لینے کا انجام

ریاست سے پنگا لینے کا انجام
ریاست سے پنگا لینے کا انجام

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ریاست کی اگر تعریف کی جائے تو اس کے لئے بڑا وقت درکار ہے پاکستان میں اس اصلاح عام میں ”ریاست میری ماں جیسی“ چل رہا ہے، میرے خیال میں اس سے مقدس اور پاکیزہ اصلاح کوئی اور نہیں ہو سکتی، ریاست اور عوام کا ساتھ تعلق بھی دائمی ہوتا ہے۔ 9مئی کے واقعات عام واقعات نہیں ہیں یہ وہ حادثہ  تھا جس نے ریاست کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ عمران خان کی سیاست یا9مئی کے سانحہ کو ایک فقرے میں لیا جائے تو کہا جا سکتا ہے ”عمران خان نے اُڑتا تیر……“۔ اِس بات میں بھی دو رائے نہیں ہے قیام پاکستان سے آج تک پاکستان کے خلاف جاری سازشیں مہم جوئی کا شاخسانہ ہے۔بلوچ تحریک، بلوچستان تحریک طالبان، پختون تحریک یا دوسری تحریکیں کسی نہ کسی انداز میں دشمن ہماری قوم کو اخلاقی طور پر دیوالیہ کرنے اور پاک فوج کی عوام میں پائی جانے والی محبت میں رخنہ اندازی کے لئے مصروف عمل رہا ہے۔سندھ میں اٹھنے والی تحریکیں کراچی کی عوام سے کھلواڑ تاریخ کا حصہ۔میں ذاتی طور پر اس نتیجہ پر پہنچا ہوں دشمن اگر کہتا ہے پاکستانی بڑا سستا بکتا ہے یا کہا جا رہا ہے پاکستانی پیسے کے لئے اپنی ماں کو بھی فروخت کر سکتا ہے تو غلط نہ ہو گا اس کی مثال کینیڈا کا ویزہ حاصل کرنے کے لئے دین کا سودا کرنے کی بے شمار مثالیں موجود ہیں،9مئی کے سانحہ کو اگر تاریخ کے آئنہ میں دیکھا جائے تو یہ وہ سیاسی چال قرار دی جا سکتی ہے جسے آج کل بیانیہ کا نام دیا جاتا ہے۔گزشتہ دہائی کی سیاست بیانیہ کی بھینٹ چڑھی ہوئی ہے پی ڈی ایم کا قیام۔ عمران خان کی طویل جدوجہد، ایم کیو ایم کی تاریخ کا اتار چڑھاؤ، تحریک لبیک کا قیام اور بیانیہ بڑی مثالیں دی جا سکتی ہیں آج کے کالم کا عنوان سوچ سمجھ کر نہیں رکھا بلکہ9مئی سے 25مئی یوم شہداء تک کے واقعات کا تسلسل ہے جس نے مجھے یہ عنوان رکھنے پر مجبور کر دیا ہے اور سیاسی جماعتوں کی مختلف ادوار میں کی جانے والی جدوجہد، برپا کی جانے والی تحریکیں اور اپنائے گئے نظریہ ضرورت کا پنڈورا بکس کھول کر رکھ دیا ہے آج تک ہونے والے انتخابات کا ترتیب وار جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے الیکٹیبلز کی اصلاح نظریہ ضرورت کے تحت یا مجبوری میں پارٹی بدلنے یا پارٹی چھوڑنے کا عمل پاکستان کی تاریخ میں نیا نہیں ہے۔ سانحہ9مئی کے بعد جس انداز میں ریاست کی مشنری حرکت میں آئی ہے اور پی ڈی ایم کی حکومت نے جمہوریت کی آڑ میں عمران خان اور اس کی تحریک انصاف کا پتہ صاف کرنے  کا عمل جاری رکھا ہوا ہے یہ سب کچھ میری ذاتی رائے میں نیا نہیں ہے البتہ9مئی کا سانحہ71ء کے سانحہ سے کم نہیں ہے۔پاک فوج اور عوام کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا عام بات بھی نہیں ہے،عام سازش بھی نہیں ہے اس کو صرف گرفتاریوں تک یا آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے تحریک انصاف چھوڑنے کی پریس کانفرنس کرنے والوں کے لئے سب اچھا درست عمل نہیں ہے۔ ایک ایک چیز ریکارڈ ہو رہی ہے، سوشل میڈیا کا نقصان جتنا بھی  کہہ لیں اس کے فائدوں میں ایک فائدہ یہ بھی ہے بہت کچھ محفوظ ہو جاتا ہے وقت آنے پر کھل جاتا ہے،9مئی کے واقعات کے ذمہ داران کے خلاف ہزاروں مقدمات اور ہزاروں افراد کی گرفتاری اور ہزاروں نامعلوم بنا کر پولیس جو کر رہی ہے اس سے ہماری ریاست یا مقتدر حلقوں کی نیک نامی میں اضافہ نہیں ہو رہا،نامعلوم افراد کی فہرست میں شامل کرنے اور نامعلوم افراد کی فہرست سے نکالنے کے لئے ڈی ایچ اے لاہور میں ہونے والی پولیس، بروکروں اور مافیا کی سودے بازیاں تیزی سے منظر عام پر آ رہی ہیں پولیس کی طرف سے گھروں میں چھاپے چادر چار دیواری کی پامالی نئی تاریخ رقم  ہو رہی ہے۔ایک واقع ہمارے دوست حج ٹریڈ کے اہم ترین فرد حافظ ایئر کے چیف ایگزیکٹو حافظ طالب جو  اب اِس دنیا میں نہیں ہیں ان کی حج کمپنی ہے ان کا بیٹا زبیر گلبرگ میں ایڈن ٹاور میں البرکہ گروپ کے دفتر میں عمرہ کے ویزوں کی رقم دینے گیا اور وہاں مظاہرہ کرنے والوں کے ساتھ اس کی فوٹیج آ گئی اس بناء پر اس کے گھر والوں کا جینا دوبھر کر دیا گیا ہے کوئی سننے کے لئے تیار نہیں، پولیس کا نام استعمال کر کے مافیا لمبی دیہاڑیاں لگا رہا ہے، ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں بات دوسری طرف چلی گئی۔ 25مئی یوم شہداء کے طور پر منانا احسن اقدام ہے شہداء کی یادگاروں کو مٹانے والوں کو نشانِ عبرت بنانا بھی ضرورت ہے، مگر پی ٹی آئی اے کے رہنماؤں کی طرف سے پارٹی چھوڑنے کے اعلانات اور فیاض الحسن چوہان جیسے سیاست دانوں کی طرف سے عمران خان پر اُس وقت الزامات جب ہوا ہی عمران خان کے خلاف چل رہی اب کا کہنا میرے سامنے فوج اور اداروں کے خلاف منصوبہ بنا تھا سوال اٹھتا ہے اُس وقت خاموش کیوں رہے اُس وقت بولتے تو9مئی کا سانحہ نہ ہوتا۔ جلیل شرقپوری،فواد چودھری، جمشید چیمہ، فیاض الحسن چوہان اور دیگر سیاست دان اب جو بولیاں بول رہے ہیں اس کی تحقیقات ہونا ضروری ہیں۔ ذاتی رائے میں یہ سب سے بڑے مجرم ہیں۔ دوسرا سوال جو عوام میں تیزی سے اُٹھ رہا ہے پی ٹی آئی کے مرکزی، صوبائی، ضلعی ذمہ داران کے خلاف مقدمات، گرفتاریاں، ضمانتیں اور رہائی کے بعد پھر گرفتاریاں بہت سے سوال اٹھا رہی ہیں۔اب اہم بات پی ٹی آئی چھوڑنے والے سب پاک صاف ہو جائیں گے یوم شہداء کے موقع پر قوم کو چھٹی تک محدود نہ رکھا جائے سوشل میڈیا پر پاک فوج میں دھڑے بندی کی خبروں، افسروں کے کورٹ مارشل کی افواہوں کے آگے بھی پُل باندھنے کی ضرورت ہے،9مئی کی آڑ میں دشمنوں کو منظر سے ہٹانے، سیاسی دشمنیاں بنانا جمہوری عمل نہیں ہے، ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں پولیس کلچر اپنا کام دکھا رہا ہے پولیس کے لئے بدنامی کا باعث بن رہا ہے قیام پاکستان سے آج تک قوم پارٹی بدلنے، پارٹی چھوڑنے کی کہانی سنتے اور دیکھتے چلے آئے ہیں اب بھی وہی تماشا قوم دیکھ رہی ہے آج بطور صحافی کارکن اور قانون کے طالب علم کی حیثیت سے سیاست دانوں اور مقتدر حلقوں سے درخواست کرتا ہوں عوام بہت مشکل میں ہیں۔ 2023ء کے آغاز سے آج تک عوام کو خوف، مہنگائی کے سوا کچھ نہیں ملا۔9مئی کے بعد25مئی کو یوم شہداء منانے کی ضرورت سے لے کر پی ٹی آئی میں ٹوٹ پھوٹ سے عوام کو کیا فائدہ ہو گا۔ پاک فوج اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کیلئے طویل مہم جوئی کرنے والے کردار کب بے نقاب ہوں گے۔پکڑ دھکڑ کی آڑ میں بے گناہ افراد کو بلیک میل کرنے کا سدباب کرنا ہوں گا، ریاست کے ستونوں کی مضبوطی اور اپنی اپنی حدود میں رہ کر کردار ادا کرنے کیلئے لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے ایسی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ریاست سے ٹکراؤ ممکن نہ رہے اس کیلئے پسند نہ پسند سے بالا ہو کر فیصلے کرنا ہوں گے۔
٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -