ریٹائرمنٹ، نئی مجوزہ عمر، خود کش حملہ

   ریٹائرمنٹ، نئی مجوزہ عمر، خود کش حملہ
   ریٹائرمنٹ، نئی مجوزہ عمر، خود کش حملہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھا کر 62 سال کر رہی ہے۔ اس تجویز کا محرک پینشن کی بڑھتی ہوئی رقم کو کم کرنا ہے، اگر یہ تجویز حقیقت بن گئی تو، مجھے کہنے دیجئے کہ، پھر اس حکومت کو کسی آئین شکن جرنیل، ثاقب نثار کھوسہ یا بندیال جیسے خود سر ججوں یا نوکیلے دانتوں والی حزب اختلاف جیسے دشمن کی ضرورت نہیں رہے گی۔ بوڑھے، سالخوردہ، کھوسٹ اور مراعات کی دلدل میں گلے تک دھنسے افسر ان تینوں مذکورہ زمروں کا کام بحسن و خوبی خود ہی سر انجام دے کر اس سیاسی جماعت کو ایسے انجام سے دوچار کریں گے کہ آئندہ اس کا شاید کوئی نام لیوا بھی نہ ملے۔ دفتری زندگی میں آپ نے دیکھا نہیں کہ مثلاً افسر بھرتی ہوا. 19ویں اسکیل تک ترقی کی۔ کام ملاحظہ ہو, پریس ریلیز جاری کرنا! پھر اس کا منصب اپ گریڈ کر دیا گیا۔ ذرا پہلے پریس ریلیز والا وہ افسر اسکیل 21 میں تھا۔ اب وہی کام گریڈ 22 کا افسر کر رہا ہے۔ اس مثال سے ملتی جلتی حرکتیں آپ تمام سرکار میں انہی خطوط پر دیکھ سکتے ہیں۔

اس حوصلہ شکن خبر کو امید کی ایک کرن سے ملا کر پڑھیں۔ چاند کی تصاویر بھیجنے والی پاکستانی سیٹلائٹ بنانے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر خرم خورشید نے بتایا: "یہ سیٹلائٹ یونیورسٹی طلبا نے تیار کیا ہے جس میں انہیں قومی ادارے سپارکو اور شنگھائی یونیورسٹی کا تعاون حاصل رہا ہے۔۔۔۔۔ اس شعبے میں آنے والے نوجوانوں کے لیے ان منصوبوں کی بڑی اہمیت ہے ". اب آپ سائنسی تحقیق کے کم و بیش تمام سرکاری اداروں کے بیشتر کھوسٹ سائنس دانوں کا کوئی ایک کارنامہ تلاش کر دکھائیں۔ یقینی ناکامی ہوگی۔ آپ ان میں سے کسی کے ساتھ مل بیٹھیں تو موضوعات گفتگو یہ کچھ ہوں گے: مکان کی ہائرنگ, اگلے اسکیل میں ترقی, نئی سرکاری گاڑی نہ ملنے پر افسردگی, کسی بڑی تقریب میں نہ بلانے پر شکوہ، غیر ملکی دورے کو لپک، ریٹائرمنٹ پر ملازمت میں توسیع اور بیٹے کی بھرتی، ڈی ایچ اے میں مکان کی تعمیر، وغیرہ۔ اس سے پوچھئے کہ وہ اپنے نامہ اعمال پر ملکی خدمت کی کوئی قابل ذکر جھلک دکھا دیں۔ موصوف کی طبیعت بگڑ جائے گی۔

 یہ سینیئر سٹیزن ریٹائر ہونے کی بجائے مزید چند سال پیر تسمہ پا بن گئے تو ڈاکٹر خرم خورشید کا قول "نوجوانوں کے لیے ان منصوبوں کی بڑی اہمیت ہے " کیا حقیقت کا روپ دھار سکے گا؟ نو عمر افراد ہر قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں. نو عمری ہی میں کچھ کرنے کا جذبہ ہوتا ہے. اسی عمر میں ذمہ داری کم سے کم اور کر گزرنے کی دھن زیادہ سے زیادہ ہوتی ہے۔ ہے شباب اپنے لہو کی آگ میں جلنے کا نام۔ علامہ اقبال اپنے 30 سالہ لہو کی آگ میں جل کر بطور قادر الکلام شاعر فیلسوف متعارف ہو چکے تھے. سید ابوالاعلیٰ مودودی اپنے 16 سالہ کچے شباب ہی میں دارالعلوم دیوبند کے وقیع جریدے الجمعیت کے مدیر بن چکے تھے۔ ابن صفی اپنے 45 سالہ تپتے لہو کے ساتھ 200 سے زائد ناول لکھ کر دنیا بھر میں متعارف ہوچکے تھے۔ اڑھائی سو سے زائد ناول ہوئے تو 52 سالہ اترتے شباب میں رخصت ہو چکے تھے۔ یورینیم افزودگی کا کام ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے 36 سالہ شباب میں جلتے جلتے شروع کیا تھا۔ کام کی ابتدا کرانے والا بھٹو تب صرف 46 سالہ شباب کی بھٹی میں ابھی پک رہا تھا۔ دستور 1973 کے بعد اہم ترین دستاویز جس نے ملک کو متحد رکھا ہوا ہے، وہ آبی معاہدہ ہے جس میں آب رود سندھ کی تقسیم کا طریقہ ہے۔ 1991 کا یہ معاہدہ اور موٹر ویز شروع کرنے والے وزیراعظم کے لہو کا درجہ حرارت صرف 42 سال تھا۔ اور.... اور..... اور وزیراعظم صاحب، اور کابینہ کے لوگو! آپ سمجھتے کیوں نہیں ہو؟ صرف بائیس پچیس سالہ لہو کی آگ میں جلتے معصوم نوجوانوں نے ہمیں چھٹی خلائی طاقت بنا ڈالا۔ سازشی بڈھے تو ہر دفعہ آپ کو جیل پہنچا کر دم لیتے ہیں۔

پنشن بچانے کو ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کی تجویز حکومت کو انہی لاپرواہ افسروں نے دی ہے تاکہ وہ مزید چند سال پوری تنخواہ کے ساتھ سازشیں کر سکیں۔ یہی لوگ ریلوے، پی آئی اے، اسٹیل مل، نیشنل شپنگ کارپوریشن اور درجنوں دیگر ادارے برباد کر چکے ہیں۔ اس معمولی بچت کے لیے حکومت چند ماہ کھلے عام مباحثہ کرائے تو اسے پتا چلے گا کہ بچت کے متعدد دیگر شعبے موجود ہیں جن کی مدد سے کئی گنا زیادہ بچت ممکن ہے۔ ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبر زیدی نے چند ہی ماہ میں کہہ دیا تھا کہ ریونیو بورڈ کے افسروں کو بھلے گھر بٹھا کر تنخواہ دے دیں اور کام نوجوان آئی ٹی ماہرین سے لیں تب بھی آمدن، موجودہ آمدن سے کئی گنا زیادہ ہو گی۔ افسر جتنا زیادہ بڈھا اتنا ہی با اختیار اور اس سے کہیں زیادہ اذیت رساں۔ اسلامی یونیورسٹی کے پاس ریلوے لائن نالے پر سے گزرتی ہے۔ پل کے نیچے پیدل راستہ بن گیا۔ یونیورسٹی سمیت نصف درجن ادارے ریلوے افسروں کی منتیں کرتے رہے کہ پل کے نیچے سے پختہ سڑک ہمارے اپنے خرچ پر بنانے کی اجازت دے دیں تاکہ آمد و رفت آسان ہو۔ بڈھے افسروں کی ایک ہی رٹ کہ یہ زمین ریلوے کی ہے۔ زمین پھر بھی ریلوے ہی کی رہتی۔ ریلوے سے ملکیت نہیں مانگی گئی تھی۔ لیکن مخلوق خدا کو عذاب یہ با اختیار بڈھے افسر ہی دے سکتے ہیں۔

خدانخواستہ اگر ریٹائر منٹ کی عمر بڑھا دی گئی تو جونیئر ملازمین کی ترقی مزید اتنے ہی سالوں تک رک جائے گی۔ یوں اوپر کے دس پندرہ فی صد افسروں کے تو وارے نیارے ہوں گے لیکن نوے فی صد جونیئر میں جو بے چینی، افسردگی، کام سے لاتعلقی، اور ہیجان پیدا ہوگا، اس کی پیمائش پینشن والا کیلکولیٹر نہیں کر سکے گا۔ ظاہر کے چند سو ارب بچا کر ملکی معیشت کو پہنچنے والے سینکڑوں کھرب کے نقصان کی تلافی کسی طرح سے ممکن نہیں ہو سکے گی۔

سپارکو کے ڈاکٹر خرم خورشید کی مذکورہ بالا بصیرت افروز رائے ہر ادارے کے لیے مشعل راہ ہے۔ کاش کابینہ اور وزیراعظم اس رائے کے اندر پوشیدہ پیغام کو سمجھ سکیں۔ کاش اس رائے کی معنویت کو ہر کوئی سمجھ لے۔ چاہئے تو یہ کہ تمام 58 سالہ افسروں کو جبری رخصت پر بھیج کر ہر ادارے میں نیا خون، نئی سوچ، اور نئی امنگیں لیے نوجوان بھرتی کیے جائیں۔ پھر تمام محکموں کے موجودہ انتظامی عملے میں دو تہائی کمی کی جائے۔ گریڈ 21 اور 22 وغیرہ بلا شبہ ایک حد تک ضروری ہیں لیکن پوری ذمہ داری سے لکھ رہا ہوں کہ آج تقریباً ہر گریڈ 20 کی جگہ گریڈ 17 کے افسر سے بخوبی کام چلایا جا سکتا ہے۔ گریڈ 22 کا صرف ایک افسر اور اس کا عملہ کنال بھر کے قیمتی دفتر پر بیٹھا ہوتا ہے۔ اس کا نصف کنال کمرہ ٹھنڈا کرنے والی بجلی پورے گاؤں کے لیے کافی ہوتی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ حکومت اور وزیراعظم اس پر کھلے عام بحث مباحثے کے بعد کوئی بصیرت افروز فیصلہ کریں۔ اللہ کرے ایسا ہو جائے۔

مزید :

رائے -کالم -