مزاح نگاروں کی محفل اور حاضر شعرائے کرام

مزاح نگاروں کی محفل اور حاضر شعرائے کرام
مزاح نگاروں کی محفل اور حاضر شعرائے کرام

  

                            الحمرا میں منعقد ہونے والی ادبی و ثقافتی کانفرنس کے دوسرے روز، طنز و مزاح کی نشست، اطلاعات و نشریات کے وفاقی وزیر پرویز رشید کی صدارت میں ہال نمبر دو میں برپا ہوئی۔ مہمانان خصوصی ”ہم سب امید سے ہیں“ لکھ کر شہرت پانے والے نامور مزاح نگار ڈاکٹر یونس بٹ اور الخیر یونیورسٹی بھمبر آزاد کشمیر کے پرووائس چانسلر اور نامور مزاح گو پروفیسر ڈاکٹر انعام الحق جاوید تھے۔ عطا ءالحق قاسمی میزبان کے طور پر ان کے ساتھ موجود تھے۔

اس نشست کی خوبی یہ تھی کہ اس میں کئی نئے مزاح نگار پہلی بار اہل لاہور کے سامنے اپنی شگفتہ تحریریں پیش کرنے کے لئے موجود تھے۔ یہ خود ان کے لئے تو ایک امتحان تھا ہی، حاضرین کے لئے بھی ایک صبر آزما مرحلہ تھا، کیونکہ آج طنزو تعریض، دشنام و نکتہ چینی کو بھی مزاح نگاری کا ورق چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہاں زیادہ تر مزاح نگار، قاسمی صاحب کے شاگرد تھے جنہوں نے اپنی تحریریں سنانے سے پہلے حاضرین کرام سے پہلے، اپنے استاد محترم کو مخاطب کیا۔ ان مزاح نگاروں میں ابرار ندیم، علی رضا احمد، وقار احمد، گل نوخیز اختر اور اشفاق احمد ورک شامل ہیں۔ ان تمام مزاح نگاروں کی تحریریں، خود ان کی زبانی سن کر حاضرین کرام لوٹ پوٹ ہوتے رہے اور تالیاں بجاتے رہے۔ اگر ان مزاح نگاروں نے تحریر اور تخلیق کا سفر مسلسل جاری رکھا تو یقینی طور پر یہ مزاح کے منظر نامے میں اپنی مستقل جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اس کانفرنس کے جہاں اور بہت سے مقاصد ہیں، وہاں ایک یہ بھی ہے کہ نئے شمع برداروں کو قافلے کے سامنے لایا جائے تاکہ نئے راستوں اور نئی منزلوں کا تعین کیا جا سکے۔ اس محفل میں بہت اچھی مزاحیہ تحریریں سننے کو ملیں، لیکن ایک بات مجھ سمیت بعض لوگوں نے شدت کے ساتھ محسوس کی کہ کچھ مزاح نگار، مزاح لکھنے پر ضرور قادر ہیں لیکن محفل میں سب کے روبرو اسے پیش کرنے کا ہنر حاصل کرنے کے لئے انہیں مشتاق احمد یوسفی اور عطاءالحق قاسمی کو بار بار سننا پڑے گا۔ انہوں نے اپنی لکھی ہوئی تحریریں یوں پڑھیں، جیسے وہ ان کی نہیں، ان کے کسی دشمن نے لکھی ہیں۔

اس نشست میں قندیل، عالیہ شاہ، زاہد مسعود اور شجاعت ہاشمی نے مشتاق احمد یوسفی، کرنل محمد خان، شفیق الرحمن اور ابن انشا کی تحریریں سنائیں۔ چاروںنے صدا کاری کے خوب جوہر دکھائے، لیکن یہاں معاملہ وہی رہا۔ دوسروں کی لکھی ہوئی تحریروں کو دل و جان سے ادا کرنے کا جو کھم کون اٹھاتا ہے؟ حاضرین نے دل پر پتھر رکھ کر یہ تحریریں سنیں۔ صاحب صدر پرویز رشید مزے میں رہے۔ وہ اپنی باری پر بولنے کے لئے مائیک پر آئے تو انہوں نے راز فاش کیا کہ لاﺅڈ سپیکر لگانے والے صاحب نے تمام سپیکروں کا رخ ہال کی طرف کر رکھا ہے۔ انہوں نے کسی مقرر کی تقریر نہیں سنی۔ اگر وہ کسی جگہ مسکرائے ہیں تو حاضرین کے تتبع میں مسکرائے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اقرار بھی کیا کہ حکومتوں کے کان نہیں ہوا کرتے۔ ہمارا خیال ہے کہ لاﺅڈ سپیکر ٹھیک ہی تھے، انہوں نے اپنی مجبوری، خواہ مخواہ الیکٹریشن پر ڈال کر پاکستانی ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ہمارے ہاں برسوں سے یہی تو ہوتا چلا آ رہا ہے کہ ہر ذمہ داری دوسروں پر ڈال دو۔

پرویز رشید نے بتایا کہ نامور ادیب اور شاعر ضمیر جعفری، راولپنڈی میں ان کے ہمسائے تھے۔ جعفری صاحب کا بیٹا، احتشام میرا دوست تھا۔ ہم دونوں نے کبھی کتاب سے دوستی نہیں رکھی، شاید ہماری اسی کتاب دشمنی کا ہمیں پھل ملا ہے کہ آج مَیں آپ کے سامنے وفاقی وزیر کے طور پر کھڑا ہوں اور ضمیر جعفری کا بیٹا، احتشام، جنرل بنا.... پرویز رشید صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ اب ہم لوگ کیا کریں؟ کیا ہم اپنی کتاب دوستی کا سفر جاری رکھیں یا ہم بھی کتاب دشمنوں میں شامل ہو جائیں؟ انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ وہ وفاقی وزیر بن کر خوش ہیں یا اپنے اندر کسی خلا کو محسوس کر رہے ہیں؟ ویسے حقیقت یہی ہے کہ اگر پرویز رشید صاحب آج وفاقی وزیر نہ ہوتے، تو دو چار کتابوں کے مصنف ہوتے اور ہماری طرح تالیاں بجانے والے ادیبوں شاعروں میں شامل ہوتے ، اگر وہ شاعر ہوتے تو ”حاضر شعرائے کرام“ میں وہ بھی شامل ہو جاتے کیونکہ اس روز ہمارے محترم و مکرم جناب عطاءالحق قاسمی نے ایک شاندار مشاعرے کا اہتمام بھی کر رکھا تھا۔ باقی تمام نشستوں میں شرکاءکے اسمائے گرامی بااہتمام دے دیئے گئے تھے، لیکن اندیشہ نقص امن کے تحت مشاعرہ پڑھنے والوں کے سر حاضر شعرائے کرام کے بیلنے میں دے دیئے گئے۔ کچھ شاعر بیلنے سے توقع کے مطابق گزر گئے اور اپنا خونِ جگر، مشاعرے کے شرکاءپر نچھاور کر گئے لیکن کچھ بیلنے کے قریب کھڑے انتظار ہی کرتے رہ گئے۔ شاید ان میں خون جگر تھا ہی نہیں کہ” گنجی نہائے گی کیا، نچوڑے گی کیا“؟ بہر حال ہم نے سنا ہے کہ یہ مشاعرہ جناب ظفر اقبال کی سربراہی میں خوب جما۔

ہاں یاد آیا کہ ڈاکٹر محمد یونس بٹ نے قاسمی صاحب کا خاکہ سنا کر محفل لوٹ لی۔ یہ خاکہ انہوں نے آج سے تقریباً بیس برس قبل لکھا تھا، لیکن اس نے آج کے عطا ءالحق قاسمی کی شخصیت کا بھی مکمل احاطہ کیا۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید کو تقریب کی کمپیئر، غریدہ فاروقی، وقفے وقفے سے اسٹیج پر بلاتی رہیں، یوں ایک ہی مزاحیہ شاعر نے سارے مزاحیہ شاعروں کا بوجھ اکیلے ہی اٹھائے رکھا۔ انہوں نے کسی اور مزاحیہ شاعر کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید کے بارے میں بتاتا چلوں کہ انہوں نے اس زمانے میں پنجابی ادب میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، جب لوگ ایم اے پنجابی کرتے ہوئے بھی شرماتے تھے۔ انہوں نے مقتدرہ قومی زبان میں خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈین آف سوشل سائنسز بن گئے، لاتعداد لوگوں نے ان کی نگرانی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی آج کل الخیر یونیورسٹی بھمبر آزاد کشمیر کے پرووائس چانسلر ہیں تحقیق و تنقید کے خشک اور پتھریلے میدان میں ہر لمحہ بخوشی محو سفر ہیں۔ مَیں نے کبھی ان کے چہرے پر تھکاوٹ کے آثار نہیں دیکھے۔ دوسری بات یہ کہ میں نے کبھی انہیں غصے میں نہیں دیکھا۔ معاملات کو پیار محبت سے سلجھانے کے عادی ہیں۔ قاسمی صاحب کے یار دیرینہ ہیں۔ مزاحیہ شاعری کرنا بھی جانتے ہیں اور سنانے کے فن میں بھی طاق ہیں۔ ان کی مزاحیہ شاعری میں اتنا مزاح ہوتا ہے کہ داد لینے کے لئے انہیں اوور ایکٹنگ نہیں کرنا پڑتی۔

مزید : کالم