سپریم کورٹ کے باہر وکلاءاور پولیس میں جھڑپ، اسسٹنٹ کمشنر زخمی، پاکستان بار کونسل کا کل ملک گیر ہڑتال کا اعلان

سپریم کورٹ کے باہر وکلاءاور پولیس میں جھڑپ، اسسٹنٹ کمشنر زخمی، پاکستان بار ...
  • سپریم کورٹ کے باہر وکلاءاور پولیس میں جھڑپ، اسسٹنٹ کمشنر زخمی، پاکستان بار کونسل کا کل ملک گیر ہڑتال کا اعلان
  • سپریم کورٹ کے باہر وکلاءاور پولیس میں جھڑپ، اسسٹنٹ کمشنر زخمی، پاکستان بار کونسل کا کل ملک گیر ہڑتال کا اعلان
  • سپریم کورٹ کے باہر وکلاءاور پولیس میں جھڑپ، اسسٹنٹ کمشنر زخمی، پاکستان بار کونسل کا کل ملک گیر ہڑتال کا اعلان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ کے باہر وکلاءاور پولیس کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں ڈی ایس پی سمیت 4 پولیس اہلکار اور 4 وکلاءزخمی ہو گئے، زخمیوں میں اسسٹنٹ کمشنر پولیس محمد علی بھی شامل ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، پاکستان بار کونسل نے وکلاءپر تشدد کے خلاف کل ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سرگودھا، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ساہیوال اور ڈی جی خان ڈویژن کے وکلاءسپریم کورٹ کی عمارت کے باہر مطالبات کے حق میں مظاہرہ کر رہے تھے کہ اسی دوران مظاہرین نے سپریم کورٹ کی عمارت کا مین گیٹ توڑ کر عمارت میں گھسنے کی کوشش کی جس پر پولیس اور وکلاءمیں جھڑپ شروع ہو گئے۔ مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراﺅ کیا گیا جس کے نتیجے میں اسسٹنٹ کمشنر محمد علی اور ڈی ایس پی سمیت 4 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے جبکہ پولیس کے لاٹھی چارج اور شیلنگ کے باعث 4 وکلاءبھی زخمی ہوئے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وکلاءرکاوٹیں توڑ کر زبردستی سپریم کورٹ میں داخل ہوئے اور رجسٹرار آفس میں داخل ہونا چاہتے تھے جس پر انہیں روکا گیا۔ دوسری جانب وکلاءکا کہنا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے اندر جار کر احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتے تھے۔ جھڑپ کے بعد مظاہرین نے شاہراہ دستور پر دھرنا دیا جس کے نتیجے میں ٹریفک جام ہو گئی۔ پاکستان بار کونسل نے وکلاءپر تشدد کے خلاف کل ملک گیر ہڑتال اور عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس دوران عدالت میں پیش ہونے والے وکلاءکے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ پاکستان بار کونسل کا کہنا ہے کہ وکلاءپاکستان بھر کی عدالتوں میں پیش نہ ہو کر اتحاد کا ثبوت دیں۔ واضح رہے کہ مظاہرین سرگودھا سمیت پانچ شہروں میں ہائیکورٹ بینچوں کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں ، وکلاءکا کہنا ہے کہ پنجاب کابینہ نے بنچوں کے قیام کی منظوری دے دی ہے لہٰذا بینچوں کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔

مزید : اسلام آباد /Headlines