زلزلے اور مستقبل کی منصوبہ بندی

زلزلے اور مستقبل کی منصوبہ بندی

  



ایک خبر کے مطابق مُلک بھر کے مختلف شہروں میں ایک بار پھر زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے، جن کی شدت ریکٹر سکیل پر 6.2 تھی یاد رہے کہ زلزلوں کا یہ سلسلہ اس وقت سے جاری ہے جب چند روز قبل پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں 8.1کی شدت کا بہت بڑا زلزلہ رونما ہوا ، جو اس سے قبل رونما ہونے والے کسی بھی زلزلے سے زیادہ ہے ۔ویسے تو اس زلزلے نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا، لیکن خوش قسمتی سے نقصان کم ہوا، جس کی دو وجوہات تھیں: ایک تو پہاڑی علاقوں میں آبادی کا کم ہونا اور پہاڑوں کی موجودگی میں زمین کی تھرتھراہٹ کا تھوڑا قابو میں رہنا اور دوسرا زلزلے کی گہرائی کا زیادہ ہونا ہے جو زیرزمیں 214کلو میٹر تھی ۔ لمحہ بھر کے لئے سوچیں کہ اگر خدانخواستہ یہ زلزلہ میدانی علاقوں میں آجاتا اور اس کا مرکز بھی زمین کی اوپر والی سطح کے کہیں قریب ہو تا تو کتنی بڑی تباہی ہو تی ؟سوچ کر بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں الامان الحفیظ۔خیر پاکستان میں آنے والے قابل ذکر بڑے بڑے زلزلوں میں 1935میں کوئٹہ شہر تباہ ہوا، جس میں تقریبا 60ہزار افراد ہلاک ہوئے،جبکہ 5اگست1947 ء میں مکران میں پانچ ہزار کے قریب اور 28دسمبر1974ء میں مالاکنڈ میں بھی پانچ ہزار افراد اور 8اکتوبر2005ء میں آزاد کشمیر میں آنے والے زلزلہ میں لگ بھگ 90ہزار سے زائد لوگ لقمہ اجل بن گئے۔

اس زلزلے کی شدت 7.6 تھی، یعنی موجودہ سے 0.5کم۔جہاں تک زلزلوں کی وقوع پذیری کی بات ہے تو یہ کب،کیوں ،کہاں، اور کیسے رونما ہوتے ہیں، ان کی سائنسی وجوہات کیا ہیں ؟ ان پر راقم کا تفصیلی مضمون بعنوان زلزلے کیا ہیں ؟ شائع ہو چکا ہے مختصرا زمین کی اندرونی سطح پرtectinics platesکی حرکت کی وجہ سے زلزلے عموماً فالٹ لائنز کے ساتھ ہی رونما ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بھی فالٹ لائن موجود ہے، جس کی و جہ سے انڈین پلیٹ عربین پلیٹ ا ور یوریشین پلیٹ سے ٹکرا رہی ہے اور شمالی علاقہ جات میں بھی فالٹس ہیں، لیکن پہاڑوں کی موجودگی میں ان کی دریافت مشکل ہے دیگر فالٹس میں چمن فالٹ، مکران فالٹ، شامل ہیں ان کے علاوہ کراچی اور دریائے سندھ کے ارد گرد کے علاقے بھی فالٹ لائن پر موجود ہیں، جن پر کسی بھی وقت کوئی بہت بڑا زلزلہ آ سکتا ہے، لیکن کب ؟ اس کا جواب ابھی تک سائنسدان بھی تلاش نہیں کر سکے، کیونکہ زلزلہ کسی بھی وقت آسکتا ہے، جس کی اطلاع ایک سیکنڈ پہلے بھی نہیں دی جا سکتی۔ باقی سب قیاس آرائیاں ہیں البتہ آفٹر شاکس، جنہیں چھوٹے زلزلے بھی کہا جاتا ہے کا سلسلہ کئی سال تک بھی جاری رہ سکتا ہے جن کی شدت بڑے زلزلے سے تو کہیں کم ہوتی ہے، لیکن ہمارے یہاں تو اتنی بڑی تعداد میں بوسیدہ عمارتیں موجود ہیں ، جو شائد ان کی تاب بھی نہ لا سکیں انہیں گرا دینااشد ضروری ہے۔اب یہاں پر جو سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اتنی ساری فالٹس لائنز کی موجودگی کے باوجود ہم نے زلزلوں سے بچاؤ کا کون سا طریقہ اختیار کیا ہے ؟

زلزلے صرف پاکستان میں ہی نہیں آتے دُنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جو براہ راست زلزلوں کی زد میں ہیں اور ان کی شدت بھی کم ازکم اتنی ضرور ہوتی ہے کہ اگر خدانخواستہ ہمارے ہاں آ جائیں تو بہت بڑی تباہی کا موجب بنیں گے،جاپان کی مثال آپ کے سامنے ہے کہ وہاں زلزلے روزمرہ کے معمول کا حصہ ہیں، لیکن نقصان نہ ہونے کے برابر ہے آخرکیوں ؟ تو جواب سادہ سا ہے کہ جب جاپانیوں نے دیکھا کہ زلزلے پر تو قابو پانا ممکن نہیں کیوں نہ عمارتی سٹرکچر ہی بدل دیا جائے تو لکڑی کی عمارتیں بنائی جانے لگیں جو زلزلے کے شدید جھٹکوں میں بھی اپنا وجود برقرار رکھتی ہیں اور کسی شدید زلزلے کے بعد بھی نظام زندگی صرف تھوڑی دیر معطل ہونے کے بعد نئے سرے سے رواں دواں ہو جاتا ہے، لیکن ہم نے اس طرح کے معاملات میں کبھی دلچسپی لی ہی نہیں کم ازکم نو تعمیر شدہ عمارتوں میں اتنی لچک رکھی جائے کہ ایک مخصوص حد تک ٓافٹر شاکس برداشت کر سکیں۔ البتہ زلزلے کے جھٹکے شدید نوعیت کے ہوں تو پھر یہ انسانی بس سے باہر کی بات ہے ،جو علاقے فالٹ لائن پر ہیں وہاں کے لوگوں کو زلزلوں سے بچاؤ کے سائنسی طریقے بتائے جائیں اور صرف زلزلہ پروف عمارتوں کی تعمیرات کی اجازت دی جائے تا کہ انسانی جانیں محفوظ رہ سکیں ،وہاں کے مقامی لوگوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے طور پر ایسے مٹیریل کا استعمال کریں کہ زلزلہ کے وقت محفوط رہ سکیں ۔

ہمارے ہاں طریقہ تھوڑا مختلف ہے کسی بھی آفت کے بعد ہم سب تمام اختلافات کو پس پردہ ڈال کر بحیثیت مجموعی پوری قوم ایک ہی پیج پر اکٹھے ہو جاتے ہیں ، لوگوں کی مدد کے لئے بھر پور اقدامات اٹھائے جاتے ہیں ، پھر ساری دنیا کے سامنے اپنے مثالی اتحاد کو پیش کر کے خوشی کے شادیانے بجاتے ہیں، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ قدرتی آفات کے آنے سے پہلے نقصان کو ممکنہ حد تک کم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں اور دُنیا کے تمام ترقی یافتہ ملک ایسا ہی کرتے ہیں۔ آخر ان ممالک میں نقصانات کی شرح اتنی کم کیوں ہے، حالانکہ وہاں آنے والی آفات جن میں سونامی، آتش فشانیاں ،اور زلزلے وغیرہ شامل ہیں اگر یہ سب ترقی پذیر ممالک میں آ جائیں تو کتنی بربادی ہوگی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ، اس لئے ضروری ہے کہ اجتماعی سوچ اپنا کر ٹھوس حکمت عملی اپنائی جائے تا کہ مستقبل میں کسی بھی بڑے سانحہ سے بچا جا سکے، لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں واقعات کے برپا ہونے کے بعد ہی ہلچل دکھائی دیتی ہے اب کے بار بھی ہم شائد کسی نئے زلزلے کے انتظار میں خواب خرگوش کے مزے لیتے رہیں گے تا کہ بربادیوں کی نئی داستان لکھی جا سکے۔

مزید : کالم