سفر میں ہے کرن کرن

سفر میں ہے کرن کرن
 سفر میں ہے کرن کرن

  

گنتی کرنے بیٹھی ہوں

باقی کتنے رہ گئے ہیں

جان میری سے پیارے لوگ

میرے اپنے سارے لوگ

میرے اپنے سارے لوگ

میرے پیارے مجھ سے جدا ہوئے، اس کاروانِ سفر میں بظاہر فنا ہوئے۔ میرے شفیق بزرگ اور میرے پیارے بچے یعنی میرے بے شمار پیارے جانے کو تیار بیٹھے ہیں۔ کس کس کے لئے آنسو بہاؤں گی، یاد کروں گی یا کیا لکھوں گی، لیکن نہیں اسلم کولری کے لئے کچھ لکھنا ہے، وہ شفیق تھے، رفیق تھے اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ فنکار تھے۔ ذاتی جذبات و احساسات کی تصویر کشی کرتے، لیکن قاری ان کا کلام سن کر اپنی اپنی کائناتوں کے سفر پر چل پڑتے۔ یہ خوبی ہی فنکار اور اس کے فن کو اعلیٰ درجے کے مقام پر پہنچاتی ہے۔ چونکہ ان کے فن پارے قاری کے جذبات کی عکاسی کرتے ہیں اور ان کو ابھارنے میں کوئی کَسر نہیں چھوڑتے، اب وہ سفر کی اگلی منزل پر گامزن ہیں، لیکن یہ روشن ستارے فن کی بلندیوں پر چمکتے اور دمکتے رہیں گے۔روشنی کا سفر تقویم اور کائنات علامتی ہے۔ روشنی سفر کرتی ہے تو چاند، ستاروں اور کائناتوں کو جنم ملتا ہے۔ یہ روشنی جو آج ہم تک پہنچی ہے، وہ ہماری کہکشاں کے دوسرے سرے سے تقریباً تیس ارب اور ستر کروڑ سال قبل چلی تھی، یعنی ایک سال میں یہ روشنی تقریباً اٹھاون کھرب 79ارب اور 60 کروڑ میل کا سفر طے کرتی ہے۔ ہمارے نظام شمسی سے قریب ترین جوستارہ موجود ہے، وہ الفاسنٹرائی (Alpha Centauri)ہے۔وہ ہم سے تین نوری سال کے فاصلے پر ہے۔

کائناتوں کے اس عقبی سمندر میں ہماری کائنات میں سورج روشنی کا ایک قریب ترین منبع ہے۔ روشنی کا سفر دنیا کا تیز ترین سفر ہے۔ اس سے زیادہ تیز دنیا کا کوئی پیغام نہیں جا سکتا۔ گویا اگر روشنی کی رفتار سے کوئی پیغام الفاسنٹرائی سے ہمیں پہنچے تو وہ تقریباً 4.3 قمری سالوں میں ہم تک پہنچے گا۔ سورج اگر آج چمکنا بند کر دے تو ہمیں تقریباً آٹھ منٹ اور دس سیکنڈ بعد اس کی اطلاع کا پیغام اندھیرے کی شکل میں پہنچے گا۔ آسمان پر جو ستارے چمکتے نظر آتے ہیں، اگر وہ ٹوٹ بھی چکے ہوں تو ہمیں تقریباً ساڑھے چار سال بعد اس کی اطلاع ملے گی، لیکن تصویر کا ایک رخ یہ ہے کہ کائنات کے اس سرے پر واقع جو کچھ موجود ہے یا نظر آ رہا ہے یا ہم قیاس کر رہے تھے، حتیٰ کہ ہم جس کی قیاس آرائیوں میں مبتلا تھے، یعنی خیال کا یہ معاملہ ’’انسانی عقل‘‘ زمان و مکان میں گھومتی اور تلاش حق میں سرگرداں ہے۔ یہ ’’عقل انسانی‘‘ہی ہے جو سائنس کی معراج تک نسل انسانی کولے گئی، یعنی یہ علم کی روشنی، جس کا تعلق براہ راست مشاہدات پر ہے، لیکن ’’خیال‘‘ کا آنا کہ ’’یہ ہے‘‘۔ اس میں عقل کی مانند نہ پہچان، نہ مشاہدہ ، نہ تجربہ اور نہ نتیجہ، بلکہ اس کے برعکسسچ کو قلب و نظرسے دیکھنا اور خیال کرنا ’’یہ ہے‘‘ وہ عشق کی منزل جو خدا کے ہونے نہ صرف یقین کرتی ہے، بلکہ دیکھتی بھی ہے۔ اس میں جوش، تڑپ، جرات اور سب سے بڑھ کر یقینِ کامل ہے، یعنی خواہش ہے کہ حقیقت تک پہنچیں، سائنس میں عقل اور مادہ، جبکہ مذہب’’خیال کے خیال‘‘ کو ترجیح دیتی ہے۔ صاحبِ قلب و نظر ہوں تو تکمیل ہوتی ہے:

عشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلام

اب سوال یہ ہے کہ خیال آیا اور عمل کا دروازہ کھٹکھٹایا تو یوں خیال اور مادہ جس پر عمل کرتا ہے، وہ لازم و ملزوم ٹھہرے، یعنی آسمان پر ستارہ ٹوٹ جائے تو روشنی کا سفر جاری رہتا ہے، لیکن ہماری نظر میں وہ ’’ستارہ‘‘ ابھی ٹوٹا نہیں کہ آسمان پر چمک رہا ہے۔ گویا یہ فاصلوں کی طاقت جو زمان و مکان سے منسوب ہے، اگر آزاد ہو تو پھر وہ تیسری شے ’’یہ ہے‘‘ کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں، جس میں اقبال کی خودی کا تصور، یعنی اپنے نفس اور اپنی ذات کا مکمل شعور اور اپنے آپ کا حد سے بڑھا ہوا احساس ہو یا نطشے کا’’مردِ کامل‘‘ برگساں کا ’’تفسیر و حرکت‘‘ کا سفر، یعنی مادہ حرکت میں ہے،جیسے خزاں میں درختوں پر پتوں کے رنگ بدلے، پتے سوکھے اور اب ان کو گرانے کا عمل آیا تو ایسے میں ایک ہوا کا جھونکا درخت کو ننگا کر کے پت جھڑ کا موسم دیتا ہے۔ یہ ہوا بھی تو اپنی تقدیر کے سفر پر جاری ہے،ساتھ ساتھ اسی درخت کی شاخ پر جھڑنے والے پتوں کے نیچے نئے نو خیز پتوں کی فوجیں باہر آنے کو تیار بیٹھی ہیں۔ سوکھے جھڑ گئے اور وہیں دفن ہو گئے، اسی شجر کی خوراک بن کر نظر سے دور ہو گئے تو کیا ان معمولات میں لمحہء ساکن یا وقفہ، یعنی ’’تکوین‘‘ کا لمحہ آیا؟ یعنی موت اور زندگی جاری و ساری ہے۔ ہم مرتے اور جنم لیتے ہیں۔ اب شعوری کیفیات بھی اسی سفر اور تسلسل کے اصول پر رواں دواں ہیں، کائنات بکھرتی اور سمٹتی ہے۔ یہ بکھرے ہوئے عناصر جو مسلسل سفرِ مکمل کائنات کی طرف رواں دواں ہیں۔ وہ بھی تکمیل کی تشکیل میں ہے اور اس سفر میں انسان بھی اپنی تخلیقی قوت کے عمل دخل سے شامل رہتا ہے۔ انسان خدا کا برگزیدہ ہے، اپنی خامیوں کے باوجود خلیفہ فی الارض ہے اور ایک آزاد شخصیت کا امین ہے۔ تو یوں ایک اہم عنصر کائنات انسان ہے جو خود بھی سفر پر ہے اور اس کا خارجی اور اندرونی ماحول بھی سفر کی منازل سے گزر رہا ہے، اب سفر کے لئے رہنما یا گائیڈ کا ہونا ضروری ہے۔ اس منزل میں رہنما سے عشق، ایمان، یقین اور ذوق طلب ہو تو درجہ بہ درجہ ہم لاشعوری طور پر منزل تکمیل تک پہنچ جاتے ہیں۔

بچپن ، جوانی اور بڑھاپا یہ تین بظاہر شکلِ انسانی کے درجے ہیں، پہلے اور آخری درجوں میں مکمل ایمان اور سپرداری کا جذبہ بے شمار ہے، لیکن درمیانی عمر کا حصہ ’’جوانی‘‘ شوق، ولولوں سے بھرپور،طاقت سے سرشار اور بہت کچھ کرنے کے خوابوں سے بھرا پڑا ہے۔ عمومی طور پر اسی حصے میں انسان وہ سب سمیٹتا ہے، جس سے اپنی ڈھیریاں اور پوٹلیاں تیار کرتا ہے۔ یہ بیرونی یا جسمانی مناظر سفر ہیں، ابھی اگر روحانی کائنات کے مناظر سفر کا جائزہ لیں تو ادھر قربت ذات عالم تخلیق کار سے عشق انتہا کو پہنچنے کو تیار بیٹھا ہے۔ گویا یہ عددی یا گنتیوں کے سفر سے نکل کر وحدت کا سفر، جس میں اپنے نفس اور اپنی ذات کے شعور کا عرفان بھی محرک ہے اور وہ منزل ناتمام کی جانب ہے۔ یعنی ’’قربِ خدا‘‘ ، ’’دیدارِ خدا‘‘ اور ’’دربارِ خدا‘‘ تک کا سفر ہے۔ان سب منازل میں خواہش کا پنچھی پروازِ نا تمام کو اُڑارہا ہے۔ جہاں پر ’’نفسِ فعال‘‘ اور ’’نفس بصیر‘‘ تک کا سفر ہے، یعنی زمان و مکان کا سفر جو نفسِ فعال سے منسوب ہے،سے گزر کر’’خالص‘‘ سے رابطہ ہوا، یعنی ’’نفسِ بصیر‘‘ کے سفر میں داخل ہو کر حیاتِ الیہ سے براہِ راست فیض یاب ہونا ہے۔ علامہ اقبالؒ اِسی کو خودی کا سفر قرار دیتے ہیں۔اسرار خودی کے مقدمے میں لکھتے ہیں :’’خودی کی حیثیت اس قطرۂ بے مایہ کی طرح نہیں جو دریا میں جا کر فنا ہو جائے اور اپنی ہستی کو گم کر دے، بلکہ اس قطرے کی ہے جو دریا میں جاکر گوہر بنے۔ ہم زندگیوں یا ہم نفسوں کی موت کو اختتامِ سفر سے عبارت کریں تو یہ ہماری کج فہمی ہے۔ زندگی کے سفر کے ادوار میں کمائے ہوئے خزانوں کے مصرف کے وقت کے آنے کی نوید ’’ موت‘‘ ہے۔ جیسا کہ سفر جاری ہے، ابھی سائنسی ترقی جو ’’عقل‘‘ کی بنیاد پر قائم و دائم ہے، عشق کی اس منزل تک پہنچ نہیں پائی، جہاں پہلا امتحان ’’موت‘‘ ہے۔

مزید :

کالم -