دھرنا..........حلقہ بندیوں کامعمہ

دھرنا..........حلقہ بندیوں کامعمہ
 دھرنا..........حلقہ بندیوں کامعمہ

  

بالآخر وہی ہو اجس کا ڈر تھا ، اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر 19دن سے جاری دھرنے پر حکومتی آپریشن کے فوری بعد ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا، حکومت دھرنے کے آغاز سے ہی اس کے اغراض و مقاصد کو شک و شبے کی نظر سے دیکھ رہی تھی ، بعض حلقے یہ بھی الزام لگارہے تھے کہ یہ دھرنا حکومت کے خلاف ایک سازش کے سکرپٹ کا حصہ ہے اور بعض حلقے یہ بھی تاثر دے رہے تھے کہ اس دھرنا کو بعض غیرمرئی قوتوں کی حمایت حاصل ہے ، تاہم حکومت کے دھرنے پر بے عملی اور کسی ایکشن کے لئے مسلسل تذبذب کو دیکھتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے مداخلت کی اور دھرنے کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی حتیٰ کہ فساد قرار دیتے ہوئے حکو مت کو دھرنے کیخلاف ایکشن کیلئے احکامات دیئے ۔

گزشتہ 20 روز سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے مابین روزانہ ڈیڑھ سے دو لاکھ افراد سفر کرتے ہیں اس بناء پر دونوں شہروں کے باسی ایک عذاب میں مبتلا تھے ، ان کی بھی خواہش تھی کہ اس دھرنے سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کیا جائے ، روایتی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی دھرنے کے خلاف مہم زوروں سے چلتی رہی ، تاہم بعض حکومتی زعماء کا خیال تھا کہ میڈیا پر دھرنے کے خلاف مہم بھی اسی طرح سے چل رہی ہے جس طرح لال مسجد کے خلاف چلی تھی اور پھر جب لال مسجد کیخلاف ایکشن ہوا تو سارے میڈیا نے حکومتی ایکشن کو آڑے ہاتھوں لیا، حکومت نے رائے عامہ کو ہموار کرنے کیلئے اشتہاری مہم کا بھی سہارا لیا، وزراء پریس کانفرنس بھی کرتے رہے تمام تر احتیاطی تدابیرکی گئیں دھرنے کے منتظمین کو بارہا وارننگ اورالٹی میٹم دینے کے جاں گسل مرحلوں سے بھی گذراگیا ، اس کے باوجود معاملہ کی نزاکت اور حساسیت کے پیش نظر حکومت نے عدالتی احکامات پر ایکشن کیا بھی توقدرے نیم دلانہ رویئے سے ،یہ درست ہے حکومت کی جانب سے پر امن طریقے سے دھرنا ختم کرنے کیلئے کسی سیاسی قربانی کی ’’پہل‘‘کامظاہرہ نہیں کیا گیا ، اگر بعض ذمہ داران کے خلاف کوئی کارروائی ہوجاتی اورانہیں ان کے عہدوں سے محروم یا کم ازکم معطل کردیا جاتا تو شائد دھرنا ملک بھر میں تشدد کی لہر کا باعث نہ بنتا ، لیکن اس پہلوپر حکومتی حلقوں میں یہ تاثر عام تھا کہ دھرنے کے قائدین اور منتظمین کے مطالبات خالصتاًسیاسی نوعیت کے ہیں اورانہیں تسلیم کرنے سے حکومت کو سیاسی نقصان ہوگا۔

قبل ازیں حکومت کو نہ صرف پانامہ کیس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی نااہلیت ، شریف خاندان کے خلاف مختلف کیسوں کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے علاوہ پارلیمنٹ میں بھی یکے بعد دیگرے سنگین رکاوٹیں درپیش ہیں ، نئی مردم شماری کے نتیجہ میں حدبندیوں کا مسئلہ سینیٹ میں پر اسرار اندا زمیں ہنوز اٹکا ہوا ہے جس کی بناء پر آئندہ عام انتخابات کا انعقاد التوا میں پڑنے کا اندیشہ موجود ہے ، بعض اہم ترین ارکان پارلیمنٹ کایہ بھی خیال ہے کہ حلقہ بندیوں کے بل کے التوا اوردھرنا کے مابین کوئی تال میل موجودہے، اور ملک میں ہر لمحہ بنتی بگڑتی سیاسی صورتحال کے تناظر میں یہ اوپر تلے دونوں ایشوز آئندہ عام انتخابات کے انعقادکو تلپٹ کرنے کے علاوہ حکومت یا نظام کو پٹڑی سے اتارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کیونکہ وفاقی دارالحکومت میں یہ بات زبان زد عام تھی 15 نومبر سے15 دسمبر کے مابین ایسے غیر متوقع واقعات رونما ہونگے کہ دسمبر کے آخر تک اسمبلی ٹوٹنے یا حکومت کے خاتمہ کی سبیل پیدا ہو جائیگی ، جس کے نتیجہ میں مارچ میں سینیٹ انتخابات نہیں ہو پائیں گے۔

تاہم کچھ عرصہ قبل دارالحکومت کی سیاسی و سماجی محفلوں میں اس طرح کی پیشین گوئیاں ایک مذاق ہی لگتی تھیں لیکن جس طرح سینیٹ میں نئی حد بندیوں کا بل پورا ہفتہ التواء کا شکار ہوتا نظر آیا اورویک اینڈ پر دھرنے کے خلاف حکومتی ایکشن کے رد عمل میں بدترین تشدد سامنے آیا ہے ، اس سے ملک میں پہلے سے بڑھتی ہوئی سیاسی بے یقینی کے سائے مزید گہرے ہونے لگے ہیں۔

اس سنگین موقع پر پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے فوری طورپر نئے انتخابات کا ایک بار پھر مطالبہ نہایت معنی خیز ہے ، کیا عمران خان کے مطالبہ سے نئی حدبندیوں کے معاملہ پر پاکستان پیپلزپارٹی کے علاوہ پی ٹی آئی کی جانب سے بھی سینیٹ میں نئی حد بندیوں کے معاملہ پر مسلسل احتراز کا معمہ حل ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا؟

کیونکہ آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے پاکستان پیپلزپارٹی کا رویہ تو قدرے قابل فہم ہے کہ انہیں شائد عام انتخابات میں سے تیسری پوزیشن ہی ملے گی ، لیکن پاکستان مسلم لیگ ن پر پانامہ عذاب کے بعد تو پاکستان تحریک انصاف آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے سب سے بڑی سٹیک ہولڈر ہے ، پی ٹی آئی کی جانب سے 2018ء کے عام انتخابات کے انعقاد کے لئے آئینی رکاوٹوں کو دور کرنے سے لا تعلقی اختیارکرنا قابل فہم تھا ، تاہم دھرنے سے پھوٹنے والے فسادات کی لہر کے فوری رد عمل میں کپتان کی جانب سے جلد عام انتخابات کے مطالبے سے پچھلے ہفتہ سینیٹ میں کھیلے جانے والے کھیل کے ’’مسنگ لنک‘‘ سامنے آتے نظر آرہے ہیں۔

دارالحکومت میں گزشتہ روز متعدد شاپنگ ایریاز بند تھے ، سڑکوں پر ٹریفک غیر معمولی حد تک کم نظرآئی ، ویک اینڈ پر انتہائی مصروف رہنے والے ریستورانوں پر بھی رونق ماند پڑی ہوئی تھی ، آسمان پر بادل اور زمین پر بے یقینی کے سائے چھائے ہوئے تھے ، الیکٹرانک میڈیا کا گلا دبا دیا گیا تھا ، سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس کی غیر معمولی بندش جیسے ان تمام اقدامات سے دارالحکومت میں شاہراہ دستور پر خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ نظر آرہی ہے ۔

مزید :

کالم -