چالاک شوہر نے بیوی کو جیل بھجوا کر تیسری شادی رچالی

چالاک شوہر نے بیوی کو جیل بھجوا کر تیسری شادی رچالی
چالاک شوہر نے بیوی کو جیل بھجوا کر تیسری شادی رچالی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ملتان (ویب ڈیسک) دوسری شادی کرنے اور بچوں کو عدلت کی طرف سے مقرر کردہ خرچ کی ادائیگی سے بچنے کے لئے شوہر نے اپنے بھائی کے ماتھے پر تیزاب کے چند قطرے گرا کر بیوی اور سالے پر تیزاب گردی کا مقدمہ درج کروادیا۔

روزنامہ خبریں کے مطابق تھانہ کبیر والا مقدمہ نمبر 318/17 تیزاب گردی میں نامزد ملزم آصف نے بتایا کہ میری بہن صبا کی شادی 7سال قبل کبیر والا کے رہائشی محمد عمران ولد محمد اسلم سے ہوئی جس سے اس کی تین بیٹیاں بھی ہیں۔ شادی کے بعد عمران میری بہن کو صرف اس بات پر مارتا تھا کہ اس کے بطن سے مسلسل بیٹیاں پیدا ہورہی ہیں۔ تیسری بیٹی نور فاطمہ کی پیدائش پر عمران نے صبا کو گھر سے نکال دیا جس پر صبا عمران نے اپنے شوہر کے خلاف اپنا اور بچوں کے خرچ اور جہیز کے سامان کا دعویٰ دائر کردیا جو بعدازاں عدالت عالیہ نے صبا کے حق میں کردیا، عدالت عالیہ نے عمران کو ہر ماہ 12ہزار روپے جیب خرچ ادا کرنے کا حکم دیا۔ عمران نے یہ خرچ عدالت میں صرف ایک سال کا ادا کیا جبکہ باقی دو سال کا خرچ اس سال مبلغ 4لاکھ 80 ہزار ادا کرنا تھا۔ عمران نے خرچ سے بچنے کیلئے اور 10 نومبر کو تیسری شادی کرنے کیلئے پولیس سے ملی بھگت کے بعد اپنے بھائی محمد عدنان کے ماتھے پر تیزاب کے چند قطرے گراکر پولیس تھانہ صدر کبیر والا میں تیزاب گردی کا مقدمہ درج کروادیا۔ ایف آئی آر  میں یہ لکھا گیا کہ صبا عمران اپنے بھائی محمد آصف کے ساتھ موٹرسائیکل پر آئی اور دروازہ کھولنے پر عمران سمجھ کر عدنان پر تیزاب پھینک دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چھ نومبر کو ہونے والے اس وقوعہ کے روز محمد آصف جو صبا کا بھائی ہے موقع پر موجود نہ تھا بلکہ ملک سے باہر قطر میں موجود تھا۔ آصف نے مزید بتایا کہ اس مقدمہ کیا طلاع جب مجھے ہوئی تو میں 23 نومبر کو پاکستان واپس آگیا۔ اب میری بہن صبا جیل میں ہے اور معصوم تینوں بچیاں میری بوڑھی والدہ کے پاس ہیں جبکہ عمران نے تیسری شادی بھی کرلی ہے اور بچیوں کو خرچ دینے سے بھی بچ گیا ہے۔ آصف نے اپیل کی ہے کہ میری بہن صبا بالکل بے گناہ ہے۔ اس وقوعہ اور مقدمہ کی کسی ایماندار افسر سے انکوائری کروائی جائے اور قصور وار ثابت ہونے والے ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

مزید : ملتان