’’ ختم نبوت کے تحفظ کا کام کرنے والے حضور ﷺ کے چوکیدار ہیں ‘‘علماء کرام

’’ ختم نبوت کے تحفظ کا کام کرنے والے حضور ﷺ کے چوکیدار ہیں ‘‘علماء کرام
’’ ختم نبوت کے تحفظ کا کام کرنے والے حضور ﷺ کے چوکیدار ہیں ‘‘علماء کرام

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ختم نبوت کانفرنس وتین روزہ کورس جامعہ عثمانیہ آسٹریلیا مسجد لاہور میں منعقدہوا۔ جس کی صدارت بزرگ عالم دین مولانا عبدالرؤف ملک نے کی ۔ختم نبوت کانفرنس اور کورس میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا،مجلس لاہور کے سرپرست مولانا نعیم الدین،معروف مصنف محمدمتین خالد،مجلس لاہور کے مبلغ مولانا عبدالنعیم،مولانا قاری عبدالعزیز،پیرمیاں رضوان نفیس،مولانا قاری جمیل الرحمن اختر،مولانا حافظ محمدسلیم،مولانا محمدگلفام،خطیب مرکزختم نبوت مولانا محبوب الحسن طاہر،مولانا سیدضیاء الحسن شاہ،مولانا محمدقاسم گجر،مولانا محمدسعادت،مولانا خالدمحمود،مولانا سعید وقار ودیگرعلماء نے شرکت کی اورخطاب کیا۔مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کا بنیا دی اور اساسی عقیدہ ہے عقیدہ ختم نبوت ،قرآن مجید کی ایک سو آیات مبارکہ ،اور دوسو دس احادیث سے ثابت ہے ۔سب سے پہلا اجماع عقیدہ ختم نبوت پر ہوا۔ اتحاد امت کا مرکزی نقطہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہے،عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کا تحفظ کرنے والے حضور ﷺ کی ذات کے نگہبان اور چوکیدارہیں، قادیانیت کا فتنہ اسلام کی جڑیں کھوکھلی کررہا ہے، قادیانی لابی مسلسل عالمی سطح پر اپنی مصنوعی مظلومیت کا واویلا کرکے اسلام اور پاکستان کے وجود کو بدنام کر رہی ہے۔ مولانا نعیم الدین نے کہا کہ بہت ساری قربانیوں اور صبر آزما جدوجہد کے بعد قادیانیوں کو کافر قرار دیا گیا تھا، اپنے اکابرین کی جدوجہد کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔مولانا عبدالنعیم نے کہا کہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے جو کلمہ طیبہ کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا اور اسکا سرکاری مذہب اسلام ہے اور قرار داد مقاصد اس کے آئین کا حصہ ہے۔ اسلام اور آئین پاکستان نے جو اقلیتوں کو حقوق دیے ہیں وہ پاکستان میں انہیں مکمل طور پر حاصل ہیں لیکن قادیانی آئین پاکستان کو ماننے سے انکاری ہیں ۔ قادیانی آئین کو نہ مان کر کھلم کھلا آئین سے بغاوت کا ارتکاب کررہے ہیں۔ قاری جمیل الرحمن اخترنے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کے دونوں گروہ (قادیانی اور لاہوری) کو ان کے کفریہ عقائد کی وجہ سے 1974ء میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا لیکن آج قادیانیوں نے پارلیمنٹ کا فیصلہ تسلیم نہیں کیا ۔ قادیانی گروہ مسلسل آئین پاکستان اور پارلیمنٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ امت کے تمام طبقات کی محنت کے نتیجے میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا قادیانیوں سے متعلق قوانین ختم کرنے کی کسی بھی کوشش کی کوبرداشت نہیں کریں گے۔

مزید : لاہور