تیری جپھیاں کسی کام نہ آویں گی

تیری جپھیاں کسی کام نہ آویں گی

امریکہ پاکستان کے داخلی حالات خراب کرکے جن مکروہ عزائم کی کوششیں کررہا ہے ،پاکستان اپنی بساط سے بڑھ کر اُن کا مقابلہ کررہا ہے جس کی وجہ سے امریکہ مجبور بھی نظر آتا ہے کہ وہ انڈیا افغانستان اور اسرائیل کے ساتھ مل کر بھی پاکستان کا مقابلہ نہیں کرپارہا ۔امریکہ اس صدمہ سیدوچار ہے کہ پاکستان نے حقیقت میں دہشت گردی کی جنگ جیت لی ہے۔اسکی توقع کے برعکس ان علاقوں میں جہاں صدیوں سے تاج برطانیہ ،سابق سوویت یونین اور امریکہ قبضہ کرنے کی حسرت میں شکست و ریخت سے دوچارہوئے وہاں پاکستان کی فوج نے پیشہ وارانہ مہارتوں کے ساتھ امن کا پرچم لہرا دیا ہے ۔سوات وزیرستان کے وہ علاقے جہاں بھارت کے فوجی اور ہندو جنگجوطالبان کے روپ میں ان کے ساتھی بن کر پاکستان کا مقابلہ کرتے ہوئے جہنم واصل ہوئے ،ان علاقہ جات کوغیر اعلانیہ جنگ لڑ کر بھارت اور افغانستان نے اپنے تئیں پاکستان سے الگ کردیا تھا لیکن پاک فوج کے شہد ا نے گوریلا جنگ لڑکر فتح کی نئی تاریخ رقم کردی ۔ا س بنا پر پاک فوج کی گوریلا جنگوں میں مہارت کو دنیا بھر میں تسلیم کیا گیاہے ۔یہی خوف کا وہ ہتھیار ہے جو امریکہ کو سکون نہیں لینے دے رہاکہ پاک فوج نے ترقی نے بہت سی منازل طے کرلی ہیں۔اسے اٹامک کمانڈ پر دسترس اوراپنی قوم کی مکمل حمایت حاصل ہے،ایسے حالات میں فوج سے پنگا لینا خود امریکہ کے لئے خطرہ بن سکتا ہے اور وہ یہ بات خوب سمجھتا ہے ۔لیکن سمجھنے کے باوجود وہ پاکستان کی جڑیں کھودنے میں لگارہتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ ماہ پاکستان کے خلاف زبان درازی کیوں کی تھی ؟ اس کا سبب بھی فتنہ پیدا کرکے پاکستان کا بیلنس چیک کرنا تھا کہ یہ ملک اپنے پیروں پر کتنا کھڑا ہے۔اس نے پاکستان کا کولیشن فنڈ بھی روک دیا ۔بھارت کو آگے ہانکا اوراس نے پاکستان مخالفت میں پانچ سو ملین ڈالرمختص کردئے ،کوئٹہ سے خیبر پختونخواہ تک ہائی پروفائل پولیس افسروں کو خودکش حملوں سے شہید کراکے پولیس فورس میں بے چینی اور عدم تحفظ پیدا کیا ۔سوئٹزرلینڈ اور انگلینڈ میں آزاد بلوچستان کی اشتہاری مہم چلاکر حالات خراب کرنے کی کوشش کی ،تربت میں بیرون ملک جانے والے پنجابیوں کو اپنے ایجنٹوں سے قتل کراکے نسلی لسانی فسادات پیدا کرنے کی کوشش کی ،عدلیہ اور فوج کے خلاف سیاسی بنیادوں پر نفرت کا بیج بویا ۔۔۔جرائم اور سازشوں کی یہ ایک لمبی فہرست ہے جو امریکہ کی پاکستان مخالفت میں بھارتی وافغانی ایجنٹوں نے لکھ ڈالی ہے۔ یہ چومکھی جنگ ہے جسے پاکستان کے سلامتی کے ادارے قوم کے اعتماد کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔کاش ہمارے منتخب سیاستدان بھی قومی سلامتی اور مفادات کو سمجھ کر اپنا موثر کردار اداکریں تاکہ امریکہ کا پاکستان میں انارکی پھیلانے اور اسکی بنیادوں کو کمزور کرنے کا ہر منصوبہ ناکام ہوجائے ۔خیر یہ المیہ ہے ہمارا۔

ان حالات میں امریکہ نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں اور جدید ہتھیاروں پر قبضہ کا بھی شوشہ چھوڑ رکھا ہے ۔ امریکہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ کے بارے کیا سوچ رہا ہے اور اسکے ردعمل میں پاکستان کیا کرسکتا ہے اس پر سینئر تجزیہ نگار نصرت مرزا نے اپنے کالم میں امریکہ کو لتاڑ کر رکھ دیا ہے ۔کیا خوب لکھا ہے ’’پاکستان نے حُسن خوبی سے دہشت گردی پر قابو پایا ہے اور غیرملکی مداخلت کو حسن کمال کارکردگی سے روکا ہے، جس پر دشمن حیران ہے۔ وہ بھارت ہو یا امریکہ یا کوئی اور ملک بہت بْری طرح سے فیل ہوئے ہیں۔ پاکستان کے عوام کے مسائل کی معلومات ان کے پاس ہے وہ اس کو یکے بعد دیگرے بروئے کار لارہے ہیں، جیسے نوکری کی تلاش میں نوجوان سرگرداں ہیں تو انہوں نے نوکری کے بہانے بلا کر تربت جیسے واقعہ کو جنم دیا جس میں 20 افراد بے گناہ مار دیئے گئے ،البتہ پاکستان نے وہ نیٹ ورک اب توڑ دیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان نے دوسرے کئی ایسے اقدامات بھی کئے ہیں جس نے دشمن کی سازشوں، خودکش حملوں اور بم دھماکوں کو روکا ہے۔ اس میں بہادر فوجی نوجوان نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے دشمن کی چالوں کو ناکام بنایا ہے۔ دشمن ملک میں ایسے کام بھی کرا رہے ہیں جس سے بے چینی پھیلے جس میں بھی دشمنوں کو خاطرخواہ کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔ پاکستان ایک جدید ایٹمی طاقت ہے۔ امریکہ کا ایٹمی اسلحہ پرانا ہے اور اس کو جدید بنانے کے لئے پینٹاگون نے 3 ٹریلین ڈالر مانگے ہیں۔ پاکستان کا کمان اینڈ کنٹرول سسٹم جدید ہے ۔اس کے ایٹمی اثاثہ جات و میزائل محفوظ ہیں۔ دوسرے ایٹمی حملے کی صلاحیت وہ حاصل کر چکا ہے، پاکستان نے کئی جدید ہتھیار بنائے ہوئے ہیں جن میں سے اس نے صرف ایک کا اظہار Multiple Independenly R۔entry Vaticle (MIRV) کا تجربہ بھی کیا اور عالمی اخبارات میں لکھا گیا کہ یہ ہتھیار تین مختلف مقامات کو دشمن کے علاقے میں نشانہ بنا سکتا ہے۔ ہمیں تو نہیں معلوم کہ سائبر معاملے میں ہم کس مقام پر پہنچے ہیں تاہم ہمیں یقین ہے کہ پاکستان اس طرف پیش قدمی کرچکا ہے۔ وہ منجمد کرنے والے آلات پر بھی کام کررہا ہوگا۔ اسرائیل اور امریکہ نے اس پر کام کیا کہ آئرن ڈروم اور پیٹریاٹ قسم کے نظام وضع کئے تاکہ میزائل حملوں کو روک لے یا روس کا S۔400 کا نظام ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ اگر آلات منجمد کردیئے جائیں تو ہم کیا کرسکتے ہیں،ہمارے پاس محدود پیمانے کی تباہی پھیلانے والے ایٹمی ہتھیار ہیں جس کی وجہ سے بھارت ہم پر حملہ کرنے کی جرآت نہیں کر رہا ہے اور امریکہ بھی ہمارے Warhead Tacticalکی وجہ سے جزبز ہے اور اس کا پہلا ہدف ہمارے یہ محدود تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔ امریکہ کے پینٹاگون نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیار پر قبضہ کرنے کا جو شوشہ چھوڑا ہے اس میں محدود پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہدف نمبر ون قرار دیئے ہیں کیونکہ یہ ہتھیار امریکہ اور روس کے علاوہ کسی اور ملک کے پاس نہیں ہیں، اگر امریکہ اْن کو اپنی دسترس میں لے لیتا ہے تو بھارت کو اس قابل بنا دے گا کہ وہ پاکستان پر حملے کرسکے۔ اس کے بغیر ہم بھارت کے کیل کانٹے سے لیس دستوں کو بھاپ کی طرح اڑا دیں گے۔ عین ممکن ہے کہ امریکہ بھارت کے لئے وہ سائبر استعمال کرے یا وہ چار تجویز کئے گئے اقدامات پر عمل کرے۔ بڑا آپریشن ہو، بھارت اور افغانستان پاکستان پر حملہ کریں اور یہ JSOC (جوائنٹ اسپیشل آپریشن کمانڈ) سریع الطراف مشترکہ کمانڈ ریڈیائی لہروں کی تلاش کے ماہر ہیں۔ وہ اندر گھس کر ہمارے ایٹمی اثاثہ جات اٹھا کر لے جانے کی کوشش کریں اور پھر شاید جن لوگوں نے یہ رپورٹ بنائی وہ جیمز بونڈ فلم کی طرح کام کرتے نظر آتے ہیں مگر اْن کو یہ معلوم نہیں یہ آگ ہے اور وہ بھی جہنم کی آگ اگر برسی تو امریکہ کس طرح بچ سکے گا۔ ہم اس پر مزید تبصرہ نہیں کریں گے صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ امریکہ کے افغانستان میں 9 اڈے بھی اس کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسرا مسئلہ ہتھیار منجمد کرنے کا ہے۔ کچھ ایسے ہتھیار بھی ہیں امریکہ کے پاس ہیں جو دنیا کو اب تک نہیں معلوم۔ مگر شنید ہے کہ ہمارے پاس بھی کچھ ایسے ہتھیار ہیں جو امریکہ کو نہیں معلوم اس لئے امریکہ کو صرف مشورہ دیا جاسکتا ہے کہ وہ ذرا احتیاط سے کام لے۔ ہم شمالی کوریا نہیں اور نہ ہی ویتنام یا افغانستان ہیں۔ اگر اس قسم کا کوئی اقدام کیا تو آپ ہمارا ملک ہی نہیں بلکہ دنیا خطرے میں پڑ جائے گی‘‘ اوراس میں کوئی شبہ بھی نہیں۔خاص طور پر بھارت بھی اس جنگ میں ٹوٹ جائے گا ،افغانستان کا بھی ستیاناس ہوگا۔ بھارت کی امریکہ سے جھپیاں کسی کام نہ آویں گی ۔اسکا اندازہ بھارت کو پہلے سے ہوچکا ہے ۔اسکے اندر تک نسلی علاقائی عدم استحکام ہے ۔لہذا امریکہ اوربھارت کو حقائق تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا چاہئے۔پاکستان کو کمزورکرنااور توڑنا اب آساں نہیں۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...