دہشت گردی میں ’’را‘‘ ملوث ہے تو۔۔۔؟

دہشت گردی میں ’’را‘‘ ملوث ہے تو۔۔۔؟

  



بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سلیم کھوسہ نے کہا ہے کہ اِس میں کوئی شک نہیں کہ صوبے کے حالات خراب کرنے میں بھارت کا ہاتھ ہے،اور بیشتر واقعات کی کڑیاں بھارتی خفیہ اداروں سے ملتی ہیں، کراچی میں انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب نے کہا ہے کہ چینی قونصل خانے پر حملے کی ذمے داری کالعدم تنظیم نے قبول کی اور اس کے پیچھے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ’’را‘‘ کا ہاتھ ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ تحقیقات کر رہے ہیں کہ دہشت گرد کہاں سے آئے تھے، تین حملہ آور تھے اور تینوں مارے گئے۔اُن کا کہنا تھا کہ گاڑیاں دستی بموں کی وجہ سے جلی ہیں، پہلے پوائنٹ پر ہمارے جوانوں پر ہینڈ گرنیڈ سے حملہ کیا گیا، دستی بم حملے کے باعث کوئٹہ کے رہائشی باپ بیٹا شہید ہوئے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریکی کے بغیر یہ کام نہیں ہو سکتا، دہشت گردوں سے ملنے والا مواد سی فور دیسی ساختہ نہیں ہوتا،جس نے دہشت گردوں سے کام کرایا ممکن ہے بارود اُسی نے دیا ہو۔صوبہ خیبرپختونخوا کے گورنر شاہ فرمان کا کہنا ہے کہ چینی قونصل خانے اور ہمارے صوبے میں اورکزئی کے مقام پر خود کش حملے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔

سی ٹی ڈی نے چینی قونصل خانے پر حملے کا جو مقدمہ درج کیا ہے اس میں کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی کے سربراہ حیر بیار مری کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق چین سے پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اور معاشی تعلقات کو خراب کرنے کے لئے ’’را‘‘ نے اِس حملے کے لئے حیر بیار مری سے تعاون کیا، ایف آئی آر میں مرکزی ملزم کے بارہ معاونین کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ خود وزیراعظم عمران خان کہہ چکے ہیں کہ چینی قونصل خانے پر حملے کا مقصد اُن کے کامیاب دورۂ چین کے اثرات کو زائل کرنا تھا۔اگر واقعی ایسا ہے تو اِس سے بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں، بلوچستان کے وزیر داخلہ تو کھل کر کہہ رہے ہیں کہ اُن کے صوبے میں دہشت گردی کی وارداتوں میں بھارت براہِ راست ملوث ہے، کراچی کے واقعہ کی ایف آئی آر میں بھی ’’را‘‘ کی معاونت کا ذکر کر دیا گیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جو بارود اِس حملے میں استعمال کیا گیا وہ مقامی طور پر دستیاب ہی نہیں اور جس کسی نے بھی یہ مہیا کیا ہے اس کا تعلق بیرونِ مُلک سے ہے۔ ایسے میں جب بھارت کے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کی بات کھل کر کی جا رہی ہے۔ معلوم نہیں وفاقی حکومت نے یہ معاملہ کسی سطح پر بھارت کے ساتھ اُٹھایا ہے یا نہیں، اگر ایسا کوئی واقعہ بھارت میں ہوا ہوتا تو اس نے اپنے میڈیا سے مل کر اب تک آسمان سر پر اُٹھایا ہوتا، جیسا کہ وہ ہمیشہ ایسے واقعات میں کرتا رہا ہے کہ اُدھر کسی جگہ دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہو اور اگلے ہی لمحے بھارت نے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرا دیا بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں،جب تحقیقات کے بعد دہشت گردوں کا تعلق زعفرانی گروہوں سے نکلا،لیکن کسی قسم کی تحقیقات سے پہلے ہی ملبہ پاکستان پر ڈال دیا گیا۔

ممبئی حملوں میں جس اجمل قصاب کو ذمے دار ٹھہرا کر پھانسی دی گئی اور جسے پاکستانی شہری ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا اب اُس کے بارے میں واضح ہو چکا ہے اور دستاویزات بھی سامنے آ چکی ہیں کہ وہ بھارتی شہری تھا، لیکن آج تک بھارت اس واقعے کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے لئے استعمال کر رہا ہے اور عالمی فورموں پر جہاں کہیں بھی دہشت گردی کی بات ہوتی ہے وہ پاکستان کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔اب اگر بلوچستان کے ایک ذمے دار وزیر اور دہشت گردی کی وارداتوں کی تحقیقات کے ماہر سینئر پولیس افسر بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ حملے کے پیچھے بھارت کا خفیہ ادارہ ہے، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان یہ معاملہ کسی سطح پر بھارت سے اُٹھا کیوں نہیں رہا؟ کیا یہ مسئلہ اُٹھانے کا کوئی ارادہ بھی ہے یا نہیں۔۔۔؟ اور کیا بھارت کے ملوث ہونے کا ذکر اخباری بیانات تک ہی محدود رہے گا۔اِسی سوال سے جڑا ہوا دوسرا سوال یہ بھی ہے کہ ایک طرف تو بھارت ہمارے مُلک میں دہشت گردی کروا رہا ہے اور کلبھوشن یادیو کی گرفتاری بھی اس کا ثبوت ہے اور دوسری جانب ہم راستے کھولنے میں گرمجوشیاں دکھا رہے ہیں۔

یہ درست ہے کرتار پور بارڈر سے سکھ یاتری اپنے مقدس مقام کی زیارت کے لئے سہولت کے ساتھ آ جا سکیں گے اور سکھ کمیونٹی کے لوگ اس پر خوش بھی ہیں اور اپنے جس کرتار صاحب گوردوارے کو وہ طاقتور دور بینوں کی مدد سے دیکھا کرتے تھے اب ننگی آنکھ سے بنفسِ نفیس اس کی زیارت کے لئے شارٹ کٹ کر کے آ سکیں گے،لیکن اگر کراچی کے چینی قونصل خانے پر حملے میں بھارت کے خفیہ ادارے کے ملوث ہونے کی بات درست ہے تو پھر یہ بھی قابلِ غور بات ہے کہ ایسے میں ایک نیا بارڈر کھول کر سکھوں کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کے لئے بھی تو سہولت پیدا نہیں کی جا رہی؟کرتارپور بارڈر کھولنے کی بات سے وزیراعظم کے کرکٹر دوست نوجوت سنگھ سدھو تو خوش ہوگئے تھے،لیکن مابعد جو کچھ ہوا اس پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔پورے بھارت میں اِس معاملے پر ایک ہنگامہ مچا رہا، پاکستان کو تو جو کچھ کہا گیا سو کہا گیا، سدھو کو بھی آڑے ہاتھوں لیا گیا اُن کا تعلق چونکہ کانگرس سے ہے، اِس لئے بی جے پی کے ہر چھوٹے بڑے نے کانگرس کی مذمت میں اپنا حصہ ڈالا تاہم سدھو پاکستان کے اِس فیصلے کو سراہتے رہے،لیکن دہشت گردی کی موجودہ فضا میں اگر اس پہلو پر بھی اچھی طرح سوچ بچار کر لی جائے تو اچھا ہو گا۔

پاکستان کے اندر خوش فہم لوگ تصویر کا صرف روشن پہلو دیکھ کر ابھی سے کہنے لگے ہیں کہ کرتارپور بارڈر کھلنے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئے گی، حالانکہ اگر بھارت پاکستان میں دہشت گردی کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتا اور یہاں تک کہ چین کے قونصل خانے پر حملے میں بھی معاونت کا شبہ ہے، تو پھر ایسے میں تعلقات کی بہتری کا خواب کیونکر اور کیسے دیکھا جا سکتا ہے؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ اس راستے کے کھلنے سے غیر حقیقی اور غیر معقول توقعات وابستہ کرنے کی بجائے اِس واقعہ کو صرف محدود مقصد کی نظر سے دیکھا جائے۔اِس امر میں تو اب کوئی شبہ نہیں رہا کہ سی پیک ہی بھارت کا ہدف ہے، اور یہ بات تو بھارتی جاسوس پہلے ہی تسلیم کر چکا ہے اور چین کے معروف تھنک ٹینک نے تو سی پیک کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی بھی کر دی ہے، جس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میران شاہ وانا سے ملحقہ افغان سرحد پر واقع خوست اب بھی پاکستان دشمن قوتوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملے زیادہ تر یہیں سے پلانٹ کئے جاتے ہیں، سی پیک کو تین مخالف قوتوں سے خطرات کا سامنا ہے ان میں تحریک طالبان پاکستان، حکومت مخالف عناصر اور کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ شامل ہیں۔ چینی تھنک ٹینک کی اِس رپورٹ میں بھارت کی طرف سے سی پیک منصوبے کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈہ مہم کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔بی ایل اے سی پیک کے منصوبوں پر کام کرنے والے چینی باشندوں کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کو بھی نشانہ بناتی رہی ہے،سیکیورٹی فورسز کی موجودگی کی وجہ سے شرپسندوں اور تخریب کاروں کے عزائم کامیاب نہیں ہوئے تاہم اِکا دُکا واقعات سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ان کا خاتمہ نہیں ہوا، اور وہ بلوچستان میں موجود ہیں۔

دہشت گردی کی وارداتوں میں ’’را‘‘ کے ملوث ہونے اور سی پیک کے بارے میں چین کی رپورٹ کو ملا کر پڑھنے اور کرتارپور بارڈر کھولنے جیسے واقعات کو دیکھا جائے تو ایک طرف بھارت کے خفیہ عزائم ہیں، جن میں وہ پاکستان اور چین کو بیک وقت نشانہ بنا رہا ہے،جبکہ دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کرتارپور سرحد کھولنے کو ’’عوام کے عوام سے رابطے‘‘ کا نام دے رہے ہیں۔ ایک جانب تو سدھو کے پاکستان کے لئے تعریف کے چند کلمات ہی بھارتیوں کو گوارا نہیں تھے اور وہ اپنے ایک ہم وطن کو اتنی سی بات پر رگیدتے چلے جا رہے تھے کہ اس نے جوشِ مُسّرت میں پاکستان کے فیصلے کی تعریف کر دی تو دوسری جانب اب سرحد کھولنے کے سلسلے میں بظاہر گرمجوشی کی کیفیت کیا کوئی نئی چال تو نہیں۔ یہ جو کچھ بھی ہے اس سے باخبر رہنا ضروری ہے اور کرتارپور سرحد کے مسئلے پر خوشی کے غیر معمولی شادیانے بجانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔البتہ یہ دیکھنا ہو گا کہ دہشت گرد اس نئے روٹ کو بھی استعمال نہ کرنے لگیں۔

****

مزید : رائے /اداریہ


loading...