بابائے صحافت مولانا ظفر علی خانؒ

بابائے صحافت مولانا ظفر علی خانؒ
بابائے صحافت مولانا ظفر علی خانؒ

  



بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کو وفات پائے آج پورے 62برس گزر گئے ہیں،لیکن ہمارے دِل آج بھی اُن کی یاد سے معمور ہیں۔ ان کی صحافتی، ادبی اور سیاسی خدمات پر اب تک بے شمار تنقیدی اور تحقیقی کتابیں، مقالات اور مضامین لکھے گئے ہیں۔

کئی رسائل نے خصوصی نمبر بھی شائع کئے ہیں،جو لاتعداد محافل و سیمینار منعقد ہوئے اور اہلِ علم نے ان کی شخصیت اور فن کی مختلف جہات پر روشنی ڈالی، وہ الگ! ان سب مساعی کا ایک بڑا مقصد نئی نسلوں کا رشتہ اپنے تہذیبی ماضی سے جوڑے رکھنا ہے۔

ممکن ہے بعض طبائع لفظ ’’ماضی‘‘ سے کھچاؤ محسوس کریں،ان کے لئے عرض ہے کہ ادب اور ابلاغ کے فنون میں کتنی بڑی تبدیلیاں بھی کیوں نہ آ جائیں،مولانا ظفر علی خان کی مساعی جمیلہ کا تذکرہ پھر بھی ناگزیر ہو گا۔ اسی طرح سے آگہی ملے گی کہ جب ہمارے گردو پیش میں ہر طرف انتشار و افتراق ہو اور آگے بڑھنے کے امکانات معدوم نظر آ رہے ہوں تو پھر اظہار و ابلاغ کی دُنیا میں نئے راستے کیسے بنانے ہوتے ہیں اور اپنی ملّت کے تہذیبی تشخص کو کیسے قائم رکھنا ہوتا ہے۔

مولانا ظفر علی خان کے والد مولوی سراج الدین اپنے آبائی گاؤں کرم آباد(وزیر آباد) سے ایک ہفت روزہ ’’زمیندار‘‘ نام سے شائع کرتے تھے، جس کا بڑا مقصد کاشتکاروں اور زمینداروں کی غلط رسوم کی اصلاح تھا۔ مولوی صاحب نے جب اپنی زندگی کا چراغ بجھتا ہوا محسوس کیا تو مولانا کو یہ جریدہ جاری رکھنے کی وصیت کی۔چنانچہ سراج الدین وفات پا گئے تو مولانا ’’زمیندار‘‘ کو لاہور لے آئے اور اسے روزنامہ کی شکل دے دی۔ یوں قارئین کا دائرہ بھی وسیع ہو گیا۔اس وقت تک مولانا کو کافی صحافتی تجربہ ہو چکا تھا۔

اس سے پہلے وہ اگست1910ء سے ایک ماہوار رسالہ ’’پنجاب ریویو‘‘ بھی کرم آباد سے جاری کر چکے تھے۔ ’’زمیندار‘‘ کی باگ ڈور سنبھالی تو سامنے اظہار و ابلاغ کی ایک نئی دُنیا تھی۔

ایک طرف انگریزی استبداد اپنی پوری طاقت کے ساتھ قائم تھا۔ اس کی مرضی و منشا کے خلاف کسی خبر کا چھاپنا اور حکومتی پالیسیوں پر حرفِ اعتراض اٹھانا بہت مشکل مسئلہ تھا۔ دوسری طرف اہلِ ہند کے حالات متقاضی تھے کہ ان کے مسائل و معاملات کی صحافتی سطح پر زیادہ موثر انداز میں آواز اٹھائی جائے۔

ہفت روزہ ’’زمیندار‘‘ یکم مئی1911ء سے لاہور سے نکلنے لگا، اسے کاشتکاروں اور زمینداروں کے علاوہ مسلم عوام کی امنگوں کا ترجمان بنا دیا گیا۔ اس کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ اشاعت سات سو سے بڑھ کر بارہ سو اور پھر جلد ہی دو ہزار تک جا پہنچی۔

اسلامی دُنیا کے حالات نے اچانک پلٹا کھایا۔ ستمبر 1911ء میں اٹلی نے طرابلس پر حملہ کر دیا۔ ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار لکھتے ہیں کہ ترک جرنیلوں انور پاشا اور مصطفی کمال پاشا نے مقامی مسلمانوں کو دفاعِ وطن کے لئے تیار کر کے جنگ میں حصہ لیا۔

5اکتوبر 1911ء سے ’’زمیندار‘‘ روزانہ اخبار ہو گیا اور جہازی سائز کے چار صفحوں پر چھپنے لگا۔ تعداد اشاعت پانچ ہزار ہو گئی۔اسی اثنا میں ریاست ہائے بلقان نے یورپی طاقتوں کی شہہ پر متحد ہو کر ترکی علاقوں پر یلغار کر دی۔دارالخلافت استنبول خطرے میں پڑ گیا۔

ان حالات نے جنوبی ایشیاء کی ملت اسلامیہ میں ہیجان پیدا کر دیا۔محاذِ جنگ کی خبروں اور مولانا ظفر علی خان کے پُرزور اداریوں نے زمیندار کو عوام کا مقبول ترین اخبار بنا دیا۔ چند ماہ ہی میں تعداد اشاعت20ہزار تک جا پہنچی۔

مولانا ظفر علی خان نے اپنی تحریروں میں جذبات کے ساتھ ساتھ استدلال کا دامن بھی تھامے رکھا۔اس کے باوجود انگریز حکومت کو ان کی حق گوئی پسند نہ آئی۔چنانچہ12مارچ1912ء کو زمیندار اور اس کے پریس سے ایک ایک ہزار روپے کی ضمانت طلب کر لی۔

دوسری بار1913ء میں یہ ضمانت حکومتی نظم و نسق پر اعتراض کرنے کی بنا پر ضبط ہو گئی۔اس کے بعد مچھلی بازار کانپور میں واقع ایک مسجد کا کچھ حصہ گرایا گیا تو ’’زمیندار‘‘ نے بڑی دلیری اور جرأت کے ساتھ ملت کے مفاد کی ترجمانی کی۔

اس جرمِ حق گوئی پر دس ہزار روپے کی ضمانت طلب کر لی گئی جسے تھوڑی عرصے بعد ہی حکومت نے ضبط کر لیا۔اخبار اور پریس کی بار بار ضبطی کا سلسلہ قیام پاکستان تک جاری ہا۔ کئی دفعہ مولانا کو جیل میں بھیجا گیا۔ایک موقع پر مولانا نے شعر کی صورت میں اپنے عزم صمیم کا اظہار کیا:

روکیں گے وہ کیوں کر میرے خامہ کی روانی

تِنکے سے بھی ہوتا ہے کہیں سیلِ رواں ضبط

وہ ضبط کریں میری دوات اور قلم کو

ہو جائیں گے خود ان کے تفننگ اور سناں ضبط

مولانا کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے ہندوستانیوں کے دِلوں سے برطانوی راج کا خوف نکال دیا۔ اوائل میں مولانا کانگرس کے حامی تھے،لیکن رفتہ رفتہ کانگرس کے مسلم دشمن رویئے ان پر کھلتے گئے تو وہ آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہو گئے اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت قبول کر لی۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے حقوق کے لئے کئی تحریکیں اٹھائیں۔مولانا ظفر علی خان نے ہر تحریک کو اپنے قلم اور زبان کے ذریعے طاقت فراہم کی۔

مسلمانوں میں اپنا تہذیبی اور قومی تشخص برقرار رکھنے کا احساس بیدار کیا۔

مولانا اپنی ذات میں قادر اکلام شاعر اور بے مثال نثر نگار ہو نے کے ساتھ ساتھ بہترین مقرر بھی تھے۔ان کی کئی سو تقریروں کو پاکستان کے ممتاز مؤرخ پروفیسر احمد سعید نے گفتارِ ظفر علی خان کے عنوان سے مرتب کر کے مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کی طرف سے شائع کروا دیا ہے۔ ان تقریروں سے مولانا کی طلاقتِ لسانی کا خوب اندازہ ہوتا ہے۔

مولانا کے پاس عمدہ سے عمدہ خیالات ہیں اور برمحل الفاظ و محاورات اور ضرب الامثال کی فراوانی کا تو یہ عالم ہے کہ یوں لگتا جیسے ایک آبشار بہتا ہوا آ رہا ہے۔ آغا شورش کاشمیری لکھتے ہیں:

1949ء کے شروع میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی اُردو کانفرنس کے اجلاس عام کو اپنی کانپتی ہوئی آواز میں خطاب کیا۔ان کی پاٹ دار آواز میں رعشہ آ گیا تھا،جن ہونٹوں سے کبھی استعمار کانپا کرتا تھا۔

اب وہ کانپ رہے تھے۔ قد دوہرا ہو گیا تھا۔چہرے پر جھریاں اِس طرح پھیل گئی تھیں جیسے کوئی پرانا لہریا دوپٹا ہو،آنکھوں میں اب بھی چمک تھی،لیکن احساس یہ ہوتا تھا کہ حسرتوں نے کاجل لگا دیا ہے فرمایا:’’ ہمارا قافلہ منزلِ مقصود پر پہنچ چکا ہے۔ اس کے بعد تمنائے راہ پیمائی تو ہے،مگر قوتِ راہ پیمائی نہیں، کبھی ہم تماشائی تھے اور دُنیا تماشا۔

اب ہم تماشا ہیں اور دُنیا تماشائی۔جہاں چڑھتے ہوئے سورج کی پوجا ہوتی ہو وہاں ڈوبتے ہوئے آفتاب کو کون پوچھتا ہے اور ہم تو ڈوبتے ہوئے تاروں کی طرح دُنیا پر نظر ڈال رہے ہیں‘‘۔

(’’قلم کے چراغ‘‘، مرتبہ:پروفیسر محمد اقبال جاوید)

مزید : رائے /کالم


loading...