آ’’نیب‘‘ مجھے مار!

آ’’نیب‘‘ مجھے مار!
آ’’نیب‘‘ مجھے مار!

  



وفاقی وزیر برائے بحری امور سید علی حیدر زیدی پچھلے دنوں ایک کے بعد ایک الیکٹرانک میڈیا چینل پر ایک فائل لہرا لہرا کر یہ دعویٰ کرتے رہے کہ اندرون و بیرون ملک ان کے تمام کاروباروں، منقولہ وغیر منقولہ اثاثوں، مالیاتی امور، سال بہ سال آمدن اور ادا کردہ ٹیکسوں وغیرہ کی تمام تر تفصیلات فائل ہذا میں موجود ہیں۔

موصوف چھاتی ٹھونک کر یہ لاف زنی بھی کرتے رہے کہ وزارت کا قلم دان سنبھالتے ہی انہوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ نیب (NAB) کے دفتر میں خود حاضر ہوگئے، فائل کی کاپی نیب حکام کے حوالے کی اور یہ پیش کش بھی کردی کہ نیب کا محکمہ جس پہلو سے چاہے فائل کے مندرجات کی چھان پھٹک کرلے، وہ اپنے احتساب کے لئے ہر دم حاضر ہیں۔ قارئین! وزیر موصوف کی بڑھکیں یہیں پر ختم نہیں ہوئیں، آگے بھی سنئے اور سر دھنئے کہ غیر متوقع طور پر پہلی بار وزارت ہاتھ لگ جانے کے جوش و سروراور وفور ہیجان میں موصوف میڈیا پر کیسی درفنطنی کا انکشاف کر بیٹھے۔ فرمایا کہ انہوں نے نیب کے افسران کو تو رضا کارانہ طور پر یہ پیش کش بھی کر دی ہے کہ چاہیں تو ان کی وزارت میں نیب کے نمائندے بھی بے شک تعینات کر دیں، جو وزارت کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری کئے جانے والے ٹھیکوں اور دیگر معاہدوں پر عمل درآمد سے قبل ان کی ناقدانہ چھان پھٹک (VETTING) کرکے اُن میں ضروری ردوبدل اور درستی بھی کردیا کریں، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ممکنہ بے اعتدالیوں اور بدعنوانیوں کی بروقت روک تھام میں مدد ملے گی اور کسی قسم کا احتمال باقی نہ رہے گا!۔۔۔واہ وزیر موصوف، واہ! سبحان اللہ! اپنی ان معصوم اداؤں پر ذرا خود ہی غور فرمالیجئے کہ آپ کس قدر خوف ناک نظیر قائم کرنے کے درپے ہوگئے ہیں ایسی نظیر کہ لامحالہ جس کی آئین و قانون میں قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے!

معزز قارئین! وزیر موصوف اپنے تئیں سکہ بند کاروباری شخصیت ہیں، لہٰذا یہ بھی جانتے ہوں گے کہ چھوٹے بڑے سرکاری اداروں میں مجوزہ ترقیاتی منصوبوں، رُوٹین کے ٹھیکوں اور مالیاتی امور پر مبنی معاہدوں وغیرہ کی پیشگی VETTING اور ’’پری آڈٹنگ‘‘ کا محکمہ موجود ہوتا ہے، جس کے ذمے من و عن وہی کام ہوتا، جس کی رضا کارانہ پیش کش وزیر موصوف، نیب کو کر آئے ہیں۔

قارئین کرام!اگرچہ وزیر موصوف کا خوشگوار فطری چلبلا پن ٹی وی سکرینوں سے بھی پھوٹ پھوٹ پڑتا ہے، لیکن اس میں بھی قطعاً شبہ نہیں کہ نیب کو کی گئی مذکورہ ’’زریں پیش کش‘‘ موصوف بعد میں میڈیا پر بھی کامل سنجیدگی اور فخر سے بار بار دہراتے رہے، لہٰذا اسے حکومتی امور میں موصوف کا اناڑی پن یا محض ایک مضحکہ خیزی قرار دے کر اس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا، علاوہ ازیں، یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ ’’آنیب، مجھے مار‘‘ جیسا غیر دانش مندانہ اقدام خالصتاً انفرادی و آزادانہ نوعیت کا ہے یا اُن کی قیادت کی سوچی سمجھی پالیسی کا شاخسانہ ونیز یہ کہ کیا کابینہ کے دیگر ارکان کو بھی وزیر موصوف کے نقشِ قدم پر چلنے کا حکم دیا جائے گا؟ قارئین! یہ سوالات وخدشات اس لئے سر اٹھاتے ہیں کہ سیاسی مخالفین کے حوالے سے حکمران جماعت کی قیادت کے ذہن میں پایا جانے والا عناد اور بغض کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، جو حکمرانوں کو اپنے حریفوں کے خلاف کچھ بھی کرگزرنے پر اُکسا سکتا ہے۔

دیکھا جائے تو ویسے بھی حکمران جماعت اور نیب کے مبینہ گٹھ جوڑ کی باتیں زبان زد عام ہیں! تعجب یہ بھی ہے کہ حزب اختلاف اور دیگر اصحابِ پارلیمان وزیر موصوف کی فتنہ انگیزی کو زیر بحث لائے نہ میڈیا کے جغادری اینکروں، تبصرہ نگاروں یا تجزیہ کاروں نے اس پر کوئی توجہ دی۔ چلئے اس لحاظ سے یہ اچھا ہی ہوا کہ فتنہ پروان نہ چڑھ پایا۔

قارئین کرام! اب کچھ الفاظ نیب کے حوالے سے! دنیا دیکھ رہی ہے کہ کچھ عرصے سے وطنِ عزیز میں نیب ’’سُپر متحرک‘‘ ہے، جارحانہ اور بظاہر انتہائی جانبدارانہ پکڑ ڈھکڑ عروج پر ہے، جس کا نشانہ فی الوقت صرف حزب اختلاف کی دو سب سے بڑی سیاسی جماعتیں، بالخصوص ان کی صفِ اول کی ساری قیادت ہے۔

دوسری طرف ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ حکمران قیادت کے ایما پر وزرا، مشیران اور دیگر لیڈران الیکٹرانک میڈیا پر نہ صرف یہ کہ خم ٹھونک کر نیب کی حمایت و نمائندگی کرتے،بلکہ اس ادارے کو اپنے سیاسی حریفوں کے خلاف ہلہ شیری دینے کی ایک مسلسل مہم برپا کرتے نظر آتے ہیں۔ اس کے برعکس جہاں تک نیب کی پھرتیوں اور آنیوں جانیوں کا تعلق ہے، نہیں بھولنا چاہئے کہ ناقص کارکردگی پر نیب کو سپریم کورٹ کی طرف سے آئے روز کڑے سوالات اور تحفظات کا سامنا رہتا ہے۔

علاوہ ازیں، اختیارات سے تجاوز اور تفتیشی بے اعتدالیوں پر بھی عدالت عظمیٰ کی طرف سے نیب کی بارہا سرزنش ہوچکی ہے، جس میں جرمانہ بھی شامل ہے۔

یہی نہیں غیر شفافیت اور زیر حراست تحویل ہم وطنوں پر مبینہ جابرانہ ہتھکنڈوں کے استعمال کے حوالے سے عوام الناس کی اکثریت کی نظر میں بھی نیب کا کردار کافی حد تک متنازعہ ہو چکا ہے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی اور سنجیدہ حلقوں کی جانب سے اس پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔آخر میں وزیر موصوف سے اس ناچیز کی عرض یہ ہے کہ نیب کسی دعوت کی محتاج نہیں، جب چاہے بن بلائے بھی آدھمکتی ہے۔ دوم یہ کہ آپ کی معصومانہ پیش کش پر نیب نے آپ کے ’’وزارت گھر‘‘ میں واقعی مستقل ڈیرے جمادیئے تو پھر خوف و ہراس کے مارے آپ کے افسران کی کارکردگی کا اللہ ہی حافظ!لہٰذا کسی قسم کی غیر ضروری مہم جوئی سے اجتناب ہی فرمائیں تو بہتر ہے۔

اپنی اور اپنی وزارت کی داڑھی کسی تیسرے فریق کے ہاتھ میں دینے کی بجائے وزارت کے محکموں میں پہلے سے موجود چیک اینڈ بیلنس کے نظام پر بھروسہ کیجئے، اسی پر توجہ دیجئے اور اس کے کل پُرزے درست کرکے اُسے قابل اعتماد اور پائیدار بنائیے، اسی میں قوم کی بھلائی ہوگی۔

دوسری جانب جہاں تک مذکورہ فائل کی نیب حکام کو رضا کارانہ حوالگی کا تعلق ہے، لگتا ہے وزیر موصوف سے صریحاً چوک ہوگئی ہے، اللہ انہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ خدانہ کرے کہ ادارۂ مذکورہ، فائل میں سے کوئی باریک نکتہ ڈھونڈ نکالے اور خدانخواستہ صیاد خود اپنے دام میں آجائے۔ معزز قارئین! چلتے چلتے اسی ضمن میں ذرا سے تفنن کی اجازت دیجئے۔

وہ یہ کہ گئے وقتوں میں لاہور کے گنجان آباد علاقوں میں محلہ جاتی سماجی برائیوں اور کم درجے کے جرائم مثلاً چوری چکاری، جوا، نشہ بازی و غل غپاڑے اور دادا گیری وغیرہ میں ملوث عناصر پر گرفت کے لئے متعلقہ تھانوں کے اہل کار نصف شب کے بعد ٹولیوں کی صورت میں گلیوں بازاروں، چوک چوراہوں میں گشت کیا کرتے تھے، یہ روزانہ کا معمول تھا۔

اُن کے بارے میں مشہور تھا کہ رات کے عالم میں اگر کوئی اکیلا دکیلا راہ گیر یا شہر کے کلچر سے انجان مسافر گشت پارٹی سے مرعوب ہو کر انہیں سلام کر بیٹھتا تو اُسی کو دھر لیتے کہ ہونہ ہو یہ ضرور کوئی چور اُچّکا ہے۔

اس کی وجہ پولیس والوں کی ’’خود آگاہی‘‘ اور یہ یقین کامل تھا کہ کوئی شریف آدمی تو غلطی سے بھی انہیں سلام نہیں کرے گا! سمجھو کہ راہ گیر غریب کی شامت آجاتی کہ ’’کون ایں؟کِتھّوں آیا ایں؟ کِتھّے جاریا ایں؟مُنھ سونگھا! تلاشی دے! ایہہ اینے پیسے کِتھّوں آئے نیں تیرے کول؟ وغیرہ وغیرہ۔

شکار جب تک پوری طرح مطمئن نہ کر دیتا اُس کی جان نہ چھوٹتی! بہ ایں ہمہ، اب وزیر موصوف بھی نیب کو ’’صاحب سلام‘‘ کر بیٹھے ہیں، اللہ خیر کرے! البتہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ موصوف بھول پن میں ایسا کر بیٹھے ہیں یا پھر پاک بازی کے زعم میں، محرک اس کا کچھ بھی ہو، منھ سونگھائی اور جامہ تلاشی تواب بہرحال بنتی ہے!

مزید : رائے /کالم