کیا عمران خان ایک آمر حکمران ہیں؟

کیا عمران خان ایک آمر حکمران ہیں؟
کیا عمران خان ایک آمر حکمران ہیں؟

  



پیپلزپارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ اگرچہ اب اپوزیشن لیڈر نہیں،مگر اب بھی وہ بطور اپوزیشن لیڈر ہی اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں، وہ حکومت پر تنقید کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور تنقید میں بھی انہیں وزیراعظم عمران خان پر تنقید بہت پسند ہے۔ حال ہی میں انہوں نے عمران خان پر تنقید کا ایک نیا نشتر آزمایا ہے۔ایسا نشتر جس پر ہنسی بھی آئی ہے اور رونا بھی۔

ہنسی اِس لئے کہ بات کا کوئی سر پیر نظر نہیں آتا اور رونا اِس لئے کہ سیاسی مخالفت میں جمہوری حکمران کو بھی جمہوری تسلیم نہیں کیا جا رہا۔شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ عمران خان اور ایک آمر میں کوئی فرق نہیں۔

کمال ہے انہیں اپنے سامنے مکمل ہونے والے جمہوری پراسس پر بھی اعتبار نہیں، خود اُن کی موجودگی میں وزیراعظم کا انتخاب ہوا اور حلف برداری ہوئی،پھر بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پہلے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کو مبارک باد دی اور تعاون کا یقین بھی دِلایا۔ بات بڑھتے بڑھتے کہاں پہنچ رہی ہے۔ پہلے عمران خان کو سلیکٹ وزیراعظم کہا گیا، اب انہیں ایک آمر وزیراعظم کہا جا رہا ہے۔

آمریت نے تو اپنا بوریا بستر باندھ لیا ہے،مگر لگتا ہے ہمارے سیاست دان اُسے جانے نہیں دینا چاہتے، اُسے یاد بھی کرتے ہیں اور جمہوری حکمران میں بھی اُس کی شبہیہ تلاش کر لیتے ہیں۔

خورشید شاہ کے بیان کو پڑھ کر مَیں نے بہت کوشش کی کہ عمران خان میں آمروں والی صفات تلاش کروں۔آخر ایک سینئر سیاست دان نے اُن پر الزام لگایا ہے تو اس کی کچھ وجوہات بھی ہوں گی، لیکن باوجود پوری کوشش کے مجھے تو ایسی کوئی وجہ نظر نہیں آئی،جس کی بنیاد پر مَیں خورشید شاہ کے اس موقف کی تائید کر سکوں کہ عمران خان اور ایک آمر میں کوئی فرق نہیں۔ میرے نزدیک تو عمران خان پہلے وزیراعظم ہیں،جنہوں نے اب تک کابینہ کے سب سے زیادہ اجلاس منعقد کئے ہیں، تمام فیصلے کابینہ کی منظوری اور مشاورت سے کر رہے ہیں، اپنے کئی فیصلے انہوں نے کابینہ کے مشورے پر تبدیل بھی کئے ہیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس تواتر سے ہو رہے ہیں۔

شہباز شریف کی گرفتاری کے باعث اپوزیشن اجلاس کی ریکوزیشن اُس کے اختتام پر بھیج دیتی ہے اور اجلاس پھر بلانا پڑتا ہے۔ قومی اسمبلی میں حکومت پر مزید تنقید ہوتی ہے۔

اُدھر سینیٹ کا حال یہ ہے کہ حکومتی وزیر فواد چودھری کو ایک سیشن میں شرکت سے روک دیا گیا اور وزیراعظم کی کوششیں بھی انہیں اجلاس میں نہ بھیج سکیں۔اب یہ کیسی آمریت ہے، جس میں حکومت بعض معاملات میں بے بس نظر آتی ہے۔

آمریت تو ہم سب نے اس مُلک میں دیکھی ہے ، جب ایک فردِ واحد کے اشارے پر بل بھی منظور ہو جاتے تھے اور مخالفین کو سبق بھی سکھا دیئے جاتے تھے۔اب تو ایسا کچھ نہیں ہو رہا،بلکہ اُلٹا اپوزیشن حکومت کو خوفزدہ کئے ہوئے ہے کہ اُسے کسی وقت بھی گرایا جا سکتا ہے۔اس کے باوجود اگر خورشید شاہ عمران خان پر ایک ڈکٹیٹر کی چھاپ لگا رہے ہیں تو ضرور کوئی خفیہ وجوہات ہیں۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ وزیراعظم عمران خان ایک ہی نکتے پر اڑے ہوئے ہیں کہ کسی لٹیرے کو نہیں چھوڑیں گے۔ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ کسی کو این آر او بھی نہیں ملے گا، شاید اسی بے لچک رویئے کی وجہ سے انہیں آمر کہا جا رہا ہے،مگر خورشید شاہ یہ بھول رہے ہیں کہ آمروں نے تو ہمیشہ لچک دکھائی ہے، این آر او بھی آمر کے دور میں ہوئے ہیں، منتخب احتساب بھی آمروں نے کیا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ آمروں کے ادوار سیاست دانوں کو جتنے راس آئے ہیں،جمہوری ادوار نہیں آئے۔

بظاہر سخت گیر نظر آنے والا ملٹری ڈکٹیٹر اپنا اقتدار بچانے یا اُسے طول دینے کے لئے سیاست دانوں کی جھولیاں بھرتا رہا۔ عمران خان اسمبلی میں سادہ اکثریت بھی حاصل نہ ہونے کے باوجود ایسا نہیں کر رہے اور مسلسل یہ بیانیہ اپنائے ہوئے ہیں کہ اقتدار بچانے کے لئے کرپٹ مافیا سے کوئی ڈیل نہیں ہو گی۔اب اسے آپ ایک سخت موقف کہہ سکتے ہیں، مگر یہ آمرانہ موقف ہر گز نہیں۔ویسے بھی ایک آزاد عدلیہ کی موجودگی میں کوئی منتخب حکمران آمرانہ رویہ کیسے اپنا سکتا ہے؟

یہاں تو یہ حال ہے کہ تین ماہ سے بھی کم عرصے میں سپریم کورٹ نے کئی مرتبہ وزیراعظم کے کئی فیصلوں کو اُٹھا کر ردی کی ٹوکری میں ڈالا ہے،وزیراعظم کا افسروں کی تبدیلی کے لئے حکم دینے کا اختیار تک تسلیم نہیں کیا گیا۔آئی جی اسلام آباد کے تبادلے پر تو وزیراعظم ہاؤس کو خاصی شرمندگی برداشت کرنا پڑی۔اصل قصد یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان احتساب روکنے کے لئے اپوزیشن کے دباؤ کو خاطر میں نہیں لا رہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کا معاملہ علیحدہ علیحدہ ہے۔

شریف فیملی کو تو نیب نے پریشان کر رکھا ہے، لیکن آصف علی زرداری، فریال تالپور کے خلاف منی لانڈرنگ کی تفتیش ایف آئی اے کر رہی ہے، جو براہِ راست وزیراعظم کے ماتحت ہے، کیونکہ وزارتِ داخلہ کا قلمدان بھی اُن کے پاس ہے۔

وزیراعظم نیب کے معاملات میں تو مداخلت نہیں کر سکتے۔البتہ ایف آئی اے کو کوئی بھی حکم جاری کر سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی خواہش یہ ہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں تفتیش روک کر آصف علی زرداری و فریال تالپور کو کلین چٹ دے دی جائے۔

ایسا سوچتے ہوئے اکابرین پیپلزپارٹی یہ بھول جاتے ہیں کہ منی لانڈرنگ کا معاملہ سپریم کورٹ کی زیر نگرانی چل رہا ہے،جس پر ایک جے آئی ٹی بھی بن چکی ہے۔ اب یہ صرف ایف آئی اے کا مسئلہ نہیں رہا۔وزیراعظم عمران خان بالفرض اگر چاہیں بھی تو اس عمل کو نہیں روک سکتے، اس نے ہر حال میں اپنے منطقی انجام کو پہنچنا ہے۔

یہ ہماری سیاسی تاریخ کی بہت پرانی روایت ہے کہ جب حکومت کے خلاف کہنے کو کچھ نہیں ہوتا تو اُسے آمرانہ،عوام دشمن، مُلک دشمن،بلکہ جمہوریت وآئین دشمن بھی قرار دے دیا جاتا ہے۔اس بار تو انتخابی نتائج کے بعد معاملہ اس سے بھی آگے بڑھ گیا تھا اور بننے والی حکومت دھاندلی کی پیداوار اور غیر آئینی قرار پائی تھی۔ پیپلزپارٹی نے اس موقع پر ایک مثبت طرزِ عمل اختیار کیا تھا اور اسمبلیوں کے بائیکاٹ کی مخالفت کر کے اس جمہوری تجربے کو چلنے دینے کے حق میں وزن ڈالا تھا، مگر تھوڑے دِنوں بعد اُس نے اپنا موقف تبدیل کر لیا۔

آصف علی زرداری خم ٹھونک کر سامنے آ گئے اور حکومت کے خلاف قرارداد لانے کی تجویز پیش کر دی۔آج کل بلاول بھٹو زرداری صبح و شام عمران خان کو کٹھ پتلی قرار دینے کی گردان کئے ہوئے ہیں۔ حیرت ہے کہ ایک طرف بلاول کی نظر میں عمران خان کٹھ پتلی وزیراعظم ہیں اور دوسری طرف خورشید شاہ انہیں آمر وزیراعظم کہتے ہیں۔

ایک کٹھ پتلی وزیراعظم آمر کیسے ہو سکتا ہے؟آمر بننے کے لئے تو طاقتور بننا ضروری ہے۔ ہمارا الیکٹرانک میڈیا بھی صرف سیاست دانوں کی باتیں سُن کر آگے نشر کر دیتا ہے، کسی نے تو خورشید شاہ سے یہ پوچھا ہوتا کہ آپ اگر عمران خان کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ اُن میں اور آمر میں کوئی فرق نہیں تو کس بنیاد پر کہتے ہیں؟کچھ وضاحت تو کریں تاکہ عوام کو بھی معلوم ہو سکے کہ اُن کا منتخب وزیراعظم کیوں مارشلائی اوصاف اپنا رہا ہے۔اگر تو معاملہ صرف اتنا ہے کہ وزیراعظم احتساب سے ہاتھ کھینچنے کو تیار نہیں اور اداروں کو اپنا کام کرنے دے رہے ہیں تو اسے آمریت نہیں، عین جمہوریت قرار دیا جانا چاہئے۔

کیا پاکستان میں آمریت کوئی اجنبی شے ہے؟جس مُلک میں تین بار مارشل لا لگ چکا ہو، اُس کے عوام کو آمریت اور جمہوریت کا فرق معلوم نہیں ہو گا۔ضیاء الحق کے زمانے میں تو پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے سب سے زیادہ کوڑے کھائے،قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ کیا عمران خان نے وہ صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔پیپلز پارٹی کے کسی رہنما یا کارکن پر صرف اِس لئے مقدمات بنے ہوں کہ وہ بھٹو ازم کا پیرو کار ہے یا جمہوری آزادیوں کی بات کرتا ہے، تو پھر یہ کہنا بنتا ہے کہ مُلک میں آمریت آ گئی ہے۔

اگر کرپشن کے الزام میں تفتیش ہو رہی ہے، مُلک کی سب سے بڑی عدالت اُس کی نگرانی کر رہی ہے۔ پارٹی کے چیئرمین اور کو چیئرمین کے بارے میں اگر کرپشن کے حوالے سے ریاستی ادارے تفتیش کریں تو منتخب وزیراعظم پر آمرانہ طرزِ حکمرانی کی پھبتی کسنا منطق سے لگا نہیں کھاتا۔ بہتر یہی ہے کہ اب اہلِ سیاست مارشل لا، آمریت اور آمرانہ اقدامات کا ذکرکرنا چھوڑ دیں، یہ سب قصۂ پارینہ بن چکے ہیں اور موجودہ پاکستان میں اِن کی دور دور تک کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔

مزید : رائے /کالم


loading...