پاکستان جیسی نظریاتی ریاست کوصرف نظریاتی سیاست بچاسکتی ہے،اسد کھوکھر

پاکستان جیسی نظریاتی ریاست کوصرف نظریاتی سیاست بچاسکتی ہے،اسد کھوکھر

  



لاہور(جنرل رپورٹر) تحریک انصاف کے ممتازرہنماء اورنامزدامیدوارپنجاب اسمبلی پی پی168 ملک اسدعلی کھوکھرنے کہا ہے کہ پاکستان جیسی نظریاتی ریاست کوصرف نظریاتی سیاست بچاسکتی ہے۔ پاکستان اور اس کے غیور عوام'' مالیاتی اورمفاداتی'' سیاست کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ووٹ کی قیمت لگانیوالے کامیابی کے بعد ووٹر کی عزت نہیں کرتے۔ پی ٹی آئی نظریاتی سیاست سے مالیاتی سیاست کوشکست د ے گی ۔سرمایہ دارانہ سیاست نے ملک وقوم کومسائل کے سواکچھ نہیں دیا،ان دیرنہ اورپیچیدہ مسائل سے نجات کیلئے ذمہ دارانہ سیاست کرناہوگی ۔

پاکستان کی انتخابی سیاست میں مخصوص پارٹیوں کاناجائزپیسہ قومی ضمیر کافیصلہ ہرگز تبدیل نہیں کرسکتا۔ پاکستان تحریک انصاف کے معرض وجودمیں آنے سے پاکستان میں فلاحی نظام کے دوام اوراستحکام کاراستہ ہموار ہوا۔ مختلف شخصیات کو خدمت خلق اوروفاق کی مضبوطی کیلئے کام کرنے کا جذبہ پی ٹی آئی میں لے آیا۔ تحریک انصاف کی باکردارقیادت کاہدف اقتدارنہیں بلکہ عام آدمی کااعتماد ہے ۔ وہ انتخابی مہم کے دوران مختلف آبادیوں میں بڑے عوامی اجتماعات سے خطاب کررہے تھے ،اس دوران مختلف برادریوں کے سربراہان اور سیاسی پارٹیوں کے سرگرم کارکنان نے ان کی حمایت کااعلان کیا۔ملک اسدعلی کھوکھرنے مزید کہا کہ جس نے خدمت کی سیاست کرتے ہوئے عوام کااحساس محرومی دور کردیاوہ ان کا محبوب اورنجات دہندہ بن جائے گا۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین سے وفاقی وصوبائی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ سے کارکنان تک ہرکسی نے عام آدمی کی محرومیاں دورکرنے کاپختہ عزم کیاہوا ہے،شہری 13دسمبر کے روزبلے کے نشان پراپنے اعتماد کی مہرثبت کرتے ہوئے ہمارے وزیراعظم عمران خان کے قومی مشن کی کامیابی کیلئے اپناکلیدی کرداراداکریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے قیام کاواحدمقصد پاکستان کے نظریاتی اسلامی تشخص کی حفاظت اورعام آدمی کی بحالی وخوشحالی ہے۔معاشرے کے محروم طبقات کوقومی وسائل میں سے ان کاجائزشیئر دیناہوگا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے جنرل اورضمنی الیکشن میں ان امیدواروں کونامزد کیا جواچھی شہرت کے حامل ہیں اورانہیں خدمت خلق کاشوق ہے۔اسلامیت ،پاکستانیت اورانسانیت ہماری سیاست کامحور ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے باشعورعوام 13دسمبر کے بلے کی چوٹ سے سرکس کے شیر کوڈھیرکردیں۔

ف

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...