کوٹ ادو ‘ بھوک ‘ سردی کی شدت سے 4سالہ بچی چل بسی ‘ محنت کش کی امداد کیلئے اپیل

کوٹ ادو ‘ بھوک ‘ سردی کی شدت سے 4سالہ بچی چل بسی ‘ محنت کش کی امداد کیلئے اپیل

  



کوٹ دو(تحصیل رپورٹر) خوراک کی کمی اور سردی کی شدت کے باعث چھت سے محروم حوا کی 4سالہ بیٹی بغیر علاج کے شدید (بقیہ 25نمبرصفحہ7پر )

بخار کی حالت میں چل بسی،متاثرین کا امداد اور گھر دینے کا مطالبہ،اس بارے تفصیل کے مطابق تونسہ بیراج مغربی کنارے پر واقع بستی اللہ والی کا رہائشی غریب محنت کش خلیل احمد چانڈیہ مشہور واٹو کی4 سال کی معصوم سی بچی سارا دن شدید بخار بھوک سردی برداشت نہ کرتے ہوئے اللہ کو پیاری ہو گئی ہے،اس بارے خلیل احمد چانڈیہ نے اپنی بیوی کے ہمراہ صحافیوں کو بتایا کہ ان کے پاس 2 مرلے کے گھر کی جگہ ہے جسے این جی او کی طرف سے 2010 کے فلڈ ریلیف میں ایک کمرہ بنوا دیا تھا جس کی حالت بہت خستہ ہو چکی ہے دروازہ کھڑکیاں ٹوٹ گئی ہیں چار پائی اور گرم بسترے نہ ہو نے کے برابر ہیں ،خلیل احمد نے بتایا کہ وہ علاقے میں مزدوری کرتا ہے اور اس کی بیوی مقامی زمینداروں کی کپاس چنائی کیلیے محلے کی عورتوں کے ساتھ جاتی ہے 100 سے زیادہ کپاس چنائی کی اجرت نہیں ملتی اور وہ خود 300 تک مشکل سے کماتا ہے وہ بھی کبھی مزدوری ملتی ہے کبھی نہیں ،خلیل احمد واٹو نے کہا کہ اس کے 9 بچے ہیں ایک بیوی ہے بچوں میں سے ایک 7 سال کا لڑکا ایک سال قبل تونسہ بیراج روڈ کے کنارے پر لکڑیاں اکٹھی کرتے ایک امیر کی گاڑی تلے آکر فوت ہو گیا تھا اورگزشتہ روز وہ اور اس کی بیوی محنت مزدوری کے بعد گھر واپس آئے تو انکی 4 سال کی معصوم سی بچی سارا دن شدید بخار بھوک سردی برداشت نہ کرتے ہوئے اللہ کو پیاری ہوچکی تھی،خلیل احمد نے بتایا کہ میری بد قسمت فیملی کے اب 8 ممبرز ہیں، ان کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرف سے 4700 روپے ہر تین ماہ بعد ملتے تھے اب یہ دوسری قسط کا وقت گزر گیا، قسط نہیں مل رہی اور یہاں کے بڑے بڑے امیر لوگوں اور مولویوں جو مسجدوں اور مدرسوں کیلیے لاکھوں روپے جمع کرلیتے ہیں معصوم بچوں کا بھوکا پیاسا اور بغیر چھت کپڑے بسترے کے اپنی جان دے دینا حکومت انتظامیہ مخیر حضرات کیلیے لمحہ فکریہ ہے اور مقامی منتخب نمائندے اور اعلی حکام اور انتظامیہ سے درخواست ہے اس جیسی تمام غریب فیملیوں کو امداد گھر اور خوراک مہیا کی جائے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...