گورنر پنجاب کااسلامیہ یونیورسٹی کے خزانہ دار کی خلاف ضابطہ تقرری ، کرپشن کانوٹس

گورنر پنجاب کااسلامیہ یونیورسٹی کے خزانہ دار کی خلاف ضابطہ تقرری ، کرپشن ...

  



بہاولپور(ڈسٹرکٹ رپورٹر)گورنر پنجاب نے اسلامیہ یونیورسٹی کے خزانہ دار فخر بشیر کی خلاف ضابطہ تقرری اور مالی کرپشن کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن پنجاب کوقانونی کارروائی کا حکم دیدیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی کے خزانہ دار فخر بشیر کی بطور خزانہ دار تقرری مسلم لیگ (بقیہ نمبر27صفحہ12پر )

(ن) کے دور حکومت میں اختیارات و قانون سے تجاوز اور اقرباء پروری کرتے ہوئے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کیلئے ڈیپوٹیشن پر(خزانہ دار) کی گئی۔ذرائع کے مطابق ہائیر ایجوکیشن پاکستان کی جانب سے ملک بھر کی جامعات کو ایک نوٹیفکیشن PDO-QA/HEC/2007/87 اور اسلامیہ یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط کے مطابق خزانہ دار کی تعیناتی کیلئے تعلیمی قابلیت پیشہ ورانہ ڈگری چارٹرڈ اکاونٹنٹ ،ایم بی اے فنانس اور پانچ سے دس سال تک کا تجربہ مقرر ہے جبکہ فخر بشیر کا فنانس کی تعلیم سے کوئی تعلق نہیں اوربلکہ ان کی تعلیمی قابلیت بی ایس( کمپیوٹرسائنس) ہے اور وہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور یونیورسٹی قواعد کے تحت یونیورسٹی میں خزانہ دار کی پوسٹ پر تعیناتی کیلئے تعلیم اور تجربہ کی بنیاد پر کسی طرح پورا نہیں اترتے ۔ذرائع کے مطابقفخر بشیر کا شمار وائس چانسلر ڈاکٹر قیصر مشتاق کے دست راست افسران میں ہوتا ہے اور اپنی تعیناتی کے دوران فخر بشیر نے بطور خزانہ دار چارج سنبھالنے کے بعد مبینہ طور پر لوٹ مار کے کئی حربے ایجاد کیے اور3 سال کے دوران تنخواہ کے علاوہ تقریباً 55 لاکھ روپے اوور ٹائم،سفری اخراجات کی مد میں سات لاکھ روپے سے زائد،تنخواہوں کی مد میں 24لاکھ روپے وصول کیے جبکہ چار دیواری کرپشن ،سرچ لائٹ اور دیگر تعمیراتی منصوبوں میں بھاری کمیشن کے عوض زائد ریٹوں پر ٹھیکوں کی الاٹمنٹ اورمن پسند کمپنیوں کو کروڑوں روپے کی ایڈونس ادائیگیوں کی مد میں کروڑوں روپے کمیشن وصول کرنے کا بھی الزام شامل ہے۔ ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ خزانہ دار فخر بشیر نے اپنے بھائی عدنان بشیر کو جعلی تجربہ کی سرٹیفکیٹ پر اسسٹنٹ رجسٹرار کروا رکھا ہے ۔ذرائع کے مطابق عدنان بشیر نے جس ادارے میں کام کرنے کے تجربہ کا سرٹیفکیٹ دیا مذکورہ ادارے نے اسے بوگس اور جعلی قرار دیتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ کوملازمت سے بر طرف کرکے قانونی کارروائی کرنے کیلئے لیٹر بھی بھجوایا ہے لیکن تاحال وائس چانسلر ڈاکٹر قیصر مشاق نے کسی قسم کی کوئی قانونی کارروائی نہیں کی بلکہ عدنان بشیر کو اہم عہدے کا چارج دے رکھا ہے ۔ذرائع کے مطابق خزانہ دار فخر بشیر تین سالہ ڈیپوٹیشن ختم ہونے پرمزیدتوسیع کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے میں مصروف ہیں۔درخواست میں خزانہ دار فخر بشرے کو فوری طور پر یونیورسٹی خزانہ دارکے عہدہ سے برطرف کرکے غیرجانبدار انکوائری کروائے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق گورنر پنجاب/چانسلر چوہدری محمد سرور نے نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن پنجاب کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا حکم دیدیا ہے۔ادھر خزانہ دار فخر بشیر کی تنخواہوں سے زیادہ اوور ٹائم ،سفری اخرجات او ر میڈیکل کی مد میں لاکھوں روپے وصول کرنے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا اور ارباب اختیار سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

خزانہ دار

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...