یورپین ممالک کابداخلاقی سے متعلق قوانین کے خاتمے کا مطالبہ

یورپین ممالک کابداخلاقی سے متعلق قوانین کے خاتمے کا مطالبہ

  



لندن(این این آئی ) انسانی حقوق کیلئے کام کرنیوالے گروہوں نے (بقیہ نمبر20صفحہ12پر )

کہاہے کہ یورپی ممالک کو ان فرسودہ قوانین کو ختم کردینا چاہیے، جو بداخلاقی کے مجرموں کو بری الذمہ اور متاثر ہ افراد کو مجرم قرار دیتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق خواتین کیخلاف تشدد کے عالمی دن کے موقع پر شائع کی گئی رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے کیے گئے سروے میں بتایا گیا کہ 31 ممالک میں سے صرف 8 بداخلاقی کو رضامندی کے بغیر جنسی تعلق قرار دیتے ہیں۔ریپ سے متعلق دیگر ممالک میں طاقت یا اسلحہ کے زور پر بداخلاقی اور دفاع نہ کرنے پر متاثرہ فرد کے کردار سے متعلق وضاحت طلب کی جاتی ہے۔مذکورہ تحقیق کی مرکزی محقق اینا بلس کا کہنا تھا کہ بارہا کیے گئے سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکثر افراد اب بھی مانتے ہیں کہ اگر متاثرہ فرد نشے میں ہے، نامناسب لباس میں ہے یا اپنا دفاع نہیں کرپایا تو یہ بداخلاقی نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بغیر رضامندی کے جنسی تعلق بداخلاقی ہے، اگر حکومتیں صرف اس جملے کی بنیاد پر قانون بنالیں تو بداخلاقی کے مجرمان اپنے جرائم سے دور رہیں گے۔مذکورہ سروے یورپی یونین کے 28 ممالک، آئس لینڈ،ناروے اور سوئٹزر لینڈ میں کیا گیا تھا۔یورپین یونین ایجنسی فار فنڈامینٹل رائٹس کی تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ ہر 20 خواتین میں سے ایک بداخلاقی کا شکار ہے ۔

ؓبداخلاقی کا قانونف

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...