جرگہ کاوشوں سے دیرینہ دشمنی دوستی میں بدل گئی

جرگہ کاوشوں سے دیرینہ دشمنی دوستی میں بدل گئی

  



پشاور (سٹی رپورٹر)پشاور کے مضافاتی علاقہ متنی ادیزئی میں جرگے اورپولیس کی کوششوں سے قیام پاکستان سے قبل چھ خاندانوں کے مابین شروع ہونے والی دشمنی دوستی میں بدل گئی ۔ ادیزئی میں 1943 ء میں بختمل ، گل اکبر ، سلیمان ، اکبر خان ، مقبلی خان اور نیازگل کے مابین جائیداد کا تنازعہ پیدا ہوا جس میں سات بھائیوں سمیت گیارہ افراد قتل ہوئے تھے جبکہ تمام فریقین دشمنی کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑ کر خیبر کی تحصیل جمرود ، درہ آدم خیل ، رنگ روڈ پشاور ، مریم زئی بڈھ بیر ، اور ادیزئی کو منتقل ہوئے تھے تاہم ان خاندانوں کے مابین تنازعے کو ختم کرانے کے سلسلے میں قاری یاسین اور اختر نوازکی سربراہی میں ممبران شوکت خان ادیزئی ، حشمت اللہ ، اصراف گل ، نذرشاہ ، پائندہ خان ، عبدالکلام، قاری ساجد، گل نواز اورملک وزیر اکبر و دیگر پر مشتمل جرگہ نے سولہ سال قبل کوششیں شروع کر دیں جس میں ڈی ایس پی احسان اور تھانہ متنی کے ایس ایچ او عبدالعلی نے بھی کردار دیا اوربالاآخر کامیاب ہوئے ۔تمام خاندانوں کو اکھٹا کر نے کے سلسلے میں گزشتہ روز ادیزئی میں بڑاجرگہ منعقد ہوا جس میں مذکورہ خاندانوں نے جرگے کے سامنے دشمنی ختم کرانے اور آپس میں بھائیوں کی طرح رہنے کا فیصلہ کیا ۔جرگہ اراکین نے دستاویزات پر تمام فریقین سے حلف لیا اورانہیں بتایاکہ پرانے تنازعے کو ختم کرے اور آئندہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے جس سے جانی یا مالی نقصان ہو سکے جس پر تمام فریقین رضامندی کا اظہار کیا ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...