جندول سرکاری اراجی پر کئی سالوں سے تعمیرات کا سلسلہ جاری

جندول سرکاری اراجی پر کئی سالوں سے تعمیرات کا سلسلہ جاری

  



جندول(نمائندہ پاکستان)جندول تحصیل ثمرباغ میں انتظامیہ کے ملی بھگت سے سرکاری اجارہ کے آراضیات پر کئی سالوں سے تعمیرات کاموں کا سلسلہ جاری ، تعمیراتی کاموں میں مقامی وصوبائی سطح پر بڑے بڑے لوگوں کے ملوث ہونے کا انکشاف ، تعمیراتی کام روکھنے کیلئے درخواست پر نوٹس نہیں لیا جاتا ۔ میڈیاں سے گفتگو کرتے ہوئے عزیز اللہ خان ،حنیف الرحمن ،فرید اللہ و دیگر کا کہنا تھا کہ گاوں صدبرکلی میں سال2010میں ہزاروں کنال سرکاری آراضی حکومت نے مقامی درجنوں کاشتکاروں کو کنال و مرلہ جات کے حساب سے دس سالہ اجارہ پر دی ہے ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ آراضیات پر آبادی اور زمین کی شکل و شباحت تبدیل کرنے پر مکمل پابندی کے باوجود انتظامیہ کے ملی بھگت سے بڑے بڑے مارکیٹوں ،دکانات اور گھروں کی تعمیر زور وشور کیساتھ دن دھاڑے جاری ہے ۔ مقامی ذرائع کے مطابق انتظامیہ کے افسران تعمیراتی کام کے بدلہ میں گھنٹوں کے حساب سے لوگوں سے پیسے لیتے ہیں ۔مقامی لوگوں کے مطابق مذکورہ سرکاری آراضیات سے مقامی انتظامیہ ہی نہیں بلکہ صوبائی سطح پر سیاسی و سرکاری افسران کی چاندنی ہو گئی ہے اس لئے اعلیٰ سطح پر شکایات کے باوجود اس سلسلہ میں کسی قسم کی انکوائری نہیں ہوتی ۔مقامی لوگوں کے مطابق مذکورہ آراضیات زاہراہ پر واقع ہونے کی وجہ سے سپاہی سے لیکر بڑے بڑے افسران کا گذر اس روڈ پر ہوتا ہے مگر کوئی کاروائی نہیں کرتا اور ان آراضیات پر سپریم کورٹ میں کیس بھی زیر سماعت ہے اس کے باوجود تعمیرات جاری ہونے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ افسران اس معاملہ میں برابر کے شریک ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق اگر انتظامیہ پر اوپر سے دباوں آجائے تو افسران سرکاری زمینوں پر تعمیرات کرنے والے لوگوں کی بجائے سابق سٹیٹ ملازمین کو تنگ کرنا اور ان کی آبادیاں گرانااور ان پر مقدمات درج کرکے ان سے بھی رشوت لیناشروع کر دیتے ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق سرکاری آراضیات پرتعمیراتی کاموں کا یہ سلسلہ جاری رہا تو حکومت کو سرکاری تعمیر ات کیلئے جگہ ڈھونڈنے پر نہیں ملے گی۔اگر اس معاملہ میں عدلیہ اور نیب ہاتھ ڈالیں تو بڑے بڑے چہرے بے نقاب ہو سکتے ہیں ۔مقامی لوگوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لیکر انتظامیہ کے افسران کے خلاف انکوائری تشکیل دینے اور مقامی لوگوں کی مدد سے سچائی سامنے لا کر سخت کاروائی کا مطالبہ کیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...