بھارتی شہر کا نام ممبئی کیسے پڑا؟

بھارتی شہر کا نام ممبئی کیسے پڑا؟

  



ممبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) ممبئی بھارت کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے جس کی آبادی ایک لاکھ نفوس سے زائد ہے۔ یہ بھارتی فلم انڈسٹری کا گڑھ ہے۔ اس شہر کا یہ نام کیسے پڑا، اس کے پیچھے انتہائی دلچسپ تاریخ ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق 1534ء میں جب مغل سلطنت ہندوستان میں پھل پھول رہی تھی اور مغل بادشاہ ہمایوں کی طاقت روز بروز بڑھتی جا رہی تھی، جس پر گجرات کا سلطان بہادر شاہ متفکر ہوا، چنانچہ اس نے ہمایوں کے حملے کے خوف سے پرتگالیوں کے ساتھ ایک معاہدہ کر لیا جسے ’معاہدۂ باسین‘ کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت 23دسمبر 1534ء کو ممبئی سمیت 7جزیرے پرتگالیوں کے قبضے میں چلے گئے۔ یہ جزیرہ چونکہ تجارت کا مرکز تھا اس لیے پرتگالیوں نے اسے ’بوم باہیا‘ (Bom Bahia)کا نام دیا، جس کے معنی ’اچھی بندرگاہ‘ کے ہیں۔ یہیں سے آگے اس جگہ کا نام ممبئی پڑ گیا۔ کچھ عشرے بعد انگریزوں نے جب اپنے قدم یہاں جمانے شروع کیے تو ان کی کوشش تھی کہ کسی طرح ممبئی پر قبضہ کیا جائے کیونکہ اس شہر کی تجارتی و حربی اہمیت سے واقف تھے۔ اسی شہر پر قبضے کی وجہ سے پرتگالی مغربی بھارت کی تجارت پر چھائے ہوئے تھے۔ 1612ء میں انگریزوں اور پرتگالیوں میں جنگ ہوئی جسے جنگِ سوالے (Battle of Swally)کہا جاتا ہے۔ یہ جنگ انگریزوں نے جیت لی۔ تاہم ممبئی پھر بھی ان کے قبضے میں نہیں آیا۔ انہوں نے یہ شہر خریدنے کی بھی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ 11مئی 1661ء کو پرتگالی شہنشاہ جان چہارم (John IV)نے اپنی بیٹی شہزادی کیتھرین کی شادی انگلینڈ کے چارلس دوئم کے ساتھ کی اور ممبئی سمیت ساتوں جزیرے بیٹی کو جہیز میں دے دئیے۔ یوں اس شہر کی ذمہ داری کنگ شارلس کے پاس آ گئی اور برطانوی شاہی خاندان نے یہ ساتوں جزیرے ایسٹ انڈیا کمپنی کو 10پاؤنڈ سالانہ کرائے پر دے دیئے۔یوں ممبئی سمیت یہ ساتوں جزیرے برطانوی قبضے میں چلے گئے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...