آئی ایم ایف بائے بائے ؟ وزیراعظم کی وزارت خزانہ کو متبادل پلان بنانے کی ہدایت، غربت مٹانے کیلئے عالمی بینک سے قرضہ لینے کا فیصلہ

آئی ایم ایف بائے بائے ؟ وزیراعظم کی وزارت خزانہ کو متبادل پلان بنانے کی ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے اقتصادی مشاورتی کونسل کے اجلاس میں غربت مٹاؤ پروگرام کے تحت عالمی بینک سے 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالر قرض لینے کی منظوری دی گئی۔بنی گالہ میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اقتصادی مشاورتی کونسل کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزراء4 ، مشاورتی کونسل کے ممبران اور سینئر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں وزیراعظم کو ملک کی معاشی و اقتصادی صورتحال اور 100 روزہ پلان کے تحت اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں اکنامک ایڈوائزی کونسل کے بنائے گئے سب گروپس کی جانب سے رپورٹس پیش کی گئیں جب کہ حکام نے روزگار کی فراہمی، سوشل سیفٹی پروٹیکشن اور تجارتی توازن کے اہداف کی تکمیل کی سفارشات پر بریفنگ دیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اقتصادی مشاورتی کونسل کے اجلاس میں معاشی بہتری کے لیے وسط مدتی ڈھانچہ جاتی فریم ورک کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے سماجی تحفظ فریم ورک کی منظوری بھی دی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں تعلیم، صحت اور غربت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع فریم ورک کے ساتھ غربت مٹاؤ پروگرام کے تحت عالمی بینک سے 42 ملین ڈالر قرض لینے کی منظوری بھی دی گئی۔ذرائع کے مطابق اقتصادی مشاورتی کونسل کے اجلاس میں نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنیکی منظوری بھی دی گئی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبیکے لیے رقم پی ایس ڈی پی کے تحت جاری کی جائے گی۔اجلاس میں ملک کی اقتصادی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور جامع اقتصادی حکمت عملی پر بات چیت کی گئی، اجلاس میں 11 ماہرین معیشت بھی شریک ہوئے اور معاشی تجاویز بھی اجلاس میں زیر غور آئیں دریں ثنا وزیراعظم کی زیر صدارت اقتصادی مشاورتی کونسل کے اجلاس کی سامنے آنے والی اندرونی کہانی اندرونی کہانی کے مطابق نیا پاکستان ہاوسنگ منصوبے کے لیے 5ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی ۔اس موقع پر وزیر خزانہ اسد عمرنے آئی ایم ایف سے مذاکرات پر بریفنگ دی جس پر شرکا کی اکثریت نے آئی ایم ایف کی شرائط کی مخالفت کردی ۔ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط سخت ہیں ،آئی ایم ایف پروگرام لینے سے مسائل بڑھ سکتے ہیں ۔اس پر وزیراعظم عمران خان نے وزارت خزانہ کو آئی ایم ایف کا متبادل پلان ترتیب دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کا متبادل پلان ہونا چاہیے ،دونوں پلان سامنے رکھ کر حتمی فیصلہ کریں گے ۔اس موقع پر وزیر خزانہ نے بتا یا کہ آئی ایم یف نے کہا ہے کہ پاکستان جلد فیصلہ کرے ۔ان کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام کے لیے دوست ممالک کا تعاون اہم ہے ،ہمیں سخت اقتصادی فیصلے کرنا پڑیں گے ،معاشی استحکام یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات نا گزیر ہیں ۔ دریں ثنا وزیراعظم کی زیر صدارت اقتصادی مشاورتی کونسل کے اجلاس کی سامنے آنے والی اندرونی کہانی اندرونی کہانی کے مطابق نیا پاکستان ہاوسنگ منصوبے کے لیے 5ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی ۔اس موقع پر وزیر خزانہ اسد عمرنے آئی ایم ایف سے مذاکرات پر بریفنگ دی جس پر شرکا کی اکثریت نے آئی ایم ایف کی شرائط کی مخالفت کردی ۔ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط سخت ہیں ،آئی ایم ایف پروگرام لینے سے مسائل بڑھ سکتے ہیں ۔اس پر وزیراعظم عمران خان نے وزارت خزانہ کو آئی ایم ایف کا متبادل پلان ترتیب دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کا متبادل پلان ہونا چاہیے ،دونوں پلان سامنے رکھ کر حتمی فیصلہ کریں گے وزارت خزانہ دو ہفتوں میں پلان بی تیا کرے گی اور دو ہفتے بعد پھر اجلاس ہو گا ۔اس موقع پر وزیر خزانہ نے بتا یا کہ آئی ایم یف نے کہا ہے کہ پاکستان جلد فیصلہ کرے ۔ان کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام کے لیے دوست ممالک کا تعاون اہم ہے ،ہمیں سخت اقتصادی فیصلے کرنا پڑیں گے ،معاشی استحکام یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات نا گزیر ہیں ۔۔ وزیراعظم نے حالیہ بیرونی دوروں کے حوالے سے اراکین کو اعتماد میں لیا۔بعدازاں جاری ہونے والے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں ٹیکس ریفارمز،ایس ایم ایز، روزگار کے مواقع اور سوشل پروٹیکشن ترجیحات زیر غور آئیں جب کہ ہاوسنگ، زراعت،ایس ایم ایز میں مراعات کے حوالے سے مشاورت ہوئی اور کونسل ممبران کی جانب سے مختلف شعبوں میں فروغ کی تجاویز کو حتمی شکل دی گئی۔اعلامیہ کے مطابق وزیر اعظم نے ملک کی معیشت میں بہتری کے لیے مڈٹرم فریم ورک اورکمزور طبقے کے لیے سوشل پروٹیکشن فریم ورک کی بھی منظوری دی، سوشل پروٹیکشن فریم ورک میں غربت،صحت ،تعلیم سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے اقدامات شامل ہیں۔

اجلاس فیصلے

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک ،صباح نیوز) وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ شارٹ ٹرم بیلنس آف پیمنٹ کا ایشو ختم ہو گیا ہے، کچھ بندوبست ہوا ہے ہم آئی ایم ایف کے ساتھ فوری طور پر دستخط نہیں کر رہے ۔ ہم نے برآمدات ، ریمیٹینسز بڑھا کر اور درآمدات کو کنٹرول کر کے آئی ایم ایف سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہے۔ سعودی عرب سے ایک ارب ڈالرز آ چکے ہیں اور ایک ارب ڈالرز آئندہ ماہ اور ایک ارب ڈالرز جنوری میں آ ئیں گے۔ جبکہ متحدہ عرب امارات اور چین کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے اور فائنل نہیں ہوا ۔ کمٹمنٹ ہو چکی ہے اور اس کی تفصیلات طے کی جا رہی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مہنگائی سے غریب آدمی کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ ہم نے جو فیصلے کیے ہیں ان کے نتیجہ میں 20فیصدغریب ترین افراد کے لیے افراط زر کی شرح 3.98ہے جو امیر ترین افراد کے مقابلہ میں آدھی ہے۔ تین ، پانچ اور10سال میں بہتری کیسے ہوتی ہے جب تک اس بنیاد پر ہم ٖفیصلے نہیں کریں گے تو اس و قت تک ہم ملک کو صیح سمت میں نہیں لے کر جا سکتے۔اوگرا ایک آئینی ادارہ ہے اگر اس کی سفارش پر میں چلتا تو تیل کی قیمتیں آج 10سے 15روپے فی لیٹر زیادہ ہوتیں۔ غریب آدمی سوئی گیس کے نیٹ ورک پرہے ہی نہیں وہ ایل پی جی کا سلنڈر خریدتا ہے اور اس کی قیمت اس قیمت سے کم ہے جو ہماری حکومت آنے سے پہلے تھی۔ ان خیالات کا اظہار اسد عمر نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کے پہلے 13دن سابقہ حکومت کی مقرر کردہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں چلیں جبکہ دو ماہ تک ہماری حکومت میں ڈیزل کی قیمت ساڑھے چھ روپے کم تھی اور پیٹرول کی قیمت اڑاھائی روپے کم تھی جو قیمت ہمیں ورثہ میں ملی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 20دن قیمت زیادہ چلی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اوگرا ایک آئینی ادارہ ہے اگر اس کی سفارش پر میں چلتا تو تیل کی قیمتیں آج 10سے 15روپے فی لیٹر زیادہ ہوتیں۔ آج ڈیزل اور پیٹرول پر گزشتہ 10 سال کے مقابلہ میں کم ترین سطح پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کیا یہ حقیقت ہے کہ عوام کی زندگی مشکل ہے بالکل ہے یہی تو ہم پانچ سال سے رونا روتے تھے اور بتا رہے تھے کہ معیشت کدھر جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا سپلیمنٹری بجٹ میں اشرافیہ کے استعمال کی تمام چیزوں بڑی گاڑیوں، بڑے فون پر ٹیکس لگایا اور صاحب ثروت لوگوں کے ٹیس ریٹ بڑہائے اورعام آدمی کے استعمال کی کسی چیز پر ایک روپیہ ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ ان کہنا تھا کہ غریب آدمی سوئی گیس کے نیٹ ورک پرہے ہی نہیں وہ ایل پی جی کا سلنڈر خریدتا ہے اور اس کی قیمتاس قیمت سے کم ہے جو ہماری حکومت آنے سے پہلے تھی۔ ان کا کنا تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ مہنگائی سے غریب آدمی کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ مشکل ہے اس میں کوئی شک نہیں اور قیمتیں بڑھ رہی ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ ہم نے جو فیصلے کیے ہیں ان کے نتیجہ میں 20فیصدغریب ترین افراد کے لیے افراط زر کی شرح 3.98ہے جو امیر ترین افراد کے مقابلہ میں آدھی ہے۔ان کا کہنا تھا ہم نے 70 فیصد صارفین کے لیے بجلی کی قیمت نہیں بڑھائی۔ ان کا کہنا تھا غریب افراد کے لیے 100 روز میں بہت کام ہوا ہے اور اس کا اعلان وزیر اعظم عمران خان خود 29 نومبر کو کریں گے۔ ان کا کہنا تھا وزیر اعظم عام آدمی کے لیے بہت فکرمند ہیں اور ہم سے سب سے زیادہ سوال اسی حوالہ سے پوچھتے ہیں کہ غریب کے لیے ہم کیا کریں گے۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ غریب آدمی اپنے بچوں کا بہتر مستقبل دیکھنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں 2300 ارب روپے کے بجٹ خسارہ کو لے کر چل رہا ہوں، 1200 ارب روپے کے گزشتہ حکومت نے نوٹ چھاپے ان کو لے کر چل رہا ہوں ، میرے دو ارب ڈالرز کے زرمبادلہ کے ذخائر گر رہے ہیں اور اب میں نے مشکل فیصلے کرنے ہیں ۔ اوران مشکل فیصلوں کے اندر 70 فیصدپاکستانیوں کے لیے بجلی کی قیمت ایک روپیہ نہ بڑھنے دینا، غریب ترین افراد لے لیے ان حالات میں سلنڈر سستا کرنا اور میرے دو تہائی وقت میں جو گزرا ہے اس میں ماضی کی نسبت تیل کی قیمتیں کم ہونا یہ فوری امدا د والی باتیں ہیں۔ اس عمر کا کہنا تھا کہ ہم تین سال سے کہہ رہے تھے آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکیج ناگزیر ہے ۔ ہم نے کہا کہ ہم دوست ممالک کے پاس بھی جائیں گے اور آئی ایم ایف کے پاس بھی جائیں گے۔ اسد عمر کا کہنا تھا مجھے وزیر خزانہ بنے 10روز ہوئے تھے اور میں نے آئی ایم ایف کو فون کیا اور یہی بتایا کہ ہم یہ دونوں کا م ساتھ ساتھ کریں گے۔ اور اس کا ہم آج فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا شارٹرم بیلنس آف پیمنٹ کا ایشو ختم ہو گیا کچھ اعتماد ہے تو ہم آئی ایم ایف کے ساتھ فوریطور پر دستخط نہیں کر رہے کچھ بندوبست ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا سعودی عرب سے ایک ارب ڈالرز آ چکے ہیں اور ایک ارب ڈالرز آئندہ ماہ اور ایک ارب ڈالرز جنوری میں آ ئیں گے۔ جبکہ متحدہ عرب امارات اور چین کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے اور فائنل نہیں ہوا ۔ کمٹمنٹ ہو چکی ہے اور اس کی تفصیلات طے کی جا رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا جہ آئی ایم ایف سے تین سال کے دوان پانچ یا چھ ارب ڈالرز لیں گے ۔ان کا کہنا تھا آئی ایم ایف سے جو پیسے لینے ہیں وہ کیش کی ڈائریکٹ بات نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا آئی ایم ایف سے بین الاقوامی مارکیٹ میں اعتماد بلند ہوتا ہے اور ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور اس طرح کے دوسرے اداروں کی بھی کچھ فنڈنگ ایسی ہوتی ہے جو آئی ایم ایف پروگرام سے منسلک ہوتی ہے تو ہمارے لیے ایک آسانی پیدا ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا عمران خان کی ساکھ اور عزت کی وجہ سے دنیا میں ہمیں وہ مدد ملی ہے جوزیادہ تر لوگ کہتے تھے ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت کے پانچ سال ختم ہونے کے بعد آنے والی حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا ملائیشیا چھوٹا سا ملک ہے اور اس کی 217 ارب ڈالرز کی برآمدات ہیں جبکہ ہماری 25ارب ڈالرز کی برآمدات ہیں۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی برآمدات کو 50 ارب ڈالرز تک لے کر جاناہے۔ اس کے لیے ہم نے ایکسپورٹر کے لیے بجلی سستی کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے برآمدات بڑھا کر، ریمیٹینسز بڑھا کر اور درآمدات کو کنٹرول کر کے ہم نے آئی ایم ایف سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک جیتنے کے لیے بنا ہے اور جیتنے والی ٹیم کے کپتان عمران خان ہی ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا ہم نے زیادہ تر گھر غریب لوگوں کے لیے بنانے ہیں اور محل تو نہیں بننے۔ ان کا کہنا تھا ان گھروں کی کاگت کم ہو گی اور اس میں مقامی میٹیریل استعمال کیا جائے گا۔ کیا 50 لاکھ گھر پورے بن سکتے ہیں میں اس واقت اندازہ نہیں کر سکتا کہ گارنٹی سے بن جائیں گے ۔ کیا پاکستان میں غریب آدمی کو آئندہ پانچ سال میں اتنی رہائش ملے گی جتنی پاکستانی تاریخ میں قریب قریب نہیں ملی ہو گی انشااللہ ملے گی۔ ان کا کہنا تھا غریب اور کمزور طبقہ کی مدد کے لیے بڑے پروگراموں کا اعلان وزیر اعظم مہینوں نہیں دنوں میں اعلان کریں گے۔

مزید : صفحہ اول


loading...