یورپی یونین سے علیحدگی پر برطانیہ شدید سیاسی بحران کا شکار

یورپی یونین سے علیحدگی پر برطانیہ شدید سیاسی بحران کا شکار

  



مانچسٹر (م ن ،الر حمان) بریگزٹ کے معاملے پر برطانیہ شدید سیاسی بحران کا شکار ہوگیا۔ گزشتہ روز یورپی یونین کے ایک مختصر ترین اجلاس میں یورپی یونین کے ممبران ممالک نے برطانیہ کو ’’طلاق‘‘ دینے کی باضابطہ منظوری دے دی۔ اس طرح برطانیہ کی 44 سالہ رفاقت کو آرٹیکل 50 کے تحت ’’گڈبائے‘‘ کہہ دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق آپ آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے بل پارلیمنٹ میں 7 دسمبر کو پیش کیا جائے گا۔ بریگزٹ کے معاملے پر کنزرویٹو پارٹی ماضی میں شدید بحران کا شکار رہی ہے، جس میں سابق وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو قبل ازوقت حقیقی اور مڈٹرم انتخابات پر مجبور کرنا شامل ہیں۔ حکمران جماعت اور اپوزیشن پارٹیاں جس میں لیبر پارٹی سرفہرست ہے۔ واضح طور پر اس سنگین بحران پر منقسم نظر آتی ہے۔ حکمران جماعت کے وزیر داخلہ، وزیر دفاع، وزیر خارجہ کے علاوہ متعدد وزرأ کے وزیراعظم تھریسامے کی پالیسیوں سے اختلاف کرے ہوئے استعفی دے دیا۔ لیبر پارٹی کا موقف ہے کہ کنزرویٹو پارٹی کی موجودہ صورتحال میں بل پارلیمنٹ سے مسترد ہو جائے گا۔ لیبر پارٹی کے شیڈو منسٹر امیگریشن افضل خان نے کہا کہ کنزرویٹو پارٹی کے 80 ممبران باغی ہوچکے ہیں۔ کنزرویٹو پارٹی کی پارلیمان میں 330 ممبران جبکہ لیبر پارٹی کے 229 ممبران سکائش نیشنل پارٹی کے 54 ممبران ہیں۔ باغی ارکان اس معاملے پر کلیدی رول ادا کریں گے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ برطانیہ میں یورپین یونین کے 38 ملین افراد مقیم ہیں جبکہ برطانیہ کے 102 ملین افراد یورپی یونین میں مقیم ہیں، اسی طرح یورپ میں 2.2 ملین پاکستانی رہائش پذیر ہیں۔ برطانیہ میں 17 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں۔ گزشتہ برس دو لاکھ 85 ہزار یورپین شہری برطانیہ آئے اور 80 ہزار برطانیہ چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ برطانوی شہریت کے 1411302 افراد کو شہریت دی گئیں، جو گزشتہ برس کے معاملے میں آٹھ فیصد زائد رہی۔ برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کا سب سے زیادہ فائدہ بھارت جبکہ دوسرے نمبر پر پاکستان کو ہوگا، جہاں سے برطانیہ ملکی سطح پر پیدا ہونے والے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے ہنرمند افراد کو منگوانے پر مجبور ہوجائے گا۔ اس سے قبل 60ء کی دہائی میں پاکستان سے لاکھوں افراد کیلئے برطانیہ کے دروازے کھول دئیے گئے تھے۔ علاوہ ازیں برطانیہ میں قائم بڑے بینک برطانیہ کو چھوڑ کر یورپ چلے جائیں گے، تو دوسری طرف دنیا کے بڑے بڑے بینکوں کے ہیڈ کوارٹرز لندن میں ہیں۔ برطانیہ کی امپورٹ اور ایکسپورٹ میں نمایاں فرق ہونے کی وجہ سے برطانیہ کو شدید معاشی بحران کا شکار کرسکتی ہے۔ یورپی یونین میں شمولیت کی وجہ سے بے شمار فوائد سے برطانیہ محروم ہو جائے گا اور وہ بھارت، پاکستان سے درآمدات پر مجبور ہوجائے گا۔ یورپی یونین سے اخراج کا برطانیہ کو فائدہ کم اور نقصان ناقابل تلافی ہوگا۔ موجودہ بحرانی صورتحال میں سیاسی پنڈتوں کا موقف ہے کہ برطانیہ نئے انتخابات کی طرف گامزن ہے کہ حکمران جماعت کی مشکلات میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔ برطانوی عوام کو بریگزٹ کے معاملے پر مبینہ طور پر دھوکہ میں رکھا گیا کہ یورپی یونین کے عوام ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں، اس سلسلے پر دوبارہ ریفرنڈم ہوا تو عوام اب اس کے حق میں فیصلہ دے سکتی ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...