سشما سوراج لوک سبھاکے کے اگلے انتخابات سے پہلے سیاست کو الوداع کہہ دیں گی

سشما سوراج لوک سبھاکے کے اگلے انتخابات سے پہلے سیاست کو الوداع کہہ دیں گی
سشما سوراج لوک سبھاکے کے اگلے انتخابات سے پہلے سیاست کو الوداع کہہ دیں گی

  



تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

پاکستان میں اس خبر پر بہت سے حاشیئے تو چڑھائے جا رہے ہیں کہ شاہ محمود قریشی کی دعوت پر بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کرتارپور راہداری کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت کے لئے خود کیوں نہیں آرہیں اور اپنی جگہ دو وزیروں کو کیوں بھیج رہی ہیں، لیکن ہمارے ان حاشیہ آراؤں تک یہ خبر شاید نہیں پہنچی کہ سشما سوراج بہت جلد سیاست سے دستبردار ہو جائیں گی اور اگلے برس ہونے والے لوک سبھا کے انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاست بہت ہوچکی، اب وہ آخری مرتبہ لوک سبھا کی رکن ہیں اور اگلے الیکشن ان کے حلقے میں کوئی اور امیدوار ہوگا۔ ویسے ان دنوں وہ تلنگانہ کے ریاستی انتخابات کی مہم چلا رہی ہیں اور یہ مہم چھوڑ کر انہوں نے آنا شاید پسند نہیں کیا۔ بی جے پی کی سیاست میں سشما سوراج کا ایک اہم مقام ہے۔ واجپائی کی حکومت میں وہ وزیر اطلاعات تھیں اور جب پاکستان کے اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف مذاکرات کی خاطر آگرہ گئے تھے تو واجپائی کی حکومت تھی، یہ وہی واجپائی تھے جو نواز شریف کی دوسری وزارت عظمیٰ کے دور میں لاہور آئے تو ان کے خلاف مظاہرے منظم کرائے گئے تھے۔ جماعت اسلامی ان میں پیش پیش تھی اور جب وہ ضیافت میں شرکت کے لئے شاہی قلعہ جا رہے تھے تو جماعت اسلامی کے پرجوش حامی ’’واپس جاؤ‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ تاہم واجپائی نے ضیافت میں جو باتیں کہیں وہ کسی بھارتی وزیراعظم کی زبان سے پہلی مرتبہ سنی گئیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ جب میں بس پر سوار ہوکر لاہور آرہا تھا تو میرے ساتھیوں نے مجھے کہا کہ وہ مینار پاکستان پر مت جائیں، کیونکہ یہ پرشکوہ مینار اس مقام پر کھڑا ہے جہاں مطالبۂ پاکستان کے حق میں پہلی باضابطہ قرارداد منظور ہوئی تھی جو پہلے قرارداد لاہور اور بعد میں قرارداد پاکستان کہلائی، واجپائی نے اپنے خطاب میں مزید بتایا کہ ان کے ساتھیوں کا موقف تھا کہ اگر آپ مینار پاکستان پر جائیں گے تو آپ پاکستان کے وجود پر مہر تصدیق ثبت کر دیں گے۔ واجپائی کہنے لگے کہ میں نے اپنے ساتھیوں کے روبرو یہ موقف اختیار کیا کہ پاکستان آزاد اور خود مختار ملک ہے اور وہ میری مہر کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اپنی ہی مہر کے زور پر چل رہا ہے۔ یہیں قلعہ لاہور میں شاعر واجپائی نے اپنی ایک نظم سنائی جس کا پیغام یہ تھا کہ ہم جنگ نہ ہونے دیں گے۔ انہوں نے یہ حقیقت بھی بیان کی جو ہے تو معروضی لیکن اس کا اظہار بہت کم کیا جاتا ہے، ان کا کہنا تھا دوست تبدیل کئے جاسکتے ہیں، ہمسائے نہیں۔ مقام استعجاب ہے کہ جب واجپائی لاہور کے قلعے میں یہ باتیں کر رہے تھے تو باہر ’’واپس جاؤ‘‘ کے نعرے لگ رہے تھے، حالانکہ جو باتیں انہوں نے کہیں وہ کسی ایسے جذباتی ردعمل کی متقاضی نہ تھیں، گہرے غور و فکر کی دعوت دے رہی تھیں۔ واپس تو خیر واجپائی نے چلے ہی جانا تھا، سو وہ چلے گئے، لیکن جو آدمی اپنے قدموں پر چل کر دوستی یا کم از کم اچھی ہمسائیگی کی بات کرنے کا ایک موقع اپنے ساتھ لے کر آیا تھا، اس کی بات تو ہم نے نہ سنی، لیکن بعد میں اسی کے ساتھ مذاکرات کے لئے ترلے کرتے رہے، کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جب وہ خود مذاکرات کے لئے آیا، ہم نے اس کے خلاف مظاہرہ کیا اور پھر اپنی سفارتی صلاحیتیں اس امر پر مرکوز رکھیں کہ کسی طرح اس کے ساتھ مذاکرات ہی ہو جائیں اور آگرہ مذاکرات ایسی ہی کوششوں کا حاصل یا ثمر تھے، لیکن بالآخر ان کا بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا۔

جنرل پرویز مشرف آگرہ مذاکرات کے لئے گئے تو نہ جانے کس امید پر اخباری نمائندوں کی ایک فوج بھی بھارت پہنچ گئی۔ غالباً یہ خیال ہوگا کہ اگر بھارتی میڈیا ہمارے صدر کو گھیرنے کی کوشش کرے تو اسے پاکستانی صحافی جواب دینے کے لئے موجود ہوں، لیکن دو دن تک کیمروں کی چکاچوند تو دیکھنے والی تھی اور میڈیا کے سامنے پرویز مشرف بظاہر بڑے کامیاب جا رہے تھے اور دن میں چار چار مرتبہ لباس بدل بدل کر کیمروں کے سامنے آرہے تھے، لیکن ان مذاکرات سے حاصل کچھ نہ ہوا۔ سشما سوراج اس وقت وزیر اطلاعات تھیں اور پاکستان کے ایک جذباتی اخبار نویس نے ان سے ایک سوال پوچھا جس کا انہیں جواب نہ ملا تو انہوں نے باقاعدہ وزیر کی کلائی تھام کر کہا کہ وہ جواب دے کر جائیں۔ یہی سشما سوراج تھیں جنہوں نے بعد میں مذاکرات کے اختتام پر کسی قسم کا اعلان جاری نہ ہونے دیا۔ ہوا یوں کہ اعلان آگرہ کے لئے ایک مسودہ تیار ہوا جو دونوں ملکوں میں تقسیم کر دیا گیا جس میں انہوں نے اپنی اپنی پوزیشن کے مطابق رد و بدل کرنا تھا، ایسا ہوا کہ جس مسودے کو پاکستانی سفارتی حکام نے منظور کیا اسے بھارت نے تبدیل کر دیا اور جو مسودہ بھارت نے بھیجا اس میں پاکستان نے رد و بدل کر دیا۔ آخری بار جب مسودہ بھارتی حکام کے پاس گیا تو واپس نہیں آیا اس دوران جنرل پرویز مشرف واپس آنے کی تیاری کرکے ایئر پورٹ پہنچ گئے تھے اور منتظر تھے کہ آخری مسودہ آجائے تو وہ دیکھ لیں لیکن اس نے نہ آنا تھا نہ آیا۔ طویل انتظار کے بعد وہ آدھی رات کے وقت واپس آگئے اور اگلے دن اسلام آباد میں اپنے مذاکرات کی کہانی کا کچھ حصہ بیان کیا۔ کہا جاتا ہے کہ بھارتی عقابوں نے کوئی اعلان نہ ہونے دیا، اعلان ہو بھی جاتا تو کون سا انقلاب آجانا تھا، کیونکہ یہ مذاکرات بھی محض نمائشی تھے اور ان کی نمائش ٹی وی سکرینوں پر ضرورت سے زیادہ ہوگئی تھی۔ واجپائی کی حکومت ختم ہوئی تو دس سال کے لئے کانگریس برسراقتدار آگئی۔ 2014ء میں بی جے پی کو دوبارہ حکومت میں آنے کا موقع ملا جس کے سربراہ اب نریندر مودی ہیں اور سشما سوراج ان کی وزیر خارجہ، وہ اس حیثیت میں پاکستان کا دورہ کرچکی ہیں، اب وہ اس لئے نہیں آئیں کہ اگلے برس آنے والی حکومت اور اس کے متوقع وزیر خارجہ ان کے کسی وعدے کے پابند ہوکر نہ رہ جائیں اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کے لئے اگر کوئی مذاکرات کرنے ہیں تو وہ نئی حکومت اور نیا وزیر خارجہ کرے، وہ چونکہ سیاست کو خیرباد کہہ رہی ہیں، اس لئے پاکستان نہیں آئیں جبکہ پاکستان میں جو اظہار خیال ہو رہا ہے، اس میں دور دور کی کوڑیاں تو بہت ہیں، یہ خبر کہیں نہیں کہ وہ پاکستان کیوں نہیں آئیں۔

مزید : تجزیہ


loading...