بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کیلئے شیو سینا کا ایودھیا میں اجتماع، پولیس سمیت دیگر فورسز کی 48کمپنیاں تعینات ،مذہبی مقامات کو متنازعہ کیا جا رہا :بھارتی اقلیتی کمیشن

بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کیلئے شیو سینا کا ایودھیا میں اجتماع، ...

  



ایودھیا ،لکھنو(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی) ایودھیا میں مندر بنانے کیلئے پھر ایک بڑا ہجوم جمع ہوگیاہے،ملک بھر میں جگہ جگہ مندر کیلئے مذہبی رسومات کی ادائیگی جا ری، شہر میں جگہ جگہ پولیس، نیم فوجی دستے اور فساد شکن فورسز تعینات کی گئی ہیں ۔تفصیلات کے مطابق انڈیا کا معروف شہر ایودھیا ایک بار پھر زبردست سکیورٹی کے حصار میں ہے۔ مہاراشٹر کی اہم سیاسی پارٹی شیو سینا کے سربراہ اودھو ٹھاکرے گزشتہ روزپہلی بارایودھیا آئے ہیں۔ادھو ٹھاکرے کے جلسے میں ’’جے شری رام‘‘،’’مندر وہیں بنائیں گے‘‘،’’ہر ہندو کی یہی پکار، پہلے مندر پھر سرکار‘‘جیسے نعرے بار بار لگتے رہے۔ اس سے قبل بھی اس طرح کے نعرے وہاں کئی دنوں سے سنے جا رہے ہیں۔مہاراشٹر کے بہت سے علاقوں سے شیو سینا کے کارکن ٹرین بک کروا کر، بسوں، لاریوں اور موٹر سائیکل سے ایودھیا پہنچے ہیں۔ شوسینا کے کارکن انتہائی جارحانہ نظر آ رہے تھے اور جوشیلے نعرے لگا رہے تھے۔اپنے لیڈر ادھو ٹھاکرے کے ایک ایک بیان پر دیر تک نعرے لگا رہے تھے اور انھی نعروں کے زور پر ادھو ٹھاکرے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت کو مندر کی تعمیر کے معاملے پر کٹہرے میں کھڑا کر رہے تھے۔ایودھیا میں لکشمن گھاٹ پر شیو سینا کے رہنما ادھو ٹھاکرے نے رام مندر کی جلد از جلد تعمیر پر زور دیا۔ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ وہ 'کمبھکرن (رزمیہ مہابھارت کا ایک کردار) کی نیند میں سوئی ہوئی حکومت کو بیدار کرنے کے لیے ایودھیا آئے ہیں۔'ادھو ٹھاکرے نے عارضی رام مندر کا درشن (زیارت) کیا جس کے بعد انھوں نے حکومت سے ایک آرڈینینس جاری کرکے مندر کی تعمیر کی تاریخ کے تعین کی بات کہی۔آج یعنی اتوار کو وشو ہندو پریشد کی 'دھرم سبھا' (مذہبی اجلاس) کے پروگرام کے بارے میں انھوں نے کہا کہ کوئی بھی مندر کی تعمیر کرسکتا ہے اور شوسینا اس کی حمایت کرے گا۔شیوا سینا اور وی ایچ پی کے پروگراموں کو دیکھتے ہوئے، ایودھیا میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مقامی پولیس کے علاوہ، پی اے سی، آر ایف اے اور اے ڈی جی کی 48 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔متنازع مقام پر عارضی رام مندر کے گرد سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں۔ وی ایچ پی اور اس کی ہمنوا تنظیم کے کارکن پڑوسی اضلاع سے 'بھکت مال بگیا' میں جمع ہو رہے ہیں جہاں ان کی دھرم سبھا منعقد ہونے والی ہے۔ ہزاروں وہاں پہلے ہی پہنچ چکے ہیں۔دھرم سبھا میں شرکت کرنے والے مذہبی پیشواؤں کے لیے ایک بڑا سٹیج بنایا گیا ہے جہاں سے وہ لوگوں سے خطاب کریں گے۔ سٹیج کے بیک گراؤنڈ میں رام مندر تحریک کے سرکردہ لیڈر اشوک سنگھل، رام چندر پرمہنس اور دوسرے رہنماؤں کی تصاویر نمایاں طور پر لگائی گئی ہیں۔دوسری طرف بھارتی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین غیور الحسن رضوی نے کہاہے کہ بابری مسجد کا کیس اگر مسلمان جیت بھی گئے تو 100کروڑ ہند ومسجد بننے دینگے؟بھارتی ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہاکہ مذہبی مقامات کو متنازعہ بنایاجارہاہے ،مندر ، مسجدتنازع کے باعث مسلمان خوف و ہراس کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں لیکن وقف بورڈ اور مسلم پرسنل لا بورڈ اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔حسن رضوی نے اجودھیا کی تازہ صورتحال پر تبصرے سے انکار کردیا تاہم انہوں نے کہا کہ اقلیتی کمیشن کو شکایات موصول ہورہی ہیں کہ بعض مقامات پر مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے منع کیا جارہا ہے تو کہیں مذہبی مقامات کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین نے کہا کہ ایسے عالم میں مندر ، مسجد تنازع ختم کرنے کا راستہ یہی ہے کہ عدالت کے باہر بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے مندر تعمیر کرنے کی اجازت دیدی جائے۔ اس سے مسلمانوں کی عظمت برقرار رہے گی اور ساتھ ہی یہ بھی تجویز پیش کرسکتے ہیں کہ اجودھیا کے بعد آئندہ کبھی کسی دوسری مسجد کے مسئلے پر اس قسم کے تنازعات نہ کھڑے کئے جائیں۔اس سلسلے میں ملک کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد و ذمہ داروں نے ای میل کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس سلسلے میں 14دسمبر کو ایک اجلاس منعقد کی جائیگا۔

بابری مسجد کی جگہ مندر

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...