” شاہد مسعود کی جگہ کوئی لبڑل بھائی گرفتار ہوا ہوتا تو میڈیا سیل والے ابھی ۔۔۔ “ کامیڈین شفاعت علی کے ایک ٹویٹ نے ہنگامہ برپا کردیا

” شاہد مسعود کی جگہ کوئی لبڑل بھائی گرفتار ہوا ہوتا تو میڈیا سیل والے ابھی ...
” شاہد مسعود کی جگہ کوئی لبڑل بھائی گرفتار ہوا ہوتا تو میڈیا سیل والے ابھی ۔۔۔ “ کامیڈین شفاعت علی کے ایک ٹویٹ نے ہنگامہ برپا کردیا

  



کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود پی ٹی وی کرپشن کیس میں ایف آئی اے کی حراست میں ہیں ۔ ان کی گرفتاری پر تبصروں کا سلسلہ تو جاری ہے لیکن اس طرح شور نہیں اٹھا جس کی عام لوگ توقع کر رہے تھے۔ اسی چیز کی نشاندہی معروف کامیڈین شفاعت علی نے بھی کی ہے۔

شفاعت علی نے ایک ٹویٹ میں ڈاکٹر شاہد مسعود کی گرفتاری پر آواز نہ اٹھانے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور خود کو لبرل کہنے والوں کے دہرے معیار سے پردہ اٹھایا۔ شفاعت علی نے لکھا ” یہ شاہد مسعود کی جگہ کوئی لبڑل بھائی گرفتار ہوا ہوتا تو میڈیا سیل والے ابھی ٹویٹر پہ میڈیا سینسر شپ کا ماتم کر رہے ہوتے“۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود پی ٹی وی کرپشن کیس میں 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں ہیں۔ جس روز ان کا ریمانڈ دیا گیا اس روز انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ بسم اللہ ان سے ہوئی ہے اور اب صحافیوں کے خلاف کریک ڈاﺅن ہوگا جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔

کامیڈین شفاعت علی کی جانب سے کیے جانے والے ٹویٹ پر بھی لوگ طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہیں۔ پاک فوج کے خلاف پراپیگنڈے میں مصروف رہنے والے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ احمد وقاص گورایہ کو یہ ٹویٹ ذرا نہیں بھائی لیکن انہوں نے اپنے مزاج سے ہٹ کر بظاہر اس ٹویٹ پرسخت زبان میں تنقید کی بجائے دکھ کا اظہار کیا ۔ انہوں نے لکھا ” یہیں پر آ کر پتا چلتا ہے صحافت کا۔ اس کو نا صحافت کی وجہ سے گرفتار کیا گیا نا اس کی آواز کو بند کرنے کے لئے، نا سینسرشپ ہے، اب ایک صحافی جرم بھی کرے تو وقار کا مسئلہ بنا لیں؟اور یہ کیا لفظ ہے لبڑل؟ یوتھیا گئے ہیں ؟ یا آئی ایس پی آر کی بھرتی لے لی؟“۔

گورایہ کی جانب سے لفظ ’لبڑل‘ کے استعمال پر اعتراض اٹھائے جانے پر ’ لنڈے دا لبڑل ‘ نامی ٹوئٹر ہینڈل سے اس کا جواب دیا گیا۔ لنڈے دا لبڑل نے کہا ” یہ لبڑل اسی کتاب میں لکھا ہے جس میں لمبرون ، غفورا، کالیا وغیرہ جیسے لفظ لکھے ہیں“۔ خیال رہے کہ یہ وہ اصطلاحات ہیں جو پاک فوج اور عدلیہ کے نقادوں نے گھڑ رکھی ہیں۔

عمار احمد نے شفاعت علی سے کہا کہ آپ نے اپنے ٹوئٹر کیریئر میں پہلی بار منطقی بات کی ہے۔

ابراہیم یونس نے ڈاکٹر شاہد مسعود کی گرفتاری پر آواز نہ اٹھنے کی وجہ ان کا نواز شریف مخالف بیانیہ قرار دیا۔

صحافی مبارک علی نے کہا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کے کرتوت ہی ایسے ہیں کہ شریف صحافی ان کا ساتھ دینے کو تیار نہیں ہیں جس پر ایک ٹوئٹر صارف کی جانب سے نشاندہی کی گئی کہ شریف صحافی نہیں بلکہ شریف کے صحافی ساتھ نہیں دینا چاہتے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...