فلیگ شپ ریفرنس،ایسے شواہدنہیں دیکھے حسن نوازپرلندن میں کاروباری بے ضابطگی کاالزام ہو،تفتیشی افسر

فلیگ شپ ریفرنس،ایسے شواہدنہیں دیکھے حسن نوازپرلندن میں کاروباری بے ضابطگی ...
فلیگ شپ ریفرنس،ایسے شواہدنہیں دیکھے حسن نوازپرلندن میں کاروباری بے ضابطگی کاالزام ہو،تفتیشی افسر

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وزیراعظم نوازشریف کیخلاف فلیگ شپ ریفرنس میں تفتیشی افسر محمد کامران نے عدالت کو بتایا کہ ایسے شواہدنہیں دیکھے حسن نوازپرلندن میں کاروباری بے ضابطگی کاالزام ہو۔

تفصیلات کے مطابق نوازشریف کیخلاف احتساب عدالت میں فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت جاری ہے، احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں،نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث تفتیشی افسر محمد کامران پر جرح کر رہے ہیں،دوران سماعت تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ایسے شواہدنہیں دیکھے جس میں حسن نوازپرلندن میں کاروباری بے ضابطگی کاالزام ہو،محمد کامران بتایا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کےلئے میں نے درخواست نہیں دی تھی،نیب ہیڈ کوارٹرزکوخط لکھا تھا جے آئی ٹی رپورٹ فراہم کی جائے،تفتیشی افسرنے نیب ہیڈ کوارٹرزکولکھاگیاخط عدالت میں پیش کردیا،محمد کامران نے کہا کہ ایڈیشنل ڈائریکٹرنیب نے 17اگست 2017 کوتصدیق شدہ جے آئی ٹی رپورٹ دی،تصدیق شدہ کاپی سے پہلے غیرتصدیق شدہ کاپی بھی حاصل کررکھی تھی،جج نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ حاصل کرنے سے متعلق اتنے سوالات کی کیا اہمیت ہے؟خواجہ صاحب آپ بھی مانتے ہیں یہ سامنے جے آئی ٹی رپورٹ ہی رکھی ہے۔

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ لندن میں پراپرٹی نمبر 99،97 کی لینڈرجسٹری کی کاپی ظاہرشاہ سے لی تھی؟اس پر تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ ایم ایل اے کے جواب میں لینڈرجسٹری کی کاپی ظاہرشاہ سے لی تھی،خواجہ حارث نے کہا کہ آپ نے ظاہرشاہ سے جودستاویزات لیں اس پراپرٹی کاٹائٹل نمبرمختلف تھا،محمدکامران نے کہا کہ جی ہاں مختلف تھالیکن یہ دوالگ الگ پراپرٹیزہیں،خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیادونوں پراپرٹی مختلف ہیں؟اس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ جی یہ دونوں پراپرٹیزالگ الگ ہیں۔

خواجہ حارث نے سوال کیا کہ دستاویزات کیلئے درخواست میں کیاڈسکرپشن دی؟آپ کی درخواست میں درج ڈسکرپشن کے مطابق دستاویزات نہیں تھیں؟تفتیشی افسر نے کہناتھا کہ جی ہاں یہ درست ہے ڈسکرپشن کے مطابق دستاویزات نہیں ملیں،خواجہ حارث نے کہا کہ آپ کوجودستاویزات دی گئیں وہ پراپرٹیزمختلف ہیں،تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ مجھے اس بارے میں کچھ نہیں پتہ،

تفتیشی افسر محمد کامران نے بتایاکہ میں نے حسن نوازکی ایٹن پیلس لندن میں جائیدادکی تفصیل حاصل کی،ان کا کہناتھا کہ جائیداد کی تفصیل کیلئے برطانیہ کےلنڈررجسٹری ڈیپارٹمنٹ کودرخواست دی تھی،ایٹن پیلس 97 اور 99 دو مختلف جائیدادیں ہیں،محمد کامران نے بتایا کہ لینڈرجسٹری ڈیپارٹمنٹ کی معلومات میری تفصیلات سے مختلف تھیں۔

اس پر خواجہ نے سوال کیا کہ صرف تفصیلات مختلف تھیں یاجائیدادیں بھی؟تفتیشی افسر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک جائیدادکےساتھ لکھاگیاتھاکہ یہ فلیٹ ہے،باقی 2 کےساتھ ایساکچھ نہیں لکھاتھاکہ یہ فلیٹ ہے یاکچھ اور،کیونکہ میں نے خودوہ جگہ نہیں دیکھی،نہیں کہہ سکتاوہ فلیٹ ہیں یاکیاہے؟۔خواجہ حارث نے سوال کیا کہ آپ اتناخرچ کرکے لندن گئے،دیکھابھی نہیں کہ کیاتفصیلات لے رہے ہیں؟تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ صرف لینڈرجسٹری ڈیپارٹمنٹ کی فراہم تفصیلات پرہی بات کرسکتاہوں۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...