اپوزیشن اور  یو ٹرن

اپوزیشن اور  یو ٹرن
اپوزیشن اور  یو ٹرن

  



میں سوچ رہا  ہوں کہ  چلتے چلتے اگر اچانک احساس ہو جائے کہ جس راستے پر ہم  گامزن ہیں ،وہ منزل کی طرف لے جانے کے بجائے منزل سے دور لے جا رہا ہے تو ہر عقل و دانش رکھنے والا شخص فوری راستہ بدل لیتا ہے، ادراک کے بعد اسی راستے پر چلنا حماقت ہوتی ہے، اپوزیشن نے   وزیر اعظم  کی طرف سے   ایسے  فیصلہ کو ’’یوٹرن‘‘ کا نام دے کر طعن تشنیع کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اگر  یو ٹرن   اصلاح کا نام ہے اور وزیراعظم عمران خان اس حوالے سے  کہیں کہ   جو یو ٹرن نہ لے وہ عظیم لیڈر نہیں ’’  تو اس میں وزن ہے ۔ کیا کبھی ایسا ہوا کہ کوئی سپہ سالار فوج کی قیادت کرتے ایک  راہ پر بگٹٹ دوڑے چلا جا رہا ہے، کسی بھی ذریعے سے اسے معلوم ہوتا ہے کہ جس راہ کو اس نے اپنایا ہے وہ سیدھی سمندر یا کسی گہری کی طرف جا رہی ہے اور وہ احمقانہ جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی فوج کو اسی راستے پر چلنے کا حکم دے، ظاہر ہے اپنے فوجیوں کی جانیں بچانے کے لئے وہ راستہ تبدیل کرے گا، راستہ تبدیل کرنے کا یہ فیصلہ یو ٹرن نہیں بلکہ حکمت اور مصلحت پر مبنی ہو گا۔

اپوزیشن کی تنقید اپنی جگہ ، وزیراعظم نے اقتدار سنبھالتے ہی آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا کہا اور دعویٰ کیا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر ہے خود کشی  کر لی جائے، مگر دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں نے اپنے دور میں جو 43 ارب ڈالر کا قرض لیا اس کی واپسی کن ذرائع سے ہو گی، اربوں ڈالر کا قرض کہاں خرچ کیا گیا مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کو حساب مانگنے پر جمہوریت خطرے میں دکھائی دینے لگتی ہے اور مسلسل واویلا شروع کر دیا جاتا ہے ،  وزیر اطلاعات   فواد چودھری  اس پر ڈاکو کی اصطلاح استعمال کریں  تو  ہنگامہ آرائی  مگر کوئی یہ بتانے پر تیار نہیں کہ اربوں ڈالر کہاں گئے؟ کس نے لوٹے ۔ سابق ادوار میں حاصل کئے گئے قرضوں سے تحریک انصاف حکومت کا کوئی تعلق نہیں مگر چونکہ یہ سارے قرصے پاکستان کے نام پر حاصل کئے گئے لہٰذا ادائیگی کا بوجھ تحریک انصاف کی حکومت پر آ پڑا ہے ادائیگی تو بہرحال کرنا ہے، وزیراعظم سعودیہ، چین، یو اے ای اور ملایشیا  کے دورے کر چکے،  ان دوروں میں وہ ذاتی تحائف حاصل کرنے، ذاتی کاروبار پر توجہ دینے کے بجائے اپوزیشن جماعتوں کے دور میں حاصل کئے گئے قرضوں سے خلاصی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس اقدام کو یو ٹرن کہنا تاریخ کی سب سے بڑی ڈھٹائی ہے۔

  سابق حکومتوں نے  عمراں خان  کیلئے اتنے بکھیڑے چھوڑے ہیں جن کو درست سمت پر لانے کیلئے طویل عرصہ درکار ہے، 70 سالہ مسائل کو سات یا 70 دن میں ختم کرنا ممکن نہیں، تاہم وزیراعظم دن رات مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔اپوزیشن کو اعتراض ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے پر بھی ہے، وزیراعظم نے انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ ارکان اسمبلی کا کام صرف قانون سازی ہو گا ترقیاتی کام بلدیاتی نمائندے مکمل کرائیں گے مگر اس کا کیا کیا جائے کہ ن لیگ حکومت نے بلدیاتی الیکشن تو کرا دیئے مگر بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دیئے نہ دفاتر، فنڈز کا تو کیا سوال، موجودہ حکومت نیا بلدیاتی نظام متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے لئے مشاورت جاری ہے۔ اب ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ جب تک نئے بلدیاتی ادارے وجود میں نہ آئیں تب تک ترقیاتی منصوبے ٹھپ کر دیئے جائیں، لہٰذا ارکان اسمبلی کو فنڈز دینا ضروری تھا۔

یو ٹرن کا ایک طعنہ دھرنے والوں سے مذاکرات پر بھی دیا جاتا ہے مگر تین روزہ دھرنے کے شرکاء کا معذرت کے بعد گھروں کو چلے جانے کو یو ٹرن کہنے والے بھول جاتے ہیں کہ ان کے دور میں تحریک لبیک نے ہی اسلام آباد میں 20 روز دھرنا دیئے رکھا، توڑ پھوڑ کے علاوہ تشدد بھی ہوا، حکومت دھرنے والوں کے سامنے مکمل طور پر بے بس دکھائی دی آخر کار فوج کو مداخلت کر کے معاہدہ کرانا پڑا، عقل حیرت زدہ ہے کہ اس میں یو ٹرن کیا ہے؟ کیا دھرنے والوں کو کھلی چھٹی دے دی جاتی اور وفاقی دارالحکومت کا نظام درہم برہم کرنے کی اجازت دے دی جاتی تو یو ٹرن نہ ہوتا۔ اور اپوزیشن کی ملک میں افراتفری پھیلانے کی سازش کامیاب ہو جاتی۔ 

دُنیا کے ہر بڑے   لیڈر نے بڑے مقصد کے لئے یو ٹرن نہیں ’’ابائوٹ ٹرن‘‘ لئے، مگر ان کی قوم نے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا نہ طعن و طنز کے تیر برسائے، بلکہ قیادت کی دانشمندی کی تحسین کی اور ہونا بھی ایسا ہی چاہئے، نپولین بونا پارٹ کا ستارہ جب فتح مندی کے عروج پر تھا اس نے کئی اہم فیصلے 

راتوں رات تبدیل کئے، حالانکہ بعض فیصلے تبدیل کرنے پر اسے وقتی ہزیمت جانی مالی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا مگر اس کے ساتھیوں کے ماتھے پر بل نہ آیا کہ وقتی زبان کے بعد مستقبل قریب میں اس نے بڑی کامیابیاں بھی حاصل کیں۔

 ۔

یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارہ کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے ۔

مزید : بلاگ


loading...