اے پی این ایس کا ہنگامی اجلاس، حکومت کی نئی ایڈوارٹائزنگ پالیسی مسترد، صحافتی تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی بنا کر مشترکہ جدوجہد کی تجویز

اے پی این ایس کا ہنگامی اجلاس، حکومت کی نئی ایڈوارٹائزنگ پالیسی مسترد، ...
اے پی این ایس کا ہنگامی اجلاس، حکومت کی نئی ایڈوارٹائزنگ پالیسی مسترد، صحافتی تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی بنا کر مشترکہ جدوجہد کی تجویز

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی (اے پی این ایس) پنجاب کمیٹی نے حکومت کی مجوزہ ایڈورٹائزنگ پالیسی کو اخباری صنعت کیلئے زہر قاتل قرار دیتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور نئی پالیسی پر عملدرآمد رکوانے کیلئے اخباری تنظیموں کو مشترکہ جدوجہد کرنے کی تجویزدیدی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اے پی این ایس پنجاب کمیٹی کے چیئرمین ممتاز اے طاہر کی زیر صدارت آج ہنگامی اجلاس ہوا جس میں حکومت کی مجوزہ ایڈورٹائزنگ پالیسی پر تفصیلی غور و خوض کے بعد اسے اخباری صنعت کیلئے زہر قاتل قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ اجلاس نے تجویز کیاکہ نئی ایڈورٹائزنگ پالیسی پر عملدرآمد رکوانے کےلئے اخباری تنظیمیں مشترکہ جدوجہد کریں اور اے پی این ایس اور سی پی این ای اس مشترکہ نصب العین کےلئے بلاتاخیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی قائم کرے ۔یہ کمیٹی اخباری کارکنوں کی تنظیموں اورپریس کلبوں کے عہدیداروں سے بھی اشتراک عمل کرے ۔

اجلاس میں اس امرپر خاص طور پرگہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ نئی پالیسی میں ریجنل اخبارات کا25فیصد کوٹہ ختم کردینے سے سینکڑوں اخبارات مالی بحران کاشکار اور ہزاروں اخباری کارکن بےروزگار ہو کر سڑکوں پر آ جائیں گے۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے صوابدیدی اختیارات میں اضافہ اور کسی بھی اشتہاری مہم کو منظور یا مسترد کردینے کااختیار دینے کو نامناسب قرار دیا گیا اور کہا کہ اس پالیسی پر عملدرآ مد سے چھوٹے متوسط اور علاقائی اخبارات وجرائد کےلئے زندہ رہنا ممکن نہیں رہے گا۔

اجلاس کے شرکاءنے اخباری تنظیموں، کارکنوں اور متعلقہ اداروں سے وابستہ ارکان کی یکجہتی اورباہمی اشتراک عمل کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا اور اے پی این ایس قیادت سے اپیل کی کہ وہ پنجا ب کمیٹی کی آراءاور تجاویز کی روشنی میں بلاتاخیر عملی اقدام کرے۔ شرکاءنے اس بات پر بھی زور دیا کہ وزیر اعظم کے اعلان کے مطابق اخبارات کے بقایہ جات مزید کسی تاخیر کے بغیر ادا کئے جائیںاور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ تمام ایڈورٹائزنگ ایجنسیاں اخبارات کو بقایہ جات جلد ازجلد ادا کریں۔ شرکاءنے نیوز پرنٹ پر درآمد ڈیوٹی میں 5%کمی کے وزیر اعظم کے اعلان کاگزٹ نوٹیفکیشن جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

چیئرمین کمیٹی ممتازطاہر نے حکومت کی نئی ایڈورٹائزنگ پالیسی سے شرکاءکوآگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس پالیسی نے چھوٹے بڑے تمام اخبارات کےلئے بحران پیدا کر دیا ہے اور سینکڑوں صحافی کارکنوں کو فارغ کیا جا رہا ہے۔ خصوصی طور پر اس پالیسی کی زدمیں سب سے زیادہ ریجنل پریس آرہاہے جس کا 25% کوٹہ 3 میٹروسٹی کراچی، لاہوراور اسلام آباد کے سوا چاروں صوبوں کے جملہ اخبارات میں تقسیم ہوتا ہے جو اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے ۔25%کوٹہ ختم کرنے کامقصد اس کے علاوہ اور کیاہوسکتاہے کہ علاقائی اخبارات بند کردیئے جائیں۔ یہ حکومت اور پریس کولڑانے کی سازش ہے اوریقینااس میں کوئی حکومت مخالف قوت کارفرما نظر آرہی ہے ۔

اے پی این ایس کے سابق سینئر عہدیدار جمیل اطہر نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ حکومت سرکاری اشتہارات کو ڈی سنٹر الائز کرنے کے دعویٰ کے برعکس صرف پی آئی ڈی کو اشتہارات کے اجراءکے تمام اختیارات سونپ رہی ہے۔ ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کا رول بالکل ختم کردینا ناقابل قبول ہے۔ اس پالیسی سے اخباری صنعت جو پہلے ہی دم توڑ رہی ہے بری طرح مفلوج ہوکررہ جائے گی اور چھوٹے اخبار زندہ نہیںرہ سکیں گے جبکہ بیروزگاری کاطوفان ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیگا۔ انہوںنے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے بجٹ الگ الگ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

اے پی این ایس کے سابق سیکرٹری جنرل عمر شامی نے کہاکہ اے پی این ایس کو متبادل پالیسی کے خدوخال بھی تجویز کرنے چاہئیں۔ انہوں نے دیگر مقررین کے اس مو¿قف کی تائید کی کہ موجودہ پالیسی اخبارات کے قتل کا پروانہ ہے۔ انہوںنے وزیر اعظم پرزور دیا کہ میڈیا کو تباہ کرنے کی بجائے اس کے احیاءکےلئے مثبت اورتعمیری اقدام کئے جائیں۔

رحمت علی رازی نے کہا کہ حکومت اگر اشتہارات کی تقسیم کے نظام میں تبدیلیاں چاہتی ہے تو وہ اخباری تنظیموں سے مذاکرات کرے اور انہیں اعتماد میں لے ۔اخباری تنظیموں کو بھی اشتہارات کی تقسیم اور ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کی اصلاح کے لئے ٹھوس تجاویز حکومت کو دینا چاہئیں۔

مزید : قومی


loading...